افراتفری نقصان پہنچا رہی ہے
پاکستان صرف صاف شفاف جمہوریت کی عدم موجودگی کی بنا پر اپنی صلاحیت سے کہیں کم کارکردگی دکھا رہا ہے۔ اگر 2017 میں آئین، قانون سے کھلواڑ نہ کیا جاتا اور ایک منتخب وزیر اعظم پر عدالتی شب خون نہ مارا جاتا تو جو معیشت اس وقت دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت تھی آج دنیا کی پہلی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکی ہوتی۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ حکومت اس معیشت کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت سے گرا کر سنتالیس نمبر پر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور اب ساتھ ساتھ اس پر بھی کمربستہ ہے کہ موجودہ حکومت کہیں اس لڑکھڑاتی معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔
اور اس افراتفری کو برقرار رکھنے کے لئے بدقسمتی سے کہیں نہ کہیں سہولت کار ابھی تک موجود ہیں۔ حال ہی میں جو رویہ وارنٹ تعمیل کی غرض سے آئی پولیس کے ساتھ زمان پارک میں روا رکھا گیا اگر کہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی قوم پرست رہنما نے اختیار کر لیا ہوتا تو ایک قیامت برپا کر دی جانی تھی۔ بغاوت، ملک دشمنی سمیت ہر الزام دھر دیا جاتا، ہر قیمت پر گرفتار کیا جاتا ہے اور ضمانت ملنا تو خواب ہی ہوتا کیس سننے کی نوبت بھی خدا جانے کب آتی۔
ان تمام سہولیات کے باوجود بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کے نا ملنے کی دہائی کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ دوبارہ تمام جماعتوں اور بالخصوص مسلم لیگ نون کے ساتھ وہ ہی رویہ اختیار کیا جائے کہ جیسا رویہ دو ہزار سترہ کے جولائی سے لے کر 2018 کے ”عام سے انتخابات“ اور پھر بعد میں گزشتہ برس حکومت کے خاتمے تک روا رکھا گیا تھا۔ ورنہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ انتخابات کے نتائج آزاد کشمیر میں اپنی حکومت ہونے کے باوجود جو بلدیات میں سامنے آئے اور کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے مانند ہوں گے جہاں پر 2018 میں سب سے زیادہ نشستوں سے ”فیضیاب“ کروایا گیا تھا۔
مقبولیت کا ڈھول پیٹنے والوں کے لیے یہ سب نوشتہ دیوار ہے اور ابھی تو مسلم لیگ نون کے قائد کو میدان میں اترنے کے لئے ہزار قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے جب یہ رکاوٹیں بھی دھڑام سے گر پڑے گی تو کیا ہو گا؟ قصور کھڈیاں خاص جیسے چھوٹے علاقے کا جلسہ اس سوال کا دن کی روشنی میں منہ بولتا جواب ہے۔ اس تمام صورتحال میں افراتفری کے سبب سے مسائل کی جانب عوامی توجہ کو نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے دوبارہ بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب سے عوامی لاتعلقی نظر آ رہی ہے حالانکہ بھارت پاکستان کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آبی جارحیت کرنے کی حکمت عملی کو اختیار کر رہا ہے۔
انیس سو ساٹھ میں ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس کا معاہدہ ہوا اس معاہدے میں درج ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی یا اس کی منسوخی کے لیے دونوں ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے مگر بھارت نے اس معاہدے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے 25 جنوری 2023 کو پاکستان کو ایک نوٹس جاری کر دیا اور اس میں جواب دینے کی مدت نوے دن رکھی گئی۔ سندھ طاس معاہدے کی تاریخ میں ایسا نوٹس پہلی بار دیا گیا ہے اسے کوئی عام معاملہ نہیں گرداننا چاہیے یہ بھارت کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
2016 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے“ اس تقریر کے بعد 27 ستمبر 2016 کو بھارت میں ایک انتہائی اعلی سطحی اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں ایک بین الوزارتی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ٹاسک فورس کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو مزید بھارتی مفادات کے تابع کرنے کے لیے اپنی سفارشات کو تیار کریں اور اب بھارت اسی ٹاسک فورس کی بیان کردہ سفارشات کو پاکستان پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
اس صورتحال کو قائم کرنے کے لیے جو وقت اس وقت استعمال کیا گیا ہے اس پر اگر ہم نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ 2024 بھارت میں عام انتخابات کا سال ہے اور نریندر مودی کو اس میں کامیابی کی غرض سے بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کو استعمال کرنا ہے۔ اس نے 2019 کے انتخابات سے قبل فضائی حملے جیسی حرکت کردی تھی، ابھی نندن یاد ہو گا۔ اسی طرح وہ انتخابات میں کامیابی کی غرض سے پاکستان کا پانی بھارت کی جانب سے روکنے کا نعرہ لگا سکتا ہے اور اس ضمن میں کوئی حرکت بھی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
بہت محتاط رہنے اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ معیشت کی بحالی کی غرض سے چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کے اقدامات کرنے چاہیے۔ مگر مجھے ایک بڑی چینی کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ ان سے اسلام آباد ائرپورٹ پر رشوت لے لی گئی حالاں کہ ان کا سب سامان قانون کے مطابق تھا۔ وہ ہی کمپنی واپڈا کی جانب سے این او سی کی منتظر ہے کہ وہ اپنی بجلی پیدا کر کے اپنے ہی پلانٹ کو دینا چاہتے ہیں مگر معاملات ٹھہرے ہوئے ہیں۔ انہیں ریلوے سے فائبر آپٹک بچھانے کے لئے اجازت نامہ درکار ہے کہ یہ ریلوے لائنوں کی نیچے سے گزرے گا مگر اس پر بھی کوئی پیشرفت نہیں۔ ان تمام مسائل سے چینی کمپنیوں کو نجات دلانی چاہیے تاکہ چینی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے اور سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کر سکیں۔

