بوسنیا کی چشم دید کہانی (33)


ان دنوں ہماری گفتگو کا موضوع زیادہ تر توسیع مشن کے سلسلے میں حکومت پاکستان کا انکار تھا۔ اقبال کا دعویٰ تھا کہ اس سلسلے میں جتنی بھی آراء ہیں وہ سب غلط ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس انکار کی وجہ وزارت داخلہ کے متعلقہ سیکشن افسر کا وہ نوٹ ہے جو اس نے اس کی مخالفت میں لکھا ہو گا۔ اقبال پولیس میں آنے سے قبل صوبائی سیکریٹریٹ میں سیکشن افسر رہا تھا۔ اس کے بقول سیکریٹریٹ میں کوئی بھی معاملہ جس کا فیصلہ بھلے اعلیٰ سطح پر کیوں نہ ہونا ہو اس کی فائل پر ابتدائی نوٹ سیکشن افسر ہی لکھتا ہے۔ اب اگر معاملے کے حق میں نوٹ لکھا جائے تو سیکشن افسر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کی موافقت میں ٹھوس دلائل دے۔ لہٰذا ہر سیکشن افسر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس جھنجھٹ میں پڑنے کے بجائے موضوع زیر بحث کی مخالفت کو ترجیح دی جائے۔ یہ رجحان بعض اوقات لطائف کو بھی جنم دیتا ہے۔

ایک دفعہ حکومت سرحد نے ایک سال کے لیے نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی۔ اسی دوران وزارت صنعت کی طرف سے وزارت خزانہ کو ایک خط موصول ہوا کہ نومبر میں گنے کی فصل تیار ہوتی ہے تو فیکٹریوں میں عارضی مزدور بھرتی کیے جاتے ہیں جنہیں اس موسم کے اختتام پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اب ہر طرح کی بھرتی پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے لیکن ہمارے معاملے میں اس پابندی کو ختم کیا جائے تا کہ گنا بیلنے کا کام بروقت مکمل ہو سکے۔

جب یہ چٹھی وزارت خزانہ کے سیکشن افسر امیر حسین شاہ کے پاس پہنچی تو انھوں نے حسب روایت اس کی مخالفت کی اور یہ سوچے بغیر کہ گنا بیلنے کا ایک خاص وقت ہوتا ہے، اپنے نوٹ میں لکھا۔ چونکہ بھرتی پر پابندی اٹھائے جانے کا امکان اگلے بجٹ تک نہیں ہے لہٰذا بہتر ہے کہ گنا نومبر کی بجائے اگلے سال جولائی میں بیلا جائے۔ اس تجویز کے ساتھ محکمہ خزانہ کے ہر بالا افسر نے اتفاق کیا اور یوں متعلقہ وزارت کو جوابی چٹھی ارسال کر دی گئی۔

اس مبنی بہ قصہ دلیل کے بعد اقبال کے دعوے کو جھٹلانا آسان نہ تھا جب کہ میرا دل اگرچہ ابھی بھی مطمئن نہیں تھا۔ میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ ایوان حکومت کے سب سے بڑے ستون میں ملک کے مفاد سے وابستہ فیصلے کچھ اس شان بے نیازی سے بھی ہو سکتے ہیں۔ میں اس بے یقینی کی کیفیت کے باوجود اقبال سے اختلاف کی جرات نہ کر سکا کہ کہیں وہ بھی لالہ ایوب کی طرح غصے میں آ کر یہ نہ کہہ دے۔

Am I a story teller of Qissa Khawani?

سٹولک میں سو مسلمان خاندانوں کی واپسی کے لیے جن گھروں کی تعمیر نو ہو رہی تھی انتہا پسند کروایٹ تنظیم استاشا (Ustasa) کی طرف سے اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی تھیں۔ ہر مہینے رات کی تاریکی میں کسی نہ کسی تیار شدہ گھر کو آگ لگا دی جاتی تھی۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور مجرموں کی نشان دہی و گرفتاری مقامی پولیس کا فریضہ تھی۔ ادھر مقامی پولیس بھی مسلمانوں کی سٹولک واپسی کے پروگرام کو ایک سازش سمجھتی تھی۔

لہٰذا اس سے فرض شناسی کی توقع عبث تھی۔ اس طرح کے ہر واقعے کے بعد مسلمان تعمیر نو کا کام احتجاجاً بند کر دیتے تھے۔ اس رد عمل کے ساتھ ہی یو این کے اعلیٰ عہدے دار متحرک ہو جاتے۔ سٹولک اور موسطار میں UNHCR کی مدد سے کروایٹ اور مسلمانوں کے اجلاس ترتیب دیے جاتے اور یوں تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی۔ ان اجلاسوں میں مسلمان وفد کی قیادت سٹولک کے سابق مئیر احمد دیذدار کرتے تھے۔ ان کی طرف سے ہر بار تحفظ فراہم کرنے کا نکتہ اٹھایا جاتا۔

لیکن یہ سب جانتے تھے کہ ایسی ضمانت دینا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ لہذا کچھ اجلاسوں کے بعد نئی یقین دہانیوں کے ساتھ مسلمانوں کو تعمیر نو کا کام جاری رکھنے پر آمادہ کر لیا جاتا۔ ایسے کئی اجلاسوں میں بعض اوقات کرس کے ہم راہ میں بھی شرکت کرتا تھا۔ ہر بار مجھے یہ یقین ہوتا تھا کہ مسلمان اب کی بار تعاون پر ہرگز آمادہ نہیں ہوں گے، لیکن میرا خیال ہر بار غلط ثابت ہوتا۔ میں نے جب اس بارے میں غور کیا تو ایک بات میری سمجھ میں آئی کہ مسلمان پختہ سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ وہ اس بات کا یقین رکھنے کے باوجود کہ ناکامی سٹولک پائلٹ پراجیکٹ کا مقدر ہے، کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس کی بنا پر ڈیٹن سمجھوتے کے نفاذ میں عدم تعاون کے مرتکب ٹھہرائے جائیں۔

ڈیٹن سمجھوتے نے جنگ کے اختتام پر مسلمانوں، سربوں اور کروایٹوں کے مقبوضہ علاقوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہوئی حدود کو بین الاقوامی سرحد کے بجائے نسلی سرحد کے طور پر تسلیم کیا تھا اور اس کے آرپار نقل و حرکت کی مکمل آزادی کو یقینی بنانے کا عندیہ دیا تھا۔ اس معاہدے کو وجود میں آئے ہوئے ایک سال ہونے کو تھا، لیکن عملی صورت حال میں اب بھی کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس ضمن میں سربوں اور مسلمانوں کا رویہ تو کافی حد تک لچک دار تھا لیکن کروایٹ اپنی خو بدلنے پر آمادہ نہ تھے۔

سٹولک کے جنوب میں قصبے سے ذرا باہر نسلی سرحد کروایٹ اور سرب علاقے کو جدا کرتی تھی۔ یہ سرحد مختلف سمتوں میں واقع دو سرب قصبوں لوبینیا اور بیرکووچی کو جانے والی سڑکوں کو کاٹتی تھی۔ ان دونوں سڑکوں پر کروایٹ پولیس کے پہرے دار دن رات موجود رہتے تھے۔ وہ سربوں کے اپنے علاقے میں داخلے میں مختلف ہیلوں بہانوں سے رکاوٹیں پیدا کرتے رہتے تھے۔ ان میں سب سے بڑا حربہ سرب نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی تھی۔ اس پابندی کی یہ توجیہہ پیش کی جاتی تھی کہ چونکہ ان گاڑیوں کا بیمہ کروایٹ علاقے میں کارآمد نہیں ہے لہٰذا مقامی قانون ان کے داخلے کی اجازت نہیں دیتا۔

اس صورت حال میں UNHCR نے ایک پروگرام شروع کیا جسے Assessment visits کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت ٹرے بینیا اور موسطار سے سرب اور مسلمان تارکین وطن IFOR کے پہرے میں گروہوں کی شکل میں اپنے آبائی علاقوں کے دورے پر آتے تھے۔ جنگ سے قبل چونکہ سٹولک اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ مسلمان اکثریتی تھا۔ لہٰذا اس طرح کے اکثر دورے مسلمان تارکین وطن کی طرف ہی سے ہوتے تھے۔ اس طرح کے دوروں کے مواقع پر ہماری اور مقامی پولیس دونوں ہی کی موجودگی ضروری ہوتی تھی۔ ان دوروں کے دوران جو دلدوز مناظر دیکھنے کو ملتے تھے ان پہ یہ مصرعہ صادق آتا تھا۔

کسی بت کدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری

Facebook Comments HS