تین سالہ ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ


ہر گزرتے دن کے ساتھ محاذ آرائی میں شدت آ رہی ہے۔ عمران دور کے چار سال مسلم لیگ (ن) کی جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے خلاف مزاحمتی تحریک چلتی رہی پھر جیسے ہی عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے نکلے انہوں نے بھی جنرل باجوہ کے خلاف تحریک شروع کردی۔ آج مسلم لیگ (ن) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے حامی ججوں کے خلاف میدان میں ہے۔ اگست 2018 سے اپریل 2023 آ گیا لیکن اس عرصے میں پاکستان کے عوام کو ریلیف نہیں مل سکا۔ ہاں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کے بعد عمران خان کو مسلسل ہر سطح پر عدالتی ریلیف مل رہا ہے لیکن جس نواز شریف کو مائنس کرنے کی جدوجہد 2016 میں شروع ہوئی ان کو تاحال کسی عدالت سے ریلیف نہیں مل رہا۔

نواز شریف کو پاکستان کے کسی قانون کے مطابق سزا نہیں ملی بلکہ بلیک لاء ڈکشنری کے تحت نااہل کیا گیا۔ ہاں آئین پاکستان سے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کا سہارا ضرور لیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کے دو عدالتی فیصلے ہمیشہ عدلیہ پر دھبہ رہیں گے۔ ایک ذوالفقار بھٹو کی پھانسی اور دوسرا نواز شریف کو ایکسپائرڈ اقامہ پر نااہل کرنا۔ پہلے سوال اٹھتا تھا کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو مسائل بڑھتے ہیں۔

آج فوج نے علانیہ طور پر سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہوا ہے تو اب عدلیہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وہ کسی کے ساتھ لاڈلے جیسا سلوک کر رہی ہے اور کسی کے سوتیلے جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہاں سیاستدانوں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ بار بار سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے عدالتوں میں کیوں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بات اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس اطہر من اللہ متعدد مرتبہ سیاسی نوعیت کی درخواستوں پر سیاستدانوں کو خود کہہ چکے ہیں۔

آج حکومتی اتحادی جماعتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ پارلیمنٹ ہی جمہوریت میں سپریم ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سیاستدان خود پارلیمنٹ کو کتنی عزت دیتے ہیں اور اس کو کتنا سنجیدہ لیتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے پاکستان میں سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے اور سیاسی ماحول میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان ہیں جو اپنے علاوہ کسی کو ملک چلانے کے اہل نہیں سمجھتے اور کسی سیاستدان کے ساتھ بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں ساتھ ساتھ وہ اپنے علاوہ سب کو چور سمجھتے ہیں جبکہ انہی کے دور حکومت میں دو مرتبہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں کہا گیا کہ کرپشن کا انڈکس ریٹ مزید بڑھا ہے۔

موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر جب ڈی جی آئی تھے تو انہوں نے ہی عمران خان کو ان کی بیوی بشری بی بی کے کرپشن میں ملوث ہونے کی فائل دی لیکن عمران خان نے اس پر کوئی ایکشن لینے کی بجائے جنرل عاصم منیر کو ہی ڈی جی آئی کے عہدے سے ہٹایا دیا۔ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں جبکہ اگلے ہی دن اس پر یوٹرن لے لیتے ہیں۔ جب وہ وزیراعظم تھے کبھی خود کو قوم کا باپ اور کبھی جنرل باجوہ کو قوم کا باپ کہتے تھے آج وہ چیف جسٹس کو قوم کا باپ کہہ رہے ہیں۔

کچھ دن قبل مفتی تقی عثمانی صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں کو تجویز دی کہ ملک و قوم کی خاطر اکٹھے بیٹھیں ساتھ ہی انہوں نے آرمی چیف کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس معاملے میں رول ادا کرنا چاہیے کہ سب سیاستدانوں کو ایک ٹیبل پر بٹھائیں۔ لیکن شاید آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی عمران خان کے میر جعفر اور جانور جیسے القابات کی وجہ سے ناراض ہیں اور ان کے معاملے میں داخل اندازی نہیں کرنا چاہتے۔ پاکستان کے حالات جس جانب بڑھ رہے ہیں لگتا ہے کہ ملک ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس میں ری امیجنگ گروپ والے حکومت بنائیں گے۔ شاہد عباسی وزیر اعظم، مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ، مصطفی نواز وزیر قانون ہوں گے ۔ اگر ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ آیا تو یہ کم از تین سال چلے گا۔ اگر تین سال میں حالات بہتر ہو گئے تو الیکشن ہوں گے۔ اگر معاشی حالات بہتر نہ ہوئے تو اس سیٹ اپ میں مزید دو سال کی توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا حل یہ ہے کہ اگر ملک کے معاشی اور سیکیورٹی کے حالات الگ الگ الیکشن افورڈ نہیں کرتے تو تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی بیٹھیں اور ایک ہی دن پورے ملک الیکشن کروانے کے لئے متفق ہو جائیں ورنہ ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کا آپشن تو پھر زیر غور ہے۔

Facebook Comments HS