قبل مسیح کا منڈی بہا الدین


خطہ منڈی بہاوالدین 300 قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی تک بیکٹریا یا یونا کا علاقہ۔

منڈی بہا الدین کا خطہ ایک تاریخی اور قدیمی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطہ پر موجود مختلف تباہ شدہ ٹیلے اس کی تاریخی حیثیت کی گہرائیوں تک لے جاتے ہیں۔ ذیل میں درج باتوں کا تعلق باقی علاقوں کے ساتھ ساتھ منڈی بہا الدین کے علاقے سے بھی ہے۔

بر صغیر میں سکندر اعظم کی آمد کے بعد بہت ساری یونانی ریاستیں قائم ہوئیں
ان ریاستوں کو یونانی بادشاہوں کی حکومت کے دوران 300 قبل مسیح سے لے کے 1 صدی عیسوی عیسوی تک، بھارت کے باشندوں کے لئے ”یونانی راج“ کہا جاتا تھا۔ ”یونانی“ لفظ کی بنیاد سنسکرت لفظ ”یونا“ سے نکلی ہے جو یونانیوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

یونانی ریاستیں سکندر اعظم کی تاریخی جنگ کے بعد بنائی گئیں جب وہ ایرانی سلطنت کو فتح کر کے اس کی سلطنت کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور سکندر اعظم نے ان حصوں پر اپنے وفادار سپہ سالار تعینات کر دیے۔ وسط ایشیا اور شمالی بھارت میں بھی یونانی ریاستیں آباد تھیں۔ ان میں خاص بات یہ تھی کہ یہ لوگ علم نجوم، ریاضی دان، طب و جراحت کے بارے میں جدید ترین مہارت رکھتے تھے۔

ہندوستانی علاقوں میں سب سے مشہور یونانی ریاست بکٹریا کی یونانی ریاست تھی جو تیسری صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کے سپہ سالار سیلیوکس کے زیر انتظام قائم ہوئی۔ بکڑیا کے یونانیوں نے ایک وسیع خطہ پر حکومت کی جو افغانستان، پاکستان اور شمالی بھارت کو شامل کرتا تھا۔ ان کا سکہ جس پر ان کے بادشاہوں کی تصاویر تھیں اور اکثر یونانی خداؤں کی تصاویر بھی پائی گئیں تھیں

لیکن یونانی ریاستیں اندرونی تنازعات اور دیگر ریاستوں کے بیرونی دباؤ کے باعث زوال پذیر ہو گئیں۔ بھارت کی دیگر ریاستوں جیسے موریا سلطنت کے خلاف کشان امپائر نبردآزما ہوئی۔

یونانی ریاستیں تجارت پر اجارہ داری قائم رکھے ہوئے تھیں۔ ان ریاستوں کا بھارتی ریاست جو ابھی ہمالیہ، اتر کنڈ، اتر پردیش نیپال کے علاقوں پر مشتمل ہے کنندا سلطنت کے تجارتی تعلقات مثالی تھے۔ جس کے اکثر ثبوت منڈی بہا الدین سے ملے ہیں۔

یہ لوگ ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے گہرے تعلقات رکھتے تھے یونا یا بیکٹریا کے لوگوں نے مقامی رسوم و رواجات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا تاہم کچھ نا کچھ مقامی اثرات ان پر اثر انداز ہو گئے اور اسی طرح یونانی فن تعمیر پر ہندوستانی فن تعمیر کا بھی بڑا گہرا اثر پڑا۔

البتہ، یونانی ریاستیں اندرونی تنازعات اور دیگر ریاستوں، مانند موریا ریاست، کے بیرونی دباؤ کے باعث دھیرے دھیرے ختم ہوئیں۔ بھارت میں آخری یونانی ریاست انڈو۔ یونانی ریاست تھی جو پہلی صدی عیسوی میں کشان کی آمد کے بعد ختم ہوئی پھر یہ خطہ منڈی بہا الدین ایک اور ترقی کے زینے پر قدم رکھ رہا تھا۔

Facebook Comments HS