اردو ادب کے تحفظ و نشو و نما میں اردو نصابات و درسی کتب کا کردار


قدیم سے قدیم اور تناور سے تناور درخت کی بقا تب تک ہی ہے جب تک کہ وہ اپنی جڑوں سے منسلک ہے، جب اسے اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے تو جیسا چاہا جاتا ہے ویسا من چاہا کام اس سے لے لیا جاتا ہے۔ اسے مختلف شکلوں میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ مختلف اشیا تو وجود پاتی ہیں، مگر اب اس درخت میں وہ جان باقی نہیں رہتی جس کی وجہ سے یہ ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا، اپنے پھل پھول سے نواز رہا تھا۔ گویا! اب اس کی ذاتی شناخت کچھ نہ رہی۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے اور پھل پھول سے نوازنے کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

یہی معاملہ ’اردو ادب‘ کا بھی ہوجاتا، مگر جسے خدا رکھے! کیوں کہ ’شجر اردو‘ پر بھی کئی بار کلہاڑے چلائے گئے، مگر یہ اپنی لچک دار فطرت کے سبب دیگر زبانوں کے الفاظ کو بھی خوش آمدید کہتا رہا اور مزید نکھرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں ’اردو کا شمار صف اول کی زبانوں میں کیا جاتا ہے۔ سازشیں ہوں یا فتنے، اٹھے اور جھاگ کی مانند بیٹھ گئے۔ تاحال‘ اردو ادب ’منظوم و منثور اصناف میں ہمیں میسر ہے، اردو ادب کے خزانے اور ذخائر معیار کا پیمانہ ہیں، جنھیں پیش نظر رکھتے ہوئے خوب سے خوب تر‘ ادب ’تخلیق پاتا ہے، کیوں کہ اکابرین کی تخلیقات مشعل راہ کی صورت میں راہ نمائی کرتی ہیں۔

اردو زبان سیکھنے سکھانے کے حوالے سے درسی کتب میں ’اردو ادب‘ ہمیشہ ہی راہ بر و راہ نما رہا ہے۔ آج سے تقریباً دو صدیوں پہلے اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں سے دیکھیں تو ہمیں سنہ 1800 ء میں ’فورٹ ولیم کالج‘ کا قیام نظر آتا ہے، جس کا مقصد انگلستان سے مقرر ہو کر ہندوستان آنے والے عہدے داران کو اردو زبان سکھانا تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے بھی اردو زبان کے ماہرین سے ان بہت سی فارسی تخلیقات کے اردو زبان میں تراجم کرائے گئے جن کے ذریعے زبان سیکھنے کا مقصد (مشن) تو پورا ہوا ہی اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہندوستان کے تہذیب و تمدن سے بھی آشنائی ہو جائے۔ فورٹ ولیم کالج کی جانب سے مرتب کتب و تراجم میں بہت سی تخلیقات آج بھی آسمان اردو پر ستاروں کی مانند جگمگا رہی ہیں جن میں میر امن کی ’باغ و بہار‘ ادبی حلقوں میں زبان زد عام ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بھی جب کبھی بہ غرض اردو تدریس ’اردو نصاب‘ ترتیب دیا گیا تو اس میں ’اردو ادب‘ کو سپاہ سالار بنایا گیا۔ ’مقاصد تدریس اردو‘ میں جا بہ جا اس نکتے کو واضح کیا جاتا رہا ہے کہ اردو کی تدریس میں ’اردو ادب‘ کو خاص اہمیت دی جائے، اردو ادب سے لگاؤ رہے، اردو زبان کی ابتدا اور ارتقا سے آشنا ہوں، اردو ادب سے استفادہ کریں، مشاہیر ادب سے شناسائی رہے وغیرہ وغیرہ۔

اصناف سخن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اردو زبان کی درس و تدریس کے حوالے سے ترتیب دی جانے والی درسی کتب میں بنیادی درجوں سے ہی نظم کو شامل کیا گیا تاکہ بچے محظوظ ہوتے ہوئے اردو زبان سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔ کیوں کہ شعر اپنے الفاظ کی ترکیب و ترتیب کے اعتبار سے وہ ترنم پیدا کرتا ہے جو سحر طاری رکھتا ہے اور حافظے میں محفوظ رہتا ہے۔ رہی بات زبان کی فصاحت و بلاغت کی تو نظم اس اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔

پہلی سے آٹھویں جماعت تک پاکستانی طلبہ اپنی قومی زبان ’اردو‘ سیکھنے کے بنیادی و کلیدی مراحل طے کرچکے ہوتے ہیں اور اب آگے کی منازل نظر آتی ہیں جن تک رسائی کے لیے راہ متعین کی جاتی ہے۔ ثانوی و اعلی ثانوی جماعتوں اور اس سے بھی آگے کی درسی کتب میں بالخصوص ’اردو ادب‘ کی ان تخلیقات کو شامل کیا جاتا ہے جو کہ اردو ادب کی ترقی و نشو و نما میں ہمیشہ سے ہی راہ نما رہی ہیں۔ یعنی اردو زبان کی تدریس میں ’اردو ادب‘ اک بیڑا ہے اور اس بیڑے کے ناخدا قدیم و جدید تخلیق کار رہے۔

مثلا: شاعری میں امیر خسرو، میر درد، میر تقی میرؔ اور مرزا اسد اللہ خان غالب کی انگلی تھام کر چلا جاتا ہے اور پھر انھی راستوں پر سے اقبال و فیض جیسے عہد ساز شعرا کا دامن تھام لیا جاتا اور پھر انھیں کے معتقدین کے قافلے میں شامل ہو کر منزل تک رسائی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ مزید برآں نثر میں ملا وجہی سے بات شروع ہو کر اردو کے عناصر خمسہ سرسید، ڈپٹی نذیر، حالیؔ، آزاد اور شبلی ’سے فیضان لیتے ہوئے آغا حشر، منشی پریم اور پھر مولوی عبد الحق کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے انھیں کے ہمراہیوں کے قدم سے قدم ملاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر ان اکابرین کی عظمت کو فراموش کر کے کم فہمی و کم ظرفی کا ثبوت دیا جاتا تو ہمارے ماہرین تعلیم ؍ اردو نصاب مرتبین، ہم (پاکستانی طلبہ) اور ہماری قومی زبان اردو ذیل میں موجود کہاوت کے مصداق بن جاتی:

” ہوا یوں کہ ایک شخص نے کھیر پکائی۔ اس نے سوچا کہ اللہ کے نام پر کسی فقیر کو بھی کھلانی چاہیے۔ اسی نیت کے تحت یہ شخص جس پہلے فقیر کے پاس اپنی کھیر لے کر گیا اتفاق سے وہ نابینا تھا اور اس فقیر نے کھیر کبھی نہیں کھائی تھی۔ اس شخص نے فقیر سے کہا:“ یہ لو کھیر کھاؤ۔ ”تو فقیر نے سوال کیا:“ کھیر کیسی ہوتی ہے؟ ”اس پر اس شخص نے جواب دیا:“ سفید ہوتی ہے۔ ”اندھے نے سفید رنگ بھلا کہاں دیکھا تھا۔ پوچھنے لگا:“ سفید رنگ کیسا ہوتا ہے؟

”اس شخص نے کہا:“ بگلے جیسا۔ ”فقیر نے پوچھا:“ بگلا کیسا ہوتا ہے؟ ”اس پر اس شخص نے ہاتھ اٹھایا اور انگلیوں اور ہتھیلی کو ٹیڑھا کر کے بگلے کی گردن کی طرح بنایا اور بولا:“ بگلا ایسا ہوتا ہے۔ ”نابینا فقیر نے اپنے ہاتھ سے اس شخص کے ہاتھ کو ٹٹولا اور کہنے لگا:“ نہ بابا نہ! یہ تو ٹیڑھی کھیر ہے۔ یہ گلے میں اٹک جائے گی۔ میں یہ کھیر نہیں کھا سکتا۔ ”

کہاوت تو یہاں ختم ہوجاتی ہے، مگر اس کا نتیجہ یہی سمجھ آتا ہے کہ اس شخص نے اپنی پکائی ہوئی کھیر فقیر کو کھلانے کی نیت سے رجوع کر لیا ہو گا اور فقیر بے چارے محروم ہی رہے ہوں گے اور اس شخص نے ساری کھیر خود ہی جیسے تیسے کھا کر سوارتھ کی ہوگی۔ نیز آئندہ سے اس ثواب کو پانے کے خیال سے توبہ کر لی ہوگی۔ خاکم بہ دہن! یوں کھیر پکانے والے کی شباہت ہمارے ماہرین تعلیم و اساتذہ میں نظر آتی، ہمارے طلبہ اس فقیر کی مثل ٹھہرتے اور اردو بے چاری ایسی ہی کھیر بن کر رہ جاتی۔

شکر خدا کا کہ ہمارے ماہرین تعلیم ؍ اردو نصاب مرتیبن ہمیشہ سے ذہین و فہیم و باذوق و محب وطن رہے ہیں اس لیے ’قومی زبان اردو‘ آج تک ہمارے ملک میں اپنا فیضان لٹا رہی ہے۔ نہ صرف ہمارے ملک پاکستان میں بلکہ جہاں بھر میں اپنی کرشمہ سازیوں کی سحر انگیزیوں میں گرفتار کر رکھا ہے۔ یہاں داغ دہلوی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے :

؎ اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

داغؔ دہلوی صاحب کی روح سے مخاطب ہوتے ہوئے عرض ہے : ”حضرت! اردو زباں کی دھوم اب فقط ’ہندوستاں‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ زباں اب ’جہاں‘ میں دھوم مچا رہی ہے، اس مصرعہ ثانی میں یوں ترمیم کر دیجیے ’سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے‘ ۔“

Facebook Comments HS