آٹے کی آزمائش

شہر میں حصول آٹا کے لیے جو لمبی قطار دیوار چین کا منظر پیش کر رہی تھی میں بھی اس قطار کا حصہ تھا۔ لوگوں میں اس قدر اضطراب تھا گویا پل صراط سے گزر کر جنت میں جانے والے ہوں۔ قریب سے گزرتے ایک حضرت صاحب جن کے ساتھ ان کے دو چار معتقدین بھی تھے، انہوں نے اپنے باریش چہرے پر مخملی ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، اللہ ان لوگوں کو اس آزمائش سے نکالے اور اس امتحان میں انہیں کامیاب کرے۔ کسی اور نے ان کی بات شاید سنی ہو یا سن کر ان سنی کردی ہو لیکن ان کی بات میرے دل پر بجلی کی طرح گری۔ سٹنٹ زدہ دل کو دھچکا لگا۔ میں فوراً قطار سے نکل کر باہر آ گیا اور چلتا چلتا قطار سے دور ہوتا گیا۔
ایک جگہ مجھے درخت نظر آیا میں اس کے نیچے بیٹھ گیا۔ میرے دماغ میں ایک ہی لفظ گھوم رہا تھا۔ آزمائش… آزمائش… آزمائش ۔۔۔ اچانک میرے کانوں میں آواز پڑی۔ او یار حکیما! کیسی آزمائش؟ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ پھر مجھے ہلکی سی مسکراہٹ سنائی دی۔ میں نے غور کیا تو یہ مسکراہٹ بھی میری اپنی تھی اور آنے والی آواز بھی میری اپنی ہی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے میرا ہمزاد مجھ سے مخاطب تھا۔ پھر آواز آئی او یار حکیما! ذرا سوچ کبھی بارش نے برستے ہوئے سوچا ہے کہ آج محل پہ برسوں گی اور جھونپڑی کو آزمائش میں ڈال دوں گی۔ سورج ماڈل ٹاؤن میں بھی ویسے چمکتا ہے اور دھلے میں بھی اس کی چمک ویسی ہی ہے، ہوا جب چلتی ہے تو راستے میں آنے والی ہر چیز کو چھو کر گزرتی ہے، رات کی رانی کو بنی گالہ میں لگا دو یا کچی بستی کے کچے مکان اس کی خوشبو سانجھی ہو گی۔ چینی رائے ونڈ کی ہو یا شاہدرے پنڈ کی، میٹھی ہی ہو گی۔ رات اسلام آباد میں بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی صادق آباد میں ہوتی ہے۔ سمندر کراچی میں کھارا ہے اور دبئی میں بھی کھارا۔
ہر انسان کے کان ایک سا سنتے ہیں، آنکھیں دیکھتی ہیں زبان چکھتی ہے، ناک سونگھتی ہے پاؤں چلتے ہیں ہاتھ کام کاج کرتے ہیں فطرت سب کے لیے سانجھی ہے تو پھر یہ مال و دولت پر آزمائش کیوں؟ امیری غریبی پر ہی امتحان کیوں؟ او میرے یار حکیما! یہ آزمائش نہیں بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ ہے اور ایک بات یاد رکھنا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کرنے والوں کا بس سورج کی روشنی پر نہیں چلتا، چاند کی چاندنی پر نہیں چلتا، خوشبو کو قید نہیں کر سکتے، لاکھ چاہیں مٹھاس کو کڑواہٹ میں نہیں ڈھال سکتے، دن کو چڑھنے سے نہیں روک سکتے اور رات کو آنے سے نہیں روک سکتے۔ اگر یہ لوگ ایسا کر سکتے تو دھوپ صرف بحریہ ٹاؤن کا مقدر ہوتی، بارش گلبرگ یا ماڈل ٹاؤن میں برستی، باد نسیم اسلام آباد کے ریڈ زون میں چلتی، شام گورنر ہاؤس میں ڈھلتی، خوشبو جاتی عمرہ کا طواف کرتی، پھول بنی گالا میں کھلتے، چاند کی چاندنی بلاول ہاؤس کی زینت بنتی، اوس صرف گالف کلبوں پر گرتی، تتلیاں جرنیلوں کے بنگلوں میں کھڑے پھولوں تک محدود رہتیں، برفباری بیوروکریٹس کی کنالوں پر محیط رہائش گاہوں پر ہی پڑتی، مٹھاس فقط حضرت صاحب کے حجرے تک محدود رہتی لیکن میرے یار حکیما! ایسا نہیں کیونکہ ذخیرہ اندوز ان سب چیزوں کا ذخیرہ کرنے سے قاصر ہیں۔ سرمایہ دار ان پر اپنا سرمایہ نہیں لگا سکتے۔ ان سب کے بس میں پیسہ ہے، مال و دولت ہے جس کی بدولت یہ دین و دنیا میں اپنا مقام بنائے پھرتے ہیں۔ اٹھو تم بھی ہمت کرو، ذہن لڑاؤ، کوئی ترکیب سوچو، کیسے مال کمایا جائے؟ کیسے زندگی کو سہولیات سے مزین کیا جائے؟ کیسے بچوں کو اچھا طرز زندگی دیا جا سکے؟
یک دم آواز رک گئی۔ قہقہہ بلند ہوا۔ پھر آواز آئی، او بدھو! تم تو منہ اندھیرے سے قطار میں کھڑے تھے۔ تمہارا آٹا؟
آٹے کا سنتے ہی میرا رنگ اڑ گیا اور میں نے قطار کی طرف دوڑ لگا دی۔ میری جگہ کوئی اور لے چکا تھا جو لوگ میرے آس پاس کھڑے تھے وہ مجھے پہچان ہی نہیں رہے تھے۔ !


لاجواب ، بہت اچھی تحریر ہے