فرد جرم کیا ہوتا ہے؟

ہم آئے دن اخباروں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا میں دیکھتے اور سنتے چلے آرہے ہیں کہ فلاں پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے اگلی پیشی دے دی گئی یا فلاں لیڈر پر فرد جرم عائد کیا گیا اور ملزم نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔
فرد جرم بنیادی طور پر وہ فرد یا وہ لکھت ہوتی ہے جو متعلقہ جج سماعت کے دوران ملزم کو اپنے نام کے ساتھ خود پڑھ کر سناتا ہے کہ میں بطور جج آپ پر یہ فرد جرم عائد کر رہا ہوں کہ آپ پر الزام ہے کہ فلاں تاریخ کو آپ اور آپ کے ساتھ فلاں نے اتنے بجے فلاں جگہ پر ایک بندے سے اسلحہ کے زور پر ٹچ موبائل فون سفید رنگ کا جس کا آئی ایم ای آئی نمبر فلاں اور سم نمبر فلاں ہے اور ان سے ایک عدد والٹ برنگ براؤن جس میں پانچ ہزار روپے پڑے ہوئے تھے بھی چھین کر فرار ہو گئے تھے۔ آپ کا کیا کہنا ہے؟ آپ کو یہ جرم قبول ہے؟ یہ یا اس طرح کا کوئی بھی واقعہ یا انسیڈینٹ ہو سکتا ہے۔
اگر ملزم یہ جرم قبول کرتا ہے جسے قانون اصطلاح میں قبولیت جرم یا پلیڈ گلٹی کہا جاتا ہے تو پھر مزید کیس کو ٹرائل یا سماعت کے لئے نہیں رکھا جاتا ہے اور ملزم کو اس جرم کی نوعیت کے مطابق عدالت سزا تجویز کرتی ہے لیکن اگر ملزم صحت جرم سے سے انکار کرتا ہے اور جرم قبول نہیں کرتا ہے تو پلی پر سائن کر کے عدالت کیس کو اگے پروسیڈنگ یا سماعت کے لئے رکھتی ہے اور کیس کی سماعت کے لئے اگلی پیشی گواہان کو طلب کرنے کے لئے رکھ دی جاتی ہے۔
فرد جرم کوئی بھی عدالت خود سے تخلیق کر کے نہیں عائد کرتی ہے بلکہ کسی بھی کریمینل کیس کی ابتدا ایف آئی آر یا ابتدائی اطلاعی رپورٹ سے ہوتی ہے۔ جو ضابطہ فوجداری کے دفعہ ایک سو چون کے تحت درج کی جاتی ہے اور اس میں جرم سے متعلق تفصیل درج ہوتی ہے۔ جس پر ملزم پکڑا جاتا ہے قبل از گرفتاری یا مابعد گرفتاری ضمانت لیتا ہے یا پھر کسی کی نہ قبل از گرفتاری ہوتی ہے اور نہ بعد از گرفتاری ضمانت ہوتی ہے لیکن کیس کی پروسیڈنگ کا ہونا گرفتاری کے بعد لازمی ہے۔
اور فرد جرم کے یہ الفاظ ایف آئی آر اور چالان کا مجموعہ ہوتا ہے جو کاپی سپلائی کے بعد ملزم کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔
عام لوگ فرد جرم یا میڈیا میں اس لفظ کو گلیمرائزڈ کر کے پیش کرنے کے بعد یوں سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی کارروائی کا سٹیج ہوتا ہے کہ پتہ نہیں ملزم کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بعض اوقات وہ وکلاء جو کریمینل وکالت نہیں کرتے وہ بھی اس سٹیج پر متزلزل ہو جاتے ہیں جیسے کہ پرویز مشرف کے کیس میں ان کے وکلاء نے ان کے ساتھ کیا تھا لیکن پھر ان کو کسی نے مشورہ دیا کہ کسی کریمینل لائر کو انگیج کریں اور جب الیاس خان اینڈ کمپنی کو انگیج کیا تو بات بن گئی فرد جرم بھی عائد ہو گیا صحت جرم سے انکار بھی ہوا۔ کیس بھی چلا اور پرویز مشرف باہر بھی چلے گئے۔
فرد جرم کو انگریزی میں فارمل فریمنگ آف چارج کہا جاتا ہے۔ جو مجسٹریٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ دو سو اکتالیس میں فریم ہوتا ہے۔ جبکہ کورٹ آف سیشن میں ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ دو سو پینسٹھ ڈی میں فریم کیا جاتا ہے۔
کسی بھی کریمینل کیس میں سزا جزا کا دار و مدار اسی چارج پر کیا جاتا ہے جیسے کہ سول یا دیوانی کیس میں ایشو فریمنگ کی بنیاد پر کیس کا دار و مدار ہوتا ہے۔
چارج جس دفعہ میں فریم کیا جاتا ہے اسی میں ملزم کو سزا دی جاتی ہے یا پھر اسی کے مطابق ٹرائل کیا جاتا ہے لیکن اس سے پہلے یہ تعین بھی ضروری ہے کہ اس کیس کا اختیار سماعت کس عدالت کے پاس ہے وہ ایف آئی آر میں درج دفعات سے ہوتا ہے اگر ایک دفعہ ہو اور وہ سیشن عدالت کے اختیار سماعت کا ہو تو سیشن عدالت اختیار سماعت کرے گی اور اگر کئی دفعات ہو اور صرف ایک دفعہ اختیار سماعت سیشن عدالت کا ہو تو پورا کیس سیشن عدالت میں ٹرائل کے لئے جائے گا۔ ہاں اگر دفعات مجسٹریٹ ٹرائل کے ہوں تو پھر سماعت مجسٹریٹ عدالت میں ہوگی اور اس کا تعین ضابطہ فوجداری کے شیڈول تھری میں درج ہے۔
اس پورے شیڈول میں پاکستان پینل کوڈ میں موجود تمام دفعات کی فہرست بمع قابل دست اندازہ پولیس، ناقابل دست اندازی پولیس، قابل راضی نامہ ناقابل راضی نامہ، قابل ضمانت، ناقابل ضمانت، ٹرائل بائے مجسٹریٹ یا ٹرائل بائے سیشن کورٹ یا پھر ٹرائل بائے مجسٹریٹ یا سیشن کورٹ دونوں۔
فرد جرم کسی بھی کریمینل ٹرائل کا ہاف یا آدھی منزل ہوتی ہے جس کے بعد صرف گواہیاں چلانی ہوتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ملزم کیس کے دوران یا ٹرائل کے دورن عدالت میں جرم قبول کرنے کی استدعا کرتا ہے تو پھر عدالت اس ملزم کو شوکاز دیتا ہے کہ وہ کیوں جرم قبول کر رہا ہے اس جرم میں اتنی اتنی سزا ہے لیکن اگر ملزم اپنی مرضی سے قبولیت کرتا ہے تو پھر عدالت اس درخواست پر ملزم کو سزا دیتی ہے لیکن اکثر عدالت ایسے ملزمان کے ساتھ رعایت یا لینیئٹ ویو لیتی ہے۔
یا پھر وہ سزا جب ملزم نے بطور انڈر ٹرائل ملزم گزاری ہو تو اسی ہی میں چھوڑ دیا جاتا ہے جسے قانونی اصطلاح میں انڈرگان کرنا کہلاتا ہے۔ عموماً جرم قبولیت کی سزا میں اپیل نہیں ہوتی لیکن خاص مواقع پر اپیل کی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی تمام ٹرائل کے بعد بھی اگر عدالت کسی ملزم کو سزا دیتی ہے تو انڈر ٹرائل ملزم نے جتنی سزا کاٹی ہوتی ہے دفعہ تین سو بیاسی۔ بی کا بینیفٹ دیا جاتا ہے۔

