مقدس تہوار اور ہماری منافقت
سال بھر ٹی وی اور کانسرٹ میں ناچتے گاتے فنکار وقت اور تہوار کے ساتھ اپنی کینچلی بدل لیتے ہیں۔ رمضان میں میرا ہوں کہ مطیرہ سب دین کے بھاشن دینے لگتے ہیں کچھ تو خاص طور پر سیزن لگانے پاکستان آتے ہیں۔ نعتیں پڑھتے اور ٹی وی پر سج دھج کے رنگ برنگی پگڑی اور مختلف تراش کی داڑھیوں والے ”علماء“ کے درمیان بڑے اسٹائل سے سر پر دوپٹہ سجائے کہ ہیئر اسٹائل بھی نظر آئے بیٹھی دینی امور پر گفتگو فرماتی نظر آتی ہیں۔ اسی طرح مرد فنکار بھی قوم کو نجات کے راستے پر لگانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بادامی صاحب ہیں وہ بادام کی طرح اپنے اصل چھلکے سے باہر آ کر عالیشان سیٹ پر مولویوں کے جھرمٹ میں دینی موضوعات پر ”سیر حاصل“ تقریر اور ہدایت کی راہ دکھانے کے بعد شاندار افطار جو کسی لال شربت والے کی جانب سے ہوتی ہے کے بعد نوٹوں سے اپنی جیب بھر کر دوسرے سیٹ پر چلے جاتے ہیں۔
ایک اور شعبدے باز جیتو پاکستان کے نام پر جس خاتون کو چاہے سب کے سامنے اپنی بانہوں میں بھر لیتا ہے اور اس کے شوہر یا بھائی بے غیرتی سے دانت نکالے ہنس رہے ہوتے ہیں کہ شاید موٹر سائیکل مل جائے۔
سہ پہر کو مختلف خواتین اور مرد پکوڑے سے لے کر بریانی تک ہر قسم کے کھانے پکانے کے مختلف طریقے بتا رہی ہوتی یا ہوتے ہیں۔
یہی ہماری منافقت ہے کہ ہم نہ دین کے رہے نہ دنیا کے۔ ہر شخص دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے اور بے چاری قوم ان بہروپیوں کے سحر میں مبتلا ان شعبدے بازوں کو سر پر بٹھا لیتی ہے۔
یہاں ہر چیز بک رہی ہے رمضان کے مقدس مہینے سے لے کر ماہ محرم کے تقدس تک۔ ہر تہوار کے الگ الگ فنکار ہیں اور اکثر تو دونوں سیزن میں لباس بدل کر مال بٹور رہے ہوتے ہیں۔
کارپوریٹ اور مارکیٹنگ کلچر نے ہر چیز کو پروڈکٹ بنا دیا ہے۔ ہر تہوار بک رہا ہے خریدار بہت ہیں بس بیچنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔ یہ سب نوٹنکی سجا کر کروڑوں روپے منافع کما کر مالکان اور فنکار اپنی عاقبت سنوارنے آخری عشرہ بیت اللہ میں لگا لیتے ہیں اور عمرے کی ”سعادت“ حاصل کر کے واپس تشریف لاتے ہیں اور پھر تازہ دم ہو کر اگلے سیزن / تہوار کی تیاری میں لگ جاتے۔ قوم کو مذہبی افیون کا ایک اور ٹیکا پہلے سے زیادہ ڈوز کا دینے کے لیے اور ”قوم“ اسی کی منتظر رہتی ہے۔
لگے رہو منا بھائی۔ قوم کو جہالت سے نہ نکلنے دینا ورنہ تمھاری دکانیں بند ہو جائیں گی ان کے جہل ہی میں تمھاری بقا ہے۔


