وزیرستان میں ایک اور آپریشن کی بازگشت


گزشتہ جمعے کو وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے 41 ویں اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے میں عوام کے ریلیف کو مرکزی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لئے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ نئے آپریشن کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں وطن عزیز کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے عزم پر تو یقیناً کوئی دو آرا ء نہیں ہیں اور ملک کا ہر شہری بلا تفریق وطن عزیز میں قیام امن چاہتا ہے لیکن اس حوالے سے وطن عزیز کے پسماندہ ترین اور دہشت گردی کے سب سے زیادہ شکار قبائلی اضلاع بالخصوص شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کسی بڑے ممکنہ آپریشن کی جو باز گشت سنائی دے رہی ہے اس پر ملک کے سنجیدہ حلقوں میں بالعموم اور ان دو قبائلی اضلاع میں بالخصوص تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس تشویش کے پیدا ہونے کو اس لئے بھی بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ علاقے پچھلے بیس سال سے نہ صرف حالت جنگ میں رہے ہیں بلکہ یہاں کیے جانے والے آپریشنوں کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی ہے اس کے اثرات مختلف صورتوں میں سامنے آرہے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے عروج کے زمانے سے لے کر یہاں کیے جانے والے درجنوں آپریشنوں اور امن معاہدوں کے نتیجے میں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ عام لوگ ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر بچے، خواتین اور بزرگ شہری ہیں جنہیں اپنے گھر بار چھوڑنے سے لے کر خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑی تھیں۔

یہ وہ غیرت مند، اسلام پسند اور اور محب وطن قبائل ہیں جن کے آباء و اجداد نے نہ صرف پاکستان میں تمام تر اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود غیر مشروط طور پر شمولیت اختیار کی تھی بلکہ یہ قبائل جہاں مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں پیش پیش رہے تھے وہاں یہ پچھلی سات دہائیوں کے دوران پاکستان کی مغربی سرحدوں کے تحفظ کا فریضہ بھی بلا تنخواہ سپاہیوں کے طور پر انجام دیتے رہے ہیں۔ ان قبائل کا ایک اور جرم افغان جہاد میں افغانی مجاہدین کی دامے درمے سخنے قدمے پشتیبانی کے علاوہ لاکھوں افغان مہاجرین کو کھلی بانہوں کے ساتھ اپنے ہاں پناہ دینا تھا جس کی سزا انہیں بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف امریکی قیادت میں لڑی جانے والی نام نہاد جنگ میں ڈرون حملوں، بم دھماکوں اور فوجی آپریشنوں کی شکل میں دی گئی جس کا نتیجہ ایک ایسی نسل کی صورت میں سامنے آیا ہے جس نے نقل مکانی اور کیمپوں میں اذیت ناک زندگی کے ماحول میں پرورش پائی ہے لہٰذا ایسے میں اگر حکومت جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایک نئے آپریشن کی طرف جاتی ہے اور اس آپریشن کے سلسلے میں مقامی قبائل کو اعتماد میں لینے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے تو ایسی کوئی بھی مہم جوئی ملک و قوم کے لئے ایک اور المیے کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

قبائلی اضلاع میں کسی بھی ممکنہ آپریشن پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ قبائلی علاقوں میں ماضی میں جتنے بھی آپریشن کیے گئے ہیں اس کے فوائد کی بجائے زیادہ تر نقصانات ہی سامنے آئے ہیں خاص کر اب جب قبائلی علاقے بندوبستی علاقوں میں ضم ہو کر آئین پاکستان کے تحت آچکے ہیں اور 2018 میں انضمام کے وقت ان سے تعمیر و ترقی او ر خوشحالی کے جو بے شمار وعدے کیے گئے تھے لہٰذا کسی بھی نئی مہم جوئی سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ان وعدوں پر اب تک کتنا عمل درآمد ہوا ہے اور اس عمل درآمد کے نتیجے میں قبائل کی زندگیوں میں کیا اور کتنی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اگر ایسی صورتحال نہیں ہے اور قبائل سے کیے گئے وعدوں میں ایک بھی وعدہ ایفا نہیں ہوا ہے تو امید رکھنی چاہیے کہ متعلقہ ادارے قبائل کے احساس محرومی کا پاس رکھتے ہوئے وہاں پائے جانے والے آتش فشاں کے لاوے کو کسی بھی ممکنہ آپریشن کی صورت میں پھٹنے کا جواز فراہم نہیں کریں گے۔

نیز جیسا کہ سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کی ٹی ٹی پی کے ساتھ سابق حکومت میں بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی کے غیر مشروط مذاکرات کیے گئے اور جس کی آڑ میں بعض دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا لہٰذا توقع ہے کہ حکومت کسی بھی ممکنہ آپریشن سے پہلے ان امور اور اس ضمن میں کوتاہیوں کے مرتکب اداروں اور افراد کے محاسبے کو بھی یقینی بنائے گی۔ دریں اثناء اس ضمن میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کا پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس سے خطاب میں حکومت کو وزیرستان میں کسی بھی ممکنہ آپریشن کے مضمرات سے متعلق انتباہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

واضح رہے کہ مشتاق احمد خان نے اپنی تقریر میں حکومتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وزیرستان میں اس سے پہلے 21 آپریشن اور گیارہ امن معاہدوں کے باوجود امن کا مستقلاً بحال نہ ہونا حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگر حکومت ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے ایک بار پھر آپریشن کا تلخ اور ناپسندیدہ آپشن بروئے کا رلاتی ہے تو قبائل سمیت پوری قوم ایسی کسی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS