انگلستان اور کشمیری تارکین وطن کمیونٹی.


جزیرہ بریطانیہ، اپنے شمالی سمندر اور انگلش رودبار کے توسط سے یورپ سے منسلک ہے۔ انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ متحدہ مملکت برطانیہ کا حصہ ہیں۔ جبکہ عظیم بریطانیہ میں آئرلینڈ اس کا حصہ نہیں ہے۔ لوگ یوکے اور گریٹ بریٹن کے فرق کو نہیں سمجھتے لہذا اسے سمجھنا ضروری ہے۔ سلطنت برطانیہ یکم مئی 1707ء کو انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے اشتراک سے معرض وجود میں آئی۔ گو کہ آئرلینڈ بارہویں صدی سے انگلینڈ کی کالونی تھا۔ لیکن یہ بھی 1801ء میں قانونی طور پر عظیم مملکت بریطانیہ کا حصہ بن گیا۔ بعد میں ماسوائے اس کی چھ کاؤنٹیز کے سارے آئرلینڈ نے 1921ء میں اس اشتراک سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اور ریپبلک آف آئرلینڈ کہلایا جانے لگا۔

اپنے عروج کے دور میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی تجارتی مقصد کے لئے 24 اگست 1608ء سورت کے مقام پر لنگر انداز ہوئی۔ یہی تجارتی کمپنی بعد میں اپنے آنے والے وقتوں میں انڈیا کے لئے ایک عظیم چیلنج بن گئی جس سے چھٹکارا حاصل کرنا اہل انڈیا کے لئے بہت مشکل امر بن گیا۔ اس وقت یہ خطہ دنیا کا ایک عظیم زرخیز حصہ تھا۔ بریطانیہ اس خطے میں 1757ء سے لے کر 1947ء تک قابض رہا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے عروج کو قائم نہ رکھ سکا اور اپنی اکثر کالونیوں کو آزادی دینے پر مجبور ہو گیا جس میں انڈیا بھی شامل تھا۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اور مزدوروں کی کمی بریطانیہ کو در پیش مسائل تھے جن کی وجہ سے یہ سلطنت اپنی دگرگوں حال معیشت کو سہارا دینے کے لئے مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کشمیری بالخصوص میرپور کے لوگ ٹیکسٹائل اور کاروں کی صنعتوں لنکاشائر، یارکشائر، مڈلینڈ اور مانچسٹر کے علاقوں میں بریطانیہ کے مدد گار ثابت ہوئے۔ خطہ کشمیر کے لوگ اس سے قبل ہی 1900ء میں جہازوں پر کام کرتے ہوئے بریطانیہ میں وارد ہوچکے تھے۔

ان دنوں کسی جگہ بھی کام آسانی سے دستیاب ہوجاتا تھا۔ تارکین وطن کی آمدو رفت میں تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب 1966ء میں منگلا ڈیم کی تعمیر مکمل ہوئی اور تمام علاقے زیرآب آ گئے۔ بعد میں تارکین وطن اپنے خاندان اور بچوں کو بھی اپنے پاس بریطانیہ لے آئے اور اسی کے ساتھ ان کے نظام معاشرت کا آغاز ہو گیا۔ پہلے تارکین وطن صرف محدود علاقوں جو ان کے کام کاج والی صنعتوں کے نزدیک تھے، میں آباد ہوئے کیونکہ معاش اور پاکستان میں اپنے خاندانوں کی کفالت ان کا بنیادی عنصر تھا۔

لیکن اپنے اہل و عیال کے آ جانے اور روزگار کے سمٹتے مواقع نے انہیں پھر انگلستان کے دوسرے شہروں کا رخ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اب کشمیری تارکین وطن کمیونٹی کی موجودگی بریطانیہ کے ہر شہر و گاؤں میں نظر آتی ہے۔ جن میں قابل ذکر علاقے لندن اور اس کے مضافات، لیوٹن، برمنگھم، بریڈ فورڈ، لیڈز، ناٹنگھم، بلیک برن، ڈیوز بری، برنلے، ویکفیلڈ، مانچسٹر، راچڈیل، ہالیفیکس، اولڈھم اور دوسرے کئی چھوٹے بڑے شہر شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق انگلینڈ میں 70 فیصد پاکستانی تارکین وطن آبادی میر پور، آزاد کشمیر سے تعلق رکھتی ہے لیکن 2001ء کی رائے شماری کے مطابق صرف بائیس ہزار افراد نے اپنے کشمیری ہونے کا اس کے فارم میں ذکر کیا۔ 2021ء کی رائے شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں پاکستانی کمیونٹی 1,587,819 یعنی کل آبادی کا 2.7 فیصد تھا۔ جبکہ یہ تناسب 2011ء کی رائے شماری کے مطابق 1,174,983 تھا۔ ان دونوں رائے شماریات کے مطابق آبادی میں اضافہ 427,00 کے قریب ہوا۔

جن میں انگلینڈ اور ویلز میں پیدا ہونے والے بچے بھی شامل تھے۔ جنہوں نے اپنی شناخت بطور پاکستانی لکھی۔ کشمیری تارکین وطن کی پہلی نسل جو بریطانیہ میں آباد ہوئی ان میں نئے علاقوں میں مشکل حالات کے باوجود رہنے سہنے کے نئے طور طریقے اپنانے، محنتی و جفا کش اور ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور اپنے آپ پر بھروسا جیسی صفات شامل تھیں۔ انگریزی زبان میں بات چیت میں مشکل کے باوجود انہوں نے اپنی ترقی کی پرواز کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اپنی اولاد کی مقامی سکولوں میں تعلیم پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔

اب موجودہ دور میں ان کے بچے نہ صرف پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ تجارت پر بھی ان کی نظر مرکوز ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک المیہ نوجوان نسل کا بے راہروی اور منشیات کا استعمال و کاروبار باعث تشویش ہے۔ کشمیری تارکین وطن کا اپنی زبان، ثقافت، طور طریقوں کو زندہ رکھنا ایک احسن عمل ہے۔ اسی کے ساتھ اپنے آبائی وطن کے ساتھ رابطہ رکھنا اور اپنے علاقوں میں مکانات تعمیر کرنے کے علاوہ اب چیریٹی کے کام میں دلجمعی دکھانا بھی ان کا خاصہ ہے۔ دوسرے تارکین وطن کی بہ نسبت کشمیری تارکین وطن نے اپنی مادری زبان کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے جو انہی کا خاصہ ہے۔

 

Facebook Comments HS