کراچی اور ماہ رمضان: کن چیزوں میں برکت ہوتی ہے


ہمارے ملک میں جس طرح ہر چیز تنزلی کا شکار ہے وہیں ہمارے تہوار اور ہماری روایات بھی دن بہ دن تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔ ہر جانب ایک پسماندگی نظر آتی ہے ہر جانب پستی نظر آتی ہے ہر جانب بے قاعدگی ہے اور ہر جانب بے چینی ہے۔ ماہ رمضان پورے سال کے خوبصورت ترین دن ہوتے ہیں، جس میں روحانی بلندی کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں۔ اس ماہ میں بشر کو انسان سازی کا موقع ملتا ہے اور مسلمان بہترین مسلمان بننے کی جانب راغب ہوتے ہیں۔

یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب ہمارے سارے تہواروں میں سے روحانیت ختم ہو گئی ہے کیونکہ ان چیزوں میں دکھاوا، مادیت پرستی، شور شرابا، واہ واہ کی بھوک اور شہرت طلبی نے ہمارے تہواروں کو مادیت آلودہ کر کے روحانیت چھین لی ہے۔ ان تہواروں میں سے ایک ماہ رمضان بھی ہے جس میں روحانی تربیت، روحانی ماحول ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے روزے ہونے کے باوجود اضطرابی کیفیت برقرار رہتی ہے اور روزہ رکھنے والا ایسا برتاؤ کر رہا ہوتا ہے کہ جیسے وہ احسان کر رہا ہو۔

میں بھی اسی معاشرے کا فرد ہوں اور اس طرح کے بہت سارے معاملات کو بہت قریب سے دیکھتا ہوں، آج میں وہ باتیں بتاؤ نگا جو اس معاشرے کے مسلمانوں میں عام ہو چکی ہے۔ ان تمام حرکتوں میں ہم سب پورا سال مبتلا رہتے ہیں لیکن رمضان آتے ہی یہ معاملات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ سنئے وہ حرکتیں جو مسلمان رمضان میں ببانگ دہل کرتے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔

کراچی کے مسلمانوں کے لئے افطاری کا وقت نہ جانے کیوں بے چینی کا وقت بن جاتا ہے۔ میں کراچی میں یہ منظر کئی سالوں سے دیکھ رہا ہوں کہ افطاری سے ایک دو گھنٹہ قبل ٹریفک نظام درہم برہم ہوجاتا ہے جس کی جیسے مرضی ہوتی ہے ویسے وہ اپنی کار اور موٹر سائیکل چلاتا ہے اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر ٹریفک جام کرتا ہے اور دوسرے کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ رانگ آنا، ٹریفک سگنلز کو توڑنا، ٹریفک پولیس اہلکاروں کو اگنور کرنا، تیز رفتار میں بائیک و گاڑی چلانا اور پھر یہ سب کرنے کے بعد روڈوں پر لڑائی جھگڑا کرنا، یہ ماہ رمضان میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

کراچی میں افطاری کے ہزاروں دسترخوان روز لگتے ہیں اور یہ کراچی کی خوبصورتی بھی ہے۔ افطاری کرانا اچھا عمل ہے لیکن بیچ سڑک پر ٹیبل لگا کر ٹریفک جام کرنا ہرگز اچھا عمل نہیں۔ پتلی پتلی سڑک پر افطاری کی ٹیبل لگا کر ٹریفک جام کر دیا جاتا ہے اور دوسرے روزے داروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ ہی کچھ روڈ پر افطاری بانٹنے والوں کا کام ہوتا ہے جو مرکزی سڑک پر اپنے پیچھے ہجوم کو بھگوا رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اچانک سے ٹریفک رکتا ہے اور چھوٹے بڑے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اب مجھے خود بتائے اس عمل میں ثواب ہے یا پھر۔

ماہ رمضان میں جتنی صبر کی تلقین ہے اتنے ہی ہم بے صبرے ہو جاتے ہیں۔ افطاری سے پہلے دو ہجوم آپ کو لازماً دو جگہ نظر آئیں گے، ایک ہجوم سموسے کی دکان پر ہو گا اور دوسرا ہجوم کسی لڑائی کو دیکھنے میں مگن ہو گا۔ یہ ہجوم وہ ہی ہو گا جو پورے راستے تیزی کے ساتھ، ٹریفک رولز درہم برہم کرنے کے بعد پہنچا ہو گا مگر اب اسے لڑائی دیکھنی ہے اور وہ لڑائی دیکھنے میں مشغول ہو کر پوری ٹریفک کا ستیا ناس کر دیتے ہیں۔ اسی طرح پتھارے دار ہو یا پھر ریڑھی بان ہو یہ بھی ٹریفک جام کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ گویا ٹریفک رولز پورے سال توڑتے ہی ہیں لیکن اس ماہ میں اس میں مہنگائی کی طرح کافی اضافہ ہوجاتا ہے۔

پورا سال کی ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی ایک جانب، لیکن رمضان میں لوٹنا سب سے عام ہوتا ہے۔ ویسے تو پورے سال ہی مہنگائی کا چرچا رہتا ہے لیکن اس ماہ میں روزہ دار چیزیں مہنگی کر کر کے بیچتا ہے اور مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ جس کو جہاں موقع لگتا ہے وہ نقب لگاتا ہے اور کارروائی کر دیتا ہے۔ گویا رمضان جو رحمتوں کی برکتوں کا مہینہ تھا وہاں کسی چیز میں برکت ہوئی تو وہ یہ ہی چیزیں ہیں۔

Facebook Comments HS