مذاکرات کا نہیں سیاسی فیصلوں کا وقت ہے


سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف زرداری نے وزیر اعظم کو اپوزیشن سے مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن کو کسی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کے لیے وزیر اعظم سے رابطہ کرنا چاہیے۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بھی کچھ عرصہ سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتی رہی ہے اور ایک موقع پر عمران خان نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اگر حکومت انتخابات کے شیڈول کا وعدہ کرے تو وہ اکتوبر تک انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ حالات میں شہباز حکومت نے اس پر کوئی تبصرہ مناسب نہیں سمجھا۔

قومی اسمبلی میں منعقدہ آئینی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے وزیر اعظم کو مذاکرات کا مشورہ دیا۔ اگرچہ انہوں نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے رابطہ کرے اور مذاکرات کے لیے شرائط نہ رکھی جائیں۔ یہ بات اصولی طور سے درست ہونے کے باوجود، قابل عمل اور قابل قبول نہیں ہوگی۔ یا تو مجوزہ مذاکرات کا موضوع ہی انتخابات کے انعقاد پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو۔ یا پھر حکومت کوئی واضح اعلان کر کے اس وقت ملک میں پائے جانے والی بے چینی اور پریشانی کی کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ وزیر اعظم شہباز شریف قبل ازیں معاشی صورت حال اور سکیورٹی کے حالات پر بات چیت کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکے تھے۔ البتہ دو مرتبہ تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد ، اس بارے میں خاموشی اختیار کرلی گئی کیوں کہ تحریک انصاف انتخابات کے سوا کسی بھی موضوع پر بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

اس دوران تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں نے حکومت سے بات چیت کی خواہش کا اشارہ دیا ہے لیکن فواد چوہدری اور اسد قیصر سمیت پی ٹی آئی کے سارے لیڈر مذاکرات منعقد کرنے کے لیے وزیر اعظم کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی سیاسی تعطل ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے مذاکرات کے مقام اور وقت کا اعلان کرنا چاہیے، تحریک انصاف اس میں شریک ہو جائے گی۔ البتہ یہ لیڈر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے بھی انتخابات کے علاوہ کسی موضوع پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات کے حوالے سے پٹیشن پر غور کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی حکومت اور تحریک انصاف کو بات چیت کے ذریعے کوئی سیاسی تصفیہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے تھے لیکن فریقین نے قانونی موشگافیوں اور سیاسی الزام تراشی سے آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

تحریک انصاف کی طرف سے بات پر آمادگی یوں بھی مشکوک دکھائی دیتی ہے کہ عمران خان یہ واضح کرچکے ہیں کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وہ خود کسی قیمت پرت شامل نہیں ہوں گے کیوں کہ موجودہ حکومت ’چوروں لٹیروں‘ پر مشتمل ہے اور ان کے ساتھ بات نہیں ہو سکتی۔ البتہ معاملات طے کرنے کے لیے تحریک انصاف کے دوسرے لیڈر حکومتی رہنماؤں سے مل لیں گے۔

تحریک انصاف کے قائد کا یہ طرز گفتگو ملک کے دوسرے سیاسی لیڈروں کے بارے میں ہتک آمیز ہے۔ اس رویہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے جیسے عمران خان یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ حکومت کو بلیک میل کر کے بات چیت پر مجبور کر لیں گے۔ کوئی بھی حکومت خواہ وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو اس قسم کے چیلنج کو نظر انداز نہیں کرتی۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف صرف انتخابات کے سوال پر بات چیت کرنا چاہتی ہے جبکہ حکومت نے مذاکرات کے لیے ابھی تک انتخابات کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ شہباز شریف اور دیگر لیڈروں کی طرف سے جو بھی اشارے سامنے آئے ہیں، ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر موجودہ مشکل معاشی معاملات اور دیگر امور کو طے کر لینا چاہیے۔ تحریک انصاف کے لئے یہ ایجنڈا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جب عمران خان خود حکومت یا حکومتی پارٹیوں کے ساتھ انہیں ’چور لٹیرے‘ قرار دیتے ہوئے بات کرنے سے انکار کریں گے تو کسی بھی موضوع پر کوئی تبادلہ خیال ممکن نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر اگر سیاسی لیڈروں کے سربراہان کا اجلاس بلایا جاتا ہے تاکہ موجودہ تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ اور عمران خان اپنی جگہ شاہ محمود قریشی کو بھیج دیتے ہیں جن کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے تو یہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی۔

تحریک انصاف صرف عمران خان کا نام ہے۔ وہی تمام فیصلے کرتے ہیں اور ان کی مرضی کے خلاف پی ٹی آئی کسی قسم کی حکمت عملی اختیار نہیں کر سکتی۔ اس کی سب سے بڑی مثال پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑنے کا معاملہ ہے۔ ان دونوں صوبوں میں تحریک انصاف کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ اراکین اسمبلی کی قابل ذکر تعداد بھی اسمبلیاں توڑنے کے خلاف تھی لیکن عمران خان بضد رہے کہ اسمبلیاں توڑ کر حکومت کو انتخابات پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ آخر کار سب کو ان کی مرضی کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑے۔ ان حالات میں اگر کل جماعتی کانفرنس میں عمران خان کے علاوہ پارٹی کا کوئی وفد شامل ہوتا ہے اور وہاں کسی اصول پر اتفاق رائے کر لیا جاتا ہے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکے گی کہ عمران خان ایسے کسی فیصلے کو مان لیں گے۔

اس معاملہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی کانفرنس منعقد کی جاتی ہے اور عمران خان اس میں اس لیے شریک نہیں ہوتے کیوں کہ ان کے نزدیک دوسرے لیڈر بدعنوان ہیں تو باقی سیاسی پارٹیوں کے لیڈر تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی قیادت سے کیوں مذاکرات پر آمادہ ہوں گے؟

اس پس منظر میں ایک پبلک پلیٹ فارم سے آصف زرداری کا مذاکرات کے بارے میں مشورہ غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ شہباز شریف پر اپوزیشن سے بات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں تو دوسری طرف وہ اپوزیشن کو کسی شرط کے بغیر وزیر اعظم سے رابطہ کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ حالانکہ عمران خان اپنے موجودہ سیاسی موقف کے ساتھ نہ تو انتخابات کے علاوہ کسی قومی ایجنڈے پر بات کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی وہ کسی ایسے عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ اس ماحول میں آصف زرداری کی گفتگو کو نہ تو حکومت کی ترجمانی سمجھا جاسکتا ہے حالانکہ پیپلز پارٹی موجودہ کثیر الجماعتی حکومت کا حصہ ہے اور نہ ہی اسے کسی سیاسی دانا کا مشورہ کہا جاسکتا ہے جسے سب لیڈر ماننے پر مجبور ہوجائیں۔ البتہ اس بیان کو اتحادی حکومت میں پائے جانے والے اختلافات کا اشارہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ اختلافات اپوزیشن سے مذاکرات کی بجائے پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے موجود ہیں۔

پنجاب میں انتخابات سے صرف مسلم لیگ (ن) ہی بچنا چاہتی ہے۔ کیوں کہ یہی صوبہ اس کا پاور بیس ہے اور عمران خان کی احتجاجی سیاسی مہم جوئی اور شہباز حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی کو امید تھی کہ وہ کسی درپردہ سیاسی یا عدالتی مفاہمت کے نتیجہ میں نواز شریف کی ملک واپسی کا راستہ ہموار کر لے گی تاکہ وہ چند ماہ کے دوران عمران خان کے مقابلہ میں سیاسی مہم جوئی کے ذریعے اپنا ووٹ بنک مستحکم کر لیں۔ بظاہر یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔ مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دوسرے لیڈر یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ انتخابات کے لیے سب کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ یا انصاف کی فراہمی کے لیے ترازو کے پلڑے برابر ہونے چاہئیں۔ ایسی تمام باتوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف تمام الزامات واپس لیے جائیں اور انہیں سیاست میں حصہ لینے کا حق دیا جائے۔ پارٹی چونکہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہے لہذا انتخابات سے فرار ہی اس کا واحد آپشن رہ جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی یا دیگر جماعتوں کو ایسی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کہ انتخابات اب ہوتے ہیں یا چند ماہ بعد ہوں۔ سندھ میں پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے اور پنجاب و خیبر پختون خوا میں اسے کسی بڑی کامیابی کی امید نہیں ہے۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے لئے فوری انتخابات سیاسی میدان سے مکمل صفایا کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اگر یہ مختلف سیاسی پہلو موجودہ اتحادی حکومت میں دراڑ ڈالنے کا سبب بن رہے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی مسلم لیگ (ن) کو ہی ہو گا۔ ان حالات میں شہباز شریف اور مسلم لیگ کی دیگر قیادت کو بہت احتیاط سے سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ موجودہ حالات میں لیگی قیادت میں دوراندیشی کا مظاہرہ کر کے کوئی ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

آصف زرداری کا بیان خواہ اتحادی حکومت میں اختلاف کا اشارہ ہے یا وہ واقعی کسی سیاسی مفاہمت کی خواہش کا اظہار ہے، شہباز شریف کو فوری سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاست میں فیصلوں میں غیر ضروری تعطل شدید نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کی بجائے شہباز شریف ملک میں عام انتخابات کے باقاعدہ شیڈول کی تجویز پیش کر دیں اور اگر تمام سیاسی فریقین اس پر اتفاق رائے کا اظہار کریں تو پارٹیوں کے درمیان رابطوں کے ذریعے مناسب قانون سازی اور عملی انتظامات کا اہتمام کیا جائے۔ آئینی لحاظ سے بھی ملک میں اکتوبر تک عام انتخابات منعقد ہونے چاہئیں۔ اگر شہباز شریف کے ذہن میں کوئی دوسرا نقشہ موجود نہیں ہے تو انہیں وقت ضائع کرنے کی بجائے تحریک انصاف کو انتخابات کے ٹائم فریم پر اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ یوں سپریم کورٹ کے ساتھ تصادم کی موجودہ صورت حال بھی کم کی جا سکے گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali