شکاری کا جنم – احمد اقبال


ش م جمیل مرحوم ڈائجسٹوں میں میرے نزول سے قبل ایک مقبول مترجم تھے جن کا نام ہر جگہ نظر آتا تھا۔ وہ وسیلہ خاتون کے نام سے بھی لکھتے تھے اور بتول فاطمہ کے نام سے بھی۔ جیسے میں منور سلطانہ کے نام سے اور الیاس سیتا پوری نے دوسرا نام ضیا تسنیم بلگرامی اختیار کر رکھا تھا۔ ایسا سب کرتے تھے۔

1979 میں ش م جمیل کروڑ پتی تھے۔ آج کے ارب پتی کراچی میں کریم آباد چوک پر عین اپوا کالج کے سامنے ان کے والد کی ایک ہزار گز کی دو منزلہ کوٹھی تھی اور بولٹن مارکیٹ کی ہول سیل مارکیٹ میں وہ انڈسٹریل پائپس کے اسٹاکسٹ تھے۔ ان کے پاس کریم آباد کے ایک فلیٹ میں انگریزی کہانیوں والے نئے پرانے رسالوں اور کتابوں سے بھری لائبریری تھی۔ وہ اس میں سے کہانی منتخب کر کے کسی ضرورت مند کو دیتے تھے کہ ترجمہ کردو۔ اور ڈائجسٹوں سے ملنے والے معاوضے کا نصف وہ مترجم کو دیتے تھے جس کا نام کبھی سامنے نہیں آتا تھا وہ ایسا کیوں کرتے تھے جب کہ وہ ضرورت مند نہیں تھے؟ جواب یہ ہے کہ یہ ان کا شوق تھا اور اس طرح نہ جانے کتنے ترجمہ کرنے والوں کے گھر چل رہے تھے

1979 میں شہرت کے افق سے گر کے میں شدید مالی بحران میں مبتلا ہوا کیونکہ عالمی ڈائجسٹ بند ہو گیا تھا اور ”الف لیلہ“ کے سوا دوسرے رسالوں سے میرا رابطہ نہ تھا۔ وہاں کبھی کبھار میری کوئی کہانی چھپ جاتی تھی۔ میرا 120 گز کا مکان نمبر 720 فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں تھا۔ نیچے میں کرایہ دار رکھنے پر مجبور تھا۔ اوپر ٹین کی چھت والے دو کمروں کے مکان میں میرا کنبہ رہتا تھا۔ اس پر سامنے بھدا نیلا رنگ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے کیا تھا۔ ان دو کمروں تک آنے والے زینے کا راستہ پیچھے گندی گلی سے تھا۔ سامنے چھوٹا سا ٹیرس تھا جس پر لوہے کی چار کرسیاں پڑی تھیں۔ ان پر سفید پینٹ بھی میں نے کیا تھا یہ سارا دن دھوپ میں تپتی تھیں۔

ان ٹین کی کرسیوں پر جون ایلیا۔ زاہدہ حنا۔ جمال احسانی۔ مرزا حیدر عباس۔ عبیداللہ علیم۔ راغب مراد آبادی۔ پروفیسر آفاق صدیقی اور مشرف احمد۔ ایچ اقبال۔ اقبال پاریکھ۔ اظہر کلیم کیا بتاؤں کیسے کیسے کتنے لوگ بیٹھے۔ زاہدہ حنا کے سوا سب مرحوم ہو چکے۔ ایک شام اچانک ش م جمیل آ گئے۔ ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ میں آج کل تنگ دستی کا شکار ہوں۔ ایک ٹین کی کرسی پر بیٹھ کے انہوں نے کہا ”یار چائے پلاؤ“ ۔ ایک کپ کے بعد انہوں نے دوسرے کپ کی فرمایش کی حالانکہ وہ سارا دن بولٹن مارکیٹ کے آفس میں مسلسل چھوٹے چھوٹے کپ چائے کے پیتے تھے۔ پھر یہ معمول بن گیا۔ ہر روز وہ بزنس سے واپسی پر میرے پاس آتے تھے اور ریلیکس ہو کے دو گھنٹے میں تین کپ چائے کے چڑھا جاتے تھے

انہوں نے مجھے بھی اپنے لیے ترجمے کرنے کی آفر دی۔ ان کو مختلف رسالوں سے 80 روپے صفحہ ملتا تھا۔ میں نے فوراً وہ آفر قبول کرلی اور مجھے بہ آسانی 30 صفحات ترجمہ کرنے کے 1200 روپے ملنے لگے

ایک دن انہیں اداس دیکھ کر میں نے پو چھ لیا کہ خیریت تو ہے
بولے ”یار کاروبار بہت خراب ہے۔ اس سال ہم نے صرف پونے کروڑ کا ایل سی کھولا ہے“

میں بھونچکا رہ گیا۔ پون کروڑ یعنی 75 لاکھ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بد ترین سال تھا۔ مگر وہ غلط تو نہیں بتا رہے تھے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ وہ حساب کتاب کے بغیر بھی مجھے ضرورت پڑنے پر پیسے دینے میں تامل نہیں کرتے تھے

خیر۔ جمیل صاحب کے لیے میری ترجمہ شدہ کہانیاں جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں شایع ہوتی رہیں۔ دو سال گزر گئے

1981 میں ایک دن اچانک مجھے معراج رسول مرحوم کا بلاوا آ گیا۔ اپنے شاہانہ دفتر میں سامنے بٹھا کے انہوں نے کہا۔ ”آپ اچھا ترجمہ کرتے ہیں۔ ہمارے لیے کیوں نہیں لکھتے؟“

میں نے سنبھل کے کہا ”آپ کو معلوم ہے۔“
بولے ”ہاں۔ آپ ش م جمیل کے لیے کام کرتے ہیں“
” وہ برا مانیں گے۔ میرے دوست اور محسن ہیں۔ سمجھیں گے میں نے ان کا پتا کاٹ دیا“ مین نے کہا
معراج صاحب بولے ”میں ان کو بتا دوں گا۔ آپ فکر نہ کریں“

اور یوں میں نے 80 روپے صفحہ پر 30 صفحے ماہانہ لکھنے شروع کیے تو مجھے نہی 0 روپے ملنے لگے، میں ایک دم امیر ہو گیا اس وقت سونا شاید ہزار روپے تولا تھا گویا آج کے حساب سے مجھے چار لاکھ روپے ماہانہ کی پکی آمدنی۔ گاڑی میرے پاس پہلے سے تھی۔

یہاں دو سال بعد معراج رسول نے پھر مجھے سامنے بٹھا کے پوچھا ”کویؑ قسط وار کہانی بھی لکھ سکتے ہیں آپ“
میں نے سوچ کے کہا ”کوشش کر سکتا ہوں“
اور یوں میؑ 1983 میں ”شکاری“ نے جنم لیا
——————————————
( میری سرگزشت ”میں کون ہوں اے ہم نفسو“ کا ایک اقتباس)
***************************

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal