سوڈان کی بگڑتی صورتحال
سوڈان مشرقی افریقہ کا ایک بڑا ملک ہے اس کی سرحدیں مصر، ایتھوپیا اور لیبیا سے ملتی ہیں لگ بھگ ساڑھے چار کروڑ افراد والا ملک آج بھی ایک خودمختار اور جمہوری ریاست بننے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ اصل میں شروع میں تو بدنصیب خطہ بڑے ممالک کو غلامان پیش کرتا رہا جس کے بدلے دال روٹی کا بندوبست ہوتا تھا مگر آہستہ آہستہ دنیا میں آزادیوں کی لہر کا اثر یہاں تک بھی پہنچا اور یوں ایک آزاد و خودمختار ملک بنا۔ قدرت نے بے بہا قدرتی وسائل سے بھی نوازا ہوا ہے۔
اکثریت آبادی مسلمان اور عربی بولنے والوں کی ہے علاقائی زبانوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ بہرحال ایک طویل عرصہ تک جمہور کی آواز دبائی گئی اور کئی دہائیوں تک فوجی حکمرانی مسلط رہی ہے جس دوران سخت ڈسلپن اور شریعت کا قانون نافذالعمل رہا جو 2003 تک تھا اس کے بعد سیکولرازم کا دور آیا اور ریاستی معاملات کو مذہب سے الگ کر کے اسے ایک انفرادی عمل قرار کر دیا گیا۔ جبر کا عالم یہ تھا کہ کسی خاتون کو جینز پہننے کی اجازت تک نہیں تھی اور خلاف ورزی پر دو سال کی قید کی سزا مقرر تھی۔
بہرحال اب صورتحال خاصی دگرگوں ہو چکی ہے کیونکہ مقابلہ دو متحارب گروہوں میں ہے جس میں قومی فوج کے سربراہ کا ایک دھڑا اور دوسری جانب نیم فوجی دھڑا ہے مدمقابل ہیں دونوں ایک دوسرے پہ سنگین ملک دشمنی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہوائی جہازوں، ٹینک اور آرٹلری، راکٹ لانچرز، مارٹر گنوں اور دیگر خطرناک ہتھیاروں سے دارالحکومت خرطوم شہر پہ حملہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق 185 افراد لقمۂ اجل بن گئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔
لوگ گھروں میں محصور ہوچکے اور کسی محفوظ مقامات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کئی ایک طالبعلم اپنے تعلیمی اداروں میں ہی پھنس چکے اور وہ اپنے گھر تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ہر جگہ لڑائی جاری ہے۔ بازار اور اسپتال اشیائے ضروریہ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ادھر قومی فوجی ہیڈکوارٹرز بھی شدید فائرنگ کی زد میں ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ممالک مثلاً جاپان، امریکہ اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ امن کی اپیل کرچکے ہیں اور مذاکرات کے کرنے پہ زور دے رہے ہیں۔ یہ خوفناک صورتحال کب تک جاری رہے گی اس کا دار و مدار دونوں متحارب جرنیلوں کی انا پرستی اور ہٹ دھرمی پہ منحصر ہے۔ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔


