موسم بہار میں سفارتی ہوا

حالیہ ہفتوں میں چین کے صدر شی جن پھنگ نے غیر ملکی رہنماؤں کے ایک گروپ کی میزبانی کی ہے۔ دوستانہ مصافحے، وسیع تر اتفاق رائے اور نتیجہ خیز نتائج کے ساتھ، اس موسم بہار میں بیجنگ کی گہری سفارتی مہم نے عالمی برادری کو بات چیت، امن اور تعاون کا ایک واضح اور حوصلہ افزا پیغام بھیجا ہے، جو بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور خطرات سے دوچار دنیا کے لئے انتہائی اہم ہے۔
مارچ کے اواخر سے اپریل کے اوائل تک اسپین، ملائیشیا، سنگاپور، فرانس اور یورپی یونین (ای یو) کے رہنماؤں نے چین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مستحکم کرنے کے لیے بیجنگ کا دورہ کیا۔ ملائشیا اور سنگاپور چین کے ہمسایہ ممالک اور جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (آسیان) کے اہم رکن ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں سنگاپور چین کی اصلاحات اور کھلے پن میں سب سے زیادہ شریک رہا ہے اور اس کے مفادات چین کے ساتھ سب سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔
سنگاپور کے وزیر اعظم لی سین لونگ مارچ میں چین کے سالانہ ”دو اجلاسوں“ کے اختتام کے بعد چین کا دورہ کرنے والے غیر ملکی حکومتوں کے پہلے سربراہان میں شامل تھے۔ لی کے چین کے دورے کے دوران، جو انہیں گوانگچو، بواؤ اور بیجنگ لے گیا، دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو ہمہ جہت اعلی معیار کی مستقبل پر مبنی شراکت داری تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔
چین اور ملائشیا کے درمیان دیرینہ دوستی ہے۔ کئی سالوں سے دونوں فریقین نے اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کیا ہے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ملائیشیا برادری کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔
ایشیا کے علاوہ چین یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی بہت اہمیت دیتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی دو بڑی قوتیں، بڑی منڈیاں اور عظیم تہذیبیں ہیں۔ مارچ کے اواخر میں ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے دورہ چین کے فوراً بعد جمعرات کو بیجنگ میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن کا شی جن پھنگ نے استقبال کیا۔ یہ دورے ظاہر کرتے ہیں کہ چین اور یورپ بات چیت اور تعلقات کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
شی اور میکرون کے درمیان دوستانہ بات چیت کے دوران فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور فرانس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور آزادی کی روایت رکھنے والے بڑے ممالک کی حیثیت سے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی مجموعی سمت کو برقرار رکھنا چاہیے جو مستحکم، باہمی فائدہ مند، کاروباری اور متحرک ہو اور چین یورپ تعلقات میں نئی روح پھونکے۔
بیجنگ کا مصروف سفارتی ایجنڈا ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت مسلسل افراط زر اور سست نمو کے تخمینوں کے ساتھ مایوسی سے دوچار ہے۔
حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی بوآؤ فورم فار ایشیا کی سالانہ کانفرنس 2023 سے لے کر تیسری چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پروڈکٹس ایکسپو تک، چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ معیار کی اوپننگ کی جستجو سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ چین نے عالمی معیشت کی بحالی اور تحفظ پسندی کی لہروں کے درمیان عالمی سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف راغب کیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے چائنا ڈیولپمنٹ فورم 2023 میں کہا کہ تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ چین کی جی ڈی پی نمو میں 1 فیصد پوائنٹ کا اضافہ دیگر ایشیائی معیشتوں میں ترقی میں 0.3 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی شرح نمو میں کمی اور بین الاقوامی تجارت میں سست روی کی وجہ سے معاشی بحران اب بھی دنیا کے بہت سے ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔ ان چیلنجز نے دنیا کے کئی ممالک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ چین دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مثبت شرح نمو برقرار رکھی۔
ایشیا میں علاقائی اقتصادی انضمام گزشتہ برسوں کے دوران مضبوط ہوا ہے، علاقائی معیشتوں کے مابین تجارتی انحصار نسبتاً اعلی سطح پر کھڑا ہے اور آسیان اور چین تجارت اور مینوفیکچرنگ کے مراکز کے طور پر باقی ہیں۔ چین کی جانب سے اعلیٰ معیار کے کھلے پن اور چینی جدید کاری کی غیر متزلزل کوششوں سے دوسرے ممالک کی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
چونکہ اس سال چین اور یورپی یونین کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی 20 ویں سالگرہ ہے، یورپی کاروباری ادارے چین کے ساتھ وسیع تر عملی تعاون کے مزید مواقعوں کی تلاش میں ہیں۔
2022 میں، چین۔ یورپی یونین تجارتی اور معاشی تعاون لچکدار اور متحرک رہا، اور اعلی سطحی مذاکرات نے چین۔ یورپی یونین تجارت اور اقتصادی تعاون کے لئے راستہ طے کیا۔ چین اور یورپی یونین کے درمیان سامان کی مجموعی دوطرفہ تجارت کی مالیت 821.24 بلین امریکی ڈالر رہی جو سال بہ سال 5.6 فیصد زیادہ ہے۔
چین کے دورے کے دوران میکرون کے ہمراہ ایک مضبوط کاروباری وفد بھی تھا جس میں یورپی طیارہ ساز کمپنی ائربس، لگژری کمپنی ایل وی ایم ایچ اور فرانس کی سب سے بڑی بجلی کمپنی ای ڈی ایف شامل تھیں۔
میکرون نے شی اور وان ڈیر لیئن کے ساتھ سہ فریقی اجلاس میں کہا کہ یورپی یونین اور چین کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ اقتصادی تقسیم اور سپلائی چین کو منقطع کرنے کے جال سے دور رہیں، باہمی فائدہ مند تعاون کو مساوی بنیادوں پر آگے بڑھائیں، موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی چیلنجوں سے نمٹیں اور یورپی یونین اور چین کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم رکھیں۔
36 چینی اور فرانسیسی کاروباری اداروں نے مینوفیکچرنگ، گرین ڈیولپمنٹ، نئی توانائی اور جدت طرازی سمیت شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 18 معاہدوں پر دستخط کیے۔
ائربس اور اس کے چینی شراکت داروں نے شمالی چین کے شہر تیانجن میں اپنی سائٹ پر دوسری لائن کے ساتھ اپنی اے 320 فیملی فائنل اسمبلی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ نئی اسمبلی لائن ائربس کے عالمی پیداواری نیٹ ورک کے ذریعے 2026 تک ہر ماہ 75 اے 320 فیملی طیارے تیار کرنے کے ہدف میں حصہ ڈالے گی۔
سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے بیجنگ کے وسیع دورے کرنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ”چین عالمی معاشی استحکام کا ایک اہم معاون اور اینکر ہے اور چین نے ایشیا بحرالکاہل کے خطے اور بڑے پیمانے پر دنیا کے لئے ایک ہم آہنگ ترقی کا ماحول پیدا کیا ہے، اور گلوبلائزیشن اور عالمی تجارت کو فروغ دیا ہے، جس کی آج کل دنیا کو ضرورت ہے۔

