توہین پارلیمان پہ بھی سزا کا قانون بنانا چاہیے
پاکستان کے آئین نے عدلیہ اور مقننہ کی آئینی حدود و اختیارات کا تعین پہلے سے ہی کیا ہوا ہے۔ پارلیمان سپریم ادارہ ہے جو سپریم کورٹ سمیت تمام آئینی اداروں کی قانونی آئینی تشکیل کی وجہ ہے۔ آئین میں اداروں کی آئینی قانونی حدود متعین ہیں۔ سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات کا بھی تعین موجود ہے۔ پاکستان اپنی آزادی سے لے کر آج تک فوجی اور عدالتی آمریت کے سائے میں پروان چڑھا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس دو رخی آمریت کے مہیب و منحوس سائے ملک پہ گہرے ہوتے چلے گئے۔
جنرل پرویز مشرف کی اقتدار سے بے دخلی تک فوجی مداخلت کھلے عام جاری رہی مگر جنرل مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف، قمر جاوید باجوہ آئی ایس آئی کے چیفس جنرل شجاع پاشا، ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمید جمہوریت کی چھتری میں چھپ کر اپنے اندھے ناجائز و غیر آئینی اختیارات کو بے دریغ استعمال کرتے اور منتخب حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے اور ملک کو ایک ایسی عفریت کے ہاتھوں میں سونپ دیا جو اب ناسور بن کر پاکستان کے معاشرے، سیاست، معیشت اور جمہور ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔
اسی دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ان چند طاقتور لوگوں نے اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر عدالتی آمریت کو نہ صرف عروج بخشا بلکہ اسے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ فوجی آمروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے منصفوں کو وہ آئین ایک آنکھ نہیں بھاتا جس آئین کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں میں بیٹھ کر سرکاری تنخواہیں اور مراعات بھی لیتے ہیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز اور ظالمانہ استعمال بھی کرتے ہیں۔
جنرل مشرف کے پی سی او کے تحت حلف لینے والے اور ایل ایف او کو عدالتی تحفظ دینے والے چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور سے عدالتی آمریت کا ایک نیا ہی روپ نظر آیا۔ عدالتی اختیارات کا ایسا بے رحمانہ استعمال اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا۔ افتخار چودھری صبح اٹھتے ہی ایک منتخب آئینی جمہوری حکومت کے خلاف سوموٹو ایکشن لیتے اور حکومت کو زچ کر کے ملک کی معاشی ترقی کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کرتے۔ ریکوڈیک منصوبے پہ لیا گیا سوموٹو ایکشن اور اس کیس کا فیصلے کے مضمرات پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔
اسی ظالمانہ غیر آئینی اور غیر منصفانہ عدالتی اختیارات کے استعمال کو عروج سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار پھر جسٹس گلزار نے دیا اور اب اسے دوام بخشا جا رہا ہے۔ ان عدالتی آمریت کے پروردہ اشخاص کی ذاتی خواہشات، مفادات اور صوابدیدی اختیارات کے غیر آئینی اور غیر قانونی استعمال کی قیمت پاکستان کی سیاست، آئین و قانون اور معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
لمحہ موجود میں چیف جسٹس کے آئینی طور پہ حاصل اختیارات کے بے دریغ استعمال کو نئی جہت دی جا رہی ہے۔ کھل کر ریاست کے انتظامی معاملات میں مداخلت بھی ہو رہی ہے اور ریاست کو چتاونی بھی دی جاتی ہے کہ ان کے فیصلے چاہے وہ متنازع ہوں، غیر منصفانہ ہوں، آپ کو پسند ہوں یا نہ ہوں، آئینی تقاضوں، انصاف کے ضابطوں کے مطابق ہوں یا برخلاف، آپ کو قبول کرنے پڑیں گے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جس کی تعیناتی کا آئینی اور قانونی اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے جو ڈیپوٹیشن پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی حیثیت سے تعینات ہیں کو جب وفاقی کابینہ متفقہ فیصلہ کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کا حکم دیتی ہے تو چیف جسٹس صاحب وفاق کے اس آئینی انتظامی اختیار میں مداخلت کر کے 22 گریڈ کے ایک افسر کو اپنی پسند و خواہشات کے مطابق کوئی بھی فیصلہ قبول نہ کرنے اور ریاست کو ٹھینگا دکھانے کی راہ دکھا دیتے ہیں، رجسٹرار سپریم کورٹ کو اپنے احکامات کے بغیر چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔
حکومت نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے بینچز بنانے اور سوموٹو ایکشن لینے کے صوابدیدی اختیارات کو سپریم کورٹ کے تین سینیئر موسٹ ججوں کی مشاورت سے کرنے کا قانون پاس کیا جو صدر مملکت کی منظوری کے لیے گیا جس پر صدر مملکت جو ایک سیاسی جماعت کے لئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہے ہیں نے وہ بل اعتراض لگا کر بنا دستخط کیے پارلیمان کو واپس بھجوا دیا جس پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک بار پھر مروجہ آئینی قانونی طریقہ استعمال کر کے حکومت نے وہ وہ بل اکثریت رائے سے منظور کر کے واپس صدر کو بھجوا دیا اب صدر اگر دس دن کے اندر اس پہ دستخط نہیں کرتے تو یہ بل از خود قانون بن کر آئین کی کتاب میں درج ہو جائے گا۔
مگر ابھی مذکورہ بل قانونی شکل ہی اختیار نہیں کر سکا ہے تو چیف جسٹس صاحب نے ایک فرمائشی پٹیشن پہ فوری طور ایک آٹھ رکنی بینچ تشکیل دے کر اس پٹیشن کو فوری سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ بینچ میں اپنے علاوہ وہ جج شامل کیے جن میں سے تین کے خلاف کرپشن، مس کنڈکٹ سمیت کئی الزامات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی چار جج سپریم کورٹ کے جونیئر موسٹ ججز اور چیف جسٹس صاحب کے حلقہ اثر میں شامل ججز شمار ہوتے ہیں۔ اس بینچ کی تشکیل ایک ایسے کیس کے لیے کی گئی ہے جو ابھی کیس ہے ہی نہیں، یعنی جرم ہوا ہی نہیں اور ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی، قتل ہوا ہی نہیں، قتل کا مقدمہ سننے کے لیے عدالت لگ چکی۔
اس ساری عجلت اس ہڑبونگ میں چیف جسٹس صاحب کی ریاست سے ٹکراؤ کی خواہش واضح نظر آ رہی ہے۔ چیف جسٹس ایک شخص کے اقتدار کی بھوک مٹانے کے لیے ملک کی سیاست، آئین، جمہوریت اور معیشت کو ملیامیٹ کرنے کے درپے ہیں۔ چیف جسٹس کی مہم جوئی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات پہ بھی انتہائی منفی اثرات ڈال رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس کے کیا نتائج نکلیں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا
ایسی صورتحال میں اب حکومت کو بھی چاہیے کہ قانون سازی میں تیزی لاتے ہوئے آئین ساز ادارے یعنی پارلیمان کے اختیارات میں بے جا مداخلت پہ بھی سخت قانون بنا کر طالع آزما قوتوں اور طاقت و اختیار کے نشے میں چور افراد کو جواب دہ ٹھہرانے کا بندوبست کرے۔ پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت آئین شکنی اور سنگین غداری قرار دے تاکہ صوابدیدی اختیارات کے اندھے اور غیر منصفانہ جابرانہ استعمال کو روکا جا سکے۔ یہ قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ جس پارلیمان اور جس آئین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کر کے کوئی بھی ایک شخص یا ادارہ اپنی ذاتی خواہشات کے لیے پورے سسٹم کو یرغمال بنانے کی کوشش کرے تو اسے نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔


