منڈی بہاؤالدین میں دوسری صدی قبل مسیح کے سکے کی دریافت
پچھلے ہفتے میرے ایک دوست محمد ندیم نے ایک سکے کی تصویر شیئر کی جو انھیں منڈی بہاؤالدین کے ایک گاؤں میں کچھ دوسرے دوستوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملا۔ مربع شکل کا یہ سکہ اچھی حالت میں ہے اور میری تحقیقی تجزیے کے مطابق، یہ سکہ دوسری صدی قبل مسیح کی سلطنت کنیندا سے متعلق ہے۔
منڈی بہاؤالدین اور اس کے نواحی علاقوں میں کبھی زمانہ قدیم میں ترقی پذیر شہر آباد تھے اس کا اندازہ 64 قبل مسیح میں پیدا ہونے والے یونانی مؤرخ سٹریبو کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ سٹریبو کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور چناب کے درمیان تقریباً 300 شہر پھیلے ہوئے تھے۔
کنیندا سلطنت وسطی ہمالیائی علاقے میں تقریباً 200 قبل مسیح میں قائم ہوئی تھی اور یہ ہندوستان میں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور پھر نیپال تک پھیلی ہوئی تھی۔ دریافت ہونے والا سکہ ابتدائی بادشاہوں میں سے ایک اموگھبھوتی کا ہے جو 200 قبل مسیح میں اموگ کے نام سے مشہور تھا۔ راجہ اموگ ہندوستانی تاریخ میں اپنے چاندی اور تانبے کے سکوں کے لیے مشہور تھا جس کے ایک طرف ان کا نام اور دوسری طرف ہندوستانی دیوتاؤں کے خاکے کندہ ہیں۔
سکے کے پچھلے حصے پر بہت سے قدیم ہندوستانی علامات ہیں۔ جیسے وسط میں سب سے اوپر ’سٹوپا‘ کی علامت ہے جبکہ ایک اور بدھ مت کی علامت ”تری رتنا“ ہے جس کا مطلب ہے ”تین جواہرات“ جو ’بدھا‘ ، ’دھرم‘ اور ’سنگا‘ یا ’خانقاہی ضابطہ‘ سے مراد ہیں۔ بائیں اوپری کونے پر گھڑی کی سمت میں ’سواستیکا‘ کی ایک مشہور ہندوستانی علامت ہے جس سے ’سوریہ‘ یا ”سورج“ مراد ہے اور ”خوشحالی“ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ’نندی پادا‘ کی علامت بھی دکھائی دیتی ہے ایک اور Y کے سائز کی علامت ایک قدیم ہندوستانی علامت ہے۔ دائیں طرف ’ٹری ان ریلنگ‘ کی علامت ہے جو ’بدھی‘ کے درخت کی علامت ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بدھی درخت ایک درخت تھا جس کے نیچے مہاتما بدھ کو بصیرت ملی تھی۔
سکے کے وسط میں چھ محراب والی ایک پہاڑی ہے جو بدھ مت میں ’چیتیا‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ’چیتیا‘ بدھ مت مذہب میں مذہبی عبادات کے بنانے کے لیے تعمیراتی طرز کا نام ہے جو قابل دیدنی ہے۔ اس علامت کا استعمال موریہ سلطنت میں تیسری صدی قبل مسیح میں شروع ہوا تھا۔
اس دو رکی عام زبانیں یونانی، سنسکرت، خروشتھی میں پالی اور براہمی رسم الخط میں پراکرت بولی جاتی تھیں۔ سکے میں پالی اور پراکرت دونوں زبانیں ہیں۔ رسم الخط ’خروشتی‘ رسم الخط میں ہے جسے دائیں سے بائیں ”رانا کنیداسا اموگھ مہاراسا،“ ( ”کنیندا اس کا عظیم بادشاہ اموگھ“ ) کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ سکے کے پچھلے حصے میں کھڑے ہرن کی علامت ہے جس کے سر پر دو کوبرا ہیں جبکہ لکشمی کی دیوی اپنے ہاتھ میں کنول کا پھول لیے ہرن کے پاس کھڑی ہے۔
کنندہ سلطنت کے سکے انڈویونانی سکوں کے معیار پر بنائے گئے تھے جو دوسری صدی قبل مسیح میں شروع ہوئے تھے۔ انڈو یونانی سکوں کے ایک طرف بادشاہ کا مجسمہ ہوتا تھا جس کے نام پر یہ بنایا گیا تھا جبکہ پچھلے حصے پر یونانی دیوتاؤں جیسے پوسیڈن، اپولو یا زیوس کے خاکے کندہ ہوتے تھے اور جن میں خروشتی رسم الخط استعمال ہوتا تھا۔
کنندا سکے انڈویونانی سکوں کی قدر اور حیثیت کے مطابق بنائے گئے تھے۔ ان کے ایک طرف برہمی رسم الخط میں ہندوستانی دیوی دیوتاؤں کے ساتھ ایک جانور کے خاکے اور مقدس علامتیں استعمال کی جاتی تھیں جب کہ پچھلے حصے میں خروشتی رسم الخط میں بادشاہ کے نام کے ساتھ ساتھ مزید مذہبی علامتوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
اس سکے کی دریافت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ علاقہ کسی زمانے میں کنیندا سلطنت کے تحت تھا کیونکہ یہ علاقے انڈو یونانی سلطنت کا حصہ تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں سلطنتوں کے درمیان ایک ہی معیاری سکوں کی بنیاد پر کاروبار ہوا کرتا تھا اور تجارتی تعلقات تھے۔



