قصہ 10 اپریل کا
پی ٹی آئی کی حکومت شب خون مار کر ایک رات پہلے ہی ختم کی گئی تھی عموماً سیاسی معاملات میں زیادہ جذباتی نہیں ہوتا۔ مگر جس طرح سے یہ سارا عمل کیا گیا اس سے کچھ بے چینی سی تھی۔ میڈیا میں نون لیگی ورکر جو صحافیوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں وہ شادیانے بجا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر جعلی لبرل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ عجیب و غریب کہانیوں ٹویٹ کر کے تمسخر اڑا رہے تھے۔ ان سب کی باتیں سن کر اور تحریریں دیکھ کر عجیب سی بے چینی تھی ان میں بیشتر کی بات کو پاکستانی سیاست میں حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔
یہ گزشتہ کئی مہینوں سے یہ بتا رہے تھے کہ تحریک انصاف حکومت سے نکلتے ہی ٹوٹ جائے گئی اور ختم ہو جائے گئی۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر ختم کی گئی تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گئے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ اس اعتماد سے بیان کر رہے تھے کہ طاقتور حلقے بھی ان کے جھانسے میں آ گئے۔ جبکہ جس بھونڈے انداز میں یہ سب ہو رہا تھا اس نے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کو متحرک کر دیا تھا وہ تمام ورکرز جو مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر کنارہ کشی اختیار کر چکے تھے واپس اپنے اپنے مورچوں میں پہنچ چکے تھے چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا گراؤنڈ ورکر۔
میں اس کی ایک جھلک یکم رمضان کو دیکھ چکا تھا جب قاسم سوری نے عدم اعتماد کے خلاف رولنگ دی اور عمران خان نے قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس دن راولپنڈی، اسلام آباد اور گردونواح کے ناراض ورکرز بھی ڈی چوک میں نظر آئے حالانکہ پارٹی کی طرف سے کسی جگہ اکٹھے ہونے یا احتجاج کا نہیں کہا گیا تھا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے سوموٹو ایکشن لیا رولنگ کو ختم کر کے 9 اپریل کو عدم اعتماد کی ووٹنگ کا حکم دیا۔ جس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ پاکستان کے تمام ہی ادارے اس عمل میں شامل ہو چکے ہیں۔
عدم اعتماد پیش ہوئی کیونکہ اسے اندرونی اور بیرونی طاقتور حلقوں کی مکمل تائید حاصل تھی وہ کامیاب ہو گئی اور عمران خان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ عمران خان نے ٹی وی پر قوم کو اپنا الوداعی پیغام دیا اور تمام مخالفین کو متنبہ کیا کہ میں وزیر اعظم ہاؤس سے نکل کر ان کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ عمران خان ایک ڈائری پکڑے وکٹری کا نشان بنا کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکل گیا۔
یہ سب تین چار دن سے دیکھ رہا تھا طبیعت بھی کچھ بوجھل سی تھی جس کی وجہ سے سحری بھی ٹھیک سے نہیں کر پایا۔ دن عجیب اضطرابی کیفیت میں گزر رہا تھا سہ پہر کو پی ٹی آئی واٹس اپ گروپس میں احتجاج کی کال کا عام سا میسج آیا پھر اکٹھے ہونا کا مقام کا تعین بھی نہیں کیا گیا بہرحال افطار سے پہلے راولپنڈی کے ورکرز کو لیاقت باغ افطار کے بعد اکٹھے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ افطار بھی اسی کیفیت میں کی۔ کھجور اور پانی پیا نماز گھر ہی پڑھی اور فوراً لیاقت باغ کے لیے نکل گیا ابھی افطار ہوئے بمشکل دس منٹ ہوئے تھے۔
میں نے کسی کارکن سے رابطہ نہیں کیا یہ سوچ کر کے افطار کے بعد ایسے احتجاج میں نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ گھر سے نکل کر سوچنے لگا کہ اگر پی ٹی آئی کارکنان کی تعداد پچاس سے زائد ہو گئی مناسب ہو جائے گا ایسے ہی وسوسوں کے ساتھ جب لیاقت باغ پہنچا تو وہاں کی حالت کسی طور بھی حوصلہ افزا نہیں تھی لیاقت باغ کے باہر کیمپ میں چار پانچ افراد سائیڈ پر کھڑے تھے وومن ونگ کی دو تین عورتیں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسی کیفیت میں آدھا گھنٹہ گزر گیا مری روڈ پر گاڑیاں کم تعداد میں تھی مگر کچھ گاڑیوں سے وکٹری کا نشان بنا کر ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا تھا۔
میں نے تنظیمی عہدیداران کی گنتی شروع کی تا کہ پتہ چل سکے کہ تحصیل و ضلع یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف کے عہدیداروں کی کتنی تعداد ہے اور ساتھ یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ان کی نصف تعداد بھی آ گئی تو عزت رہ جائے گئی افطار کے چالیس منٹ بعد اکا دکا کارکنان کے آنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا جو بیس پچیس منٹ میں کافی بہتر ہو گیا مگر ابھی بھی اتنا نہیں تھا کہ اسے اچھا کہا جا سکے۔ افطار کے ایک گھنٹے بعد ٹولیوں اور ریلیوں کی صورت میں جو کارکنان کی آمد شروع ہوئی اس کے ساتھ ہی عام لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس احتجاج میں امڈ آئی، اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی ہی خبریں پورے پاکستان سے آنے لگیں۔
چشم فلک نے ایسا احتجاج پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا پاکستان کی ہر گلی ہر چوراہا اس احتجاج میں شامل نظر آ رہا تھا۔ کچھ جذباتی افراد فرط جذبات میں طاقت کے قلعوں کے ان دروازوں تک پہنچ گئے جن کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بہرحال یہ احتجاج کا نا روکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس کا طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے کسی شخص نے تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ کیونکہ بغیر کسی منصوبہ بندی کی کال تھی اس لیے یہ احتجاج بے سمت تھا پھر پنڈی سے لوگ ڈی چوک کی طرف چل پڑے عوام کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ گھنٹوں لگ گئے راولپنڈی سے نکلتے ہوئے۔
یہی حال اسلام آباد کا تھا ان کی قیادت نے ایف 9 پارک کی کال دے دی۔ گھنٹوں کے اس سفر کے بعد بھی ہم بلیو ایریا تک ہی پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور وہاں سے میں نے واپسی کا ارادہ کیا کیونکہ اب بھوک کی شدت بھی محسوس ہونے لگی تھی۔ دل بالکل مطمئن ہو گیا کہ میری پارٹی واپس کھڑی ہو گئی ہے بلیو ایریا سے مری روڈ واپسی پر دیکھا کمیٹی چوک تک مکمل بمپر ٹو بمپر گاڑیوں میں لوگ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے آئے ہوئے ہیں کیونکہ رات ڈیڑھ دو کا وقت تھا اس لیے عام ٹریفک نا ہونے کے برابر تھی اس رات سحری کے بعد بڑے سکون کی نیند آئی مگر اس کے بعد بہت سوں کی نیندیں حرام ہو گئیں احتجاج کا نا رکنے والے سلسلہ شروع ہوا۔
پی ٹی آئی سے لوگوں سے وابستگی سے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ کہا گیا کہ ایک دن میں لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہو جائیں گئے۔ یہ برگروں کی جماعت ہے دب جائے گئی آج ایک سال ہونے کو ہے پی ٹی آئی پر ہر قسم کا ریاستی جبر کر کے دیکھ لیا گیا۔ ہر دھونس دھمکی یہاں تک کے گولیاں مار کر دیکھ لیں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے عمران خان کی جانب بڑھنے والی گولیوں کو اپنے سینوں پر کھا کر اس کی حفاظت کی۔ ان برگر بچوں نے طاقتور ترین سمجھے جانے والوں کے دانتوں سے بھی پسینہ نکلوا دیا اب وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اپنی 9 اپریل والی غلطی کو کیسے درست ثابت کیا جائے اس میں یہ مزید غلطیاں کیے جا رہے ہیں کچھ پی ڈی ایم سے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے افراد یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حالیہ مقبولیت شہباز شریف کی ناکام حکومت کی وجہ سے ہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا اگر ایسا ہوتا تو 10 اپریل کو عوام اتنی بڑی تعداد میں باہر نا آتی۔
اس مس ایڈونچر کا ایک فائدہ ہوا کہ بہت سوں کا بھرم ختم ہو گیا کہ ان کے پلکوں کے اشارے سے عوام کی رائے بدل جاتی ہے۔ اب پورے ایک سال بعد یہ حال ہے کہ یقینی شکست سے بچنے کے لیے وہ تمام لوگ جو اس سسٹم سے استفادہ کرنے والے ہیں وہ ایک طرف ہو گئے کیونکہ اب وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ 25 مئی کو ظلم و بربریت جو انتہا کی گئی جہاں عورتوں اور بچوں پر بھی اندھا دھند آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا اس کی مثال میں تاریخ میں نہیں ملتی، اس دوران راولپنڈی کی قیادت بھی داد کی مستحق ہے کہ انہوں نے اس پورے سال کارکنان کو متحرک اور منظم رکھا۔ 25 مئی جیسے جنگی ماحول میں راولپنڈی کی قیادت صف اول میں نظر آئی۔ اور کارکنان کے شانہ بشانہ بھرپور مزاحمت کی اور آخر کار وہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بتائے گئے مقام پر پہنچ گئے۔
17 جولائی کے صوبائی ضمنی انتخابات ہوں یا قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات، پی ٹی آئی پورے پاکستان میں اپنے کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ اس بات سے یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ عمران خان اور عوام ہے یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب یہ ٹرائیکا توڑ کر ہی دم لیں گے۔ عمران خان کا خوف ان تمام سسٹم سے استفادہ کرنے والوں پر طاری ہے۔ وہ اس کیفیت میں انسانیت ہی بھول چکے ہیں۔ اور ریت کی طرح ان کے ہاتھوں سے سب کچھ آہستہ آہستہ نکل رہا ہے۔
اس ایک سال میں کچھ ان لوگوں نے سوائے عوام کی نفرت کے کچھ نہیں سمیٹا، اللہ انہیں ہدایت دے۔


