آئین کے وفادار یا قانون و جمہوریت کے دشمن


ملک کے دو اعلیٰ ترین عہدوں پر دو ایسے افراد متمکن ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نے سیاسی و آئینی بحران کو نئی شکل دی ہے۔ ملک کا وزیر اعظم آئینی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن سیاسی و مالی معاملات میں آرمی چیف کے کردار کو فخر سے بیان کرنا اپنے عہدے کے کسر شان نہیں سمجھتا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج کل آئین کی بالادستی کے داعی بنے ہوئے ہیں لیکن ان کی آئین فہمی کا یہ عالم ہے کہ وہ ہم خیال تین ججوں کے بنچ اور پنجاب میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کی ضد سے آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالت کو جیسے سیاست کا گڑھ بنایا ہے اس کے کچھ مناظر ججوں کے اختلافی نوٹس اور سینئر ججوں کی گفتگو میں دکھائی دیے تھے، رہی سہی کسر آج سپریم کورٹ میں سیاسی جماعتوں کی تقریروں نے پوری کر دی۔ بظاہر سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے عدالتی کارروائی 27 اپریل تک مؤخر کردی ہے۔ لیکن اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت آئین سے گریز اور آئین و قانون کا نام لے کر اپنے سیاسی فیصلے مسلط کرنے کی روش برقرار رکھے گی تو جسٹس بندیال یقین رکھیں کہ سماعت کے آغاز سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت اور یہ دعا کرنے سے نیک نامی نہیں کمائی جا سکتی کہ ’ہمارے جانے کے بعد بھی لوگ ہمیں اچھے نام سے یاد رکھیں‘ ۔ اس مقصد کے لئے اپنے کام سے کام رکھنے اور دوسروں کے کام میں ٹانگ نہ اڑانے کے اخلاقی، قانونی اور آئینی اصول پر عمل کرنا بے حد اہم ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی قیادت میں تین ججوں پر مشتمل بنچ نے پنجاب انتخابات اور آئین کی سربلندی کے نام پر جو ڈرامہ رچایا ہے، وہ قانونی یا آئینی معاملہ نہیں بلکہ صریحاً سیاسی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی تمام تر ذمہ داری سیاسی پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ سمیت کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سیاسی پارٹیوں کو چند گھنٹے کے نوٹس پر ملاقات کرنے اور کسی ایک خاص ایجنڈے پر اتفاق رائے کرنے پر مجبور کرے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے آج یہی ناخوشگوار کام کرنے کی ناجائز کوشش کی اور حکم جاری کیا کہ سیاسی پارٹیاں 4 بجے سہ پہر تک اتفاق کر لیں ورنہ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کا حکم واپس نہیں لیا جاسکتا اور حکومت سمیت سب ادارے اس پر عمل کروانے کے پابند ہیں۔ اس صورت حال میں پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ’پہلے بندوق تان کر بات منوائی جاتی تھی، اب عدالتی ہتھوڑے کے زور پر مذاکرات پر مجبور کیا جا رہا ہے‘ ۔ واضح رہے جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمان نے عمران خان سے بات چیت کے ہر امکان کو مسترد کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان ٹویٹ کیا ہے اور عمران خان کو افراتفری کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں سیاسی فریق ماننے سے انکار کیا ہے۔
سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ آئینی احترام کی بات ضرور کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ بنچ خود آئینی حدود کو نظر انداز کرتا ہوا بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ آج ہی کے حکم نامہ میں جیسے ملک میں سیاسی مذاکرات کے حوالے سے عدالت کی خدمات اور کوششوں کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ سیاست دان خود فیصلہ کر لیں ورنہ عدالتی حکم کی تلوار تو سر پر لٹک ہی رہی ہے، اسے نہ جانے کون سی آئینی شق کے تحت جائز اور درست قرار دیا جائے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی باتوں اور طرز عمل سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح ستمبر میں ریٹائر ہونے سے پہلے انتخابات کروانا چاہتے ہیں تاکہ انتخابی عمل کی نگرانی ان کے ہاتھ میں ہو۔ وہ اس سے پہلے اپنے ریمارکس میں فرما بھی چکے ہیں کہ اگر ملک میں انتخابی عمل میں گڑ بڑ ہوئی تو سپریم کورٹ خاموش نہیں رہے گی۔ جب ہر معاملہ کی تشریح کا حق بھی سپریم کورٹ نے اپنے ہی ہاتھوں میں لے رکھا ہے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ چیف جسٹس انتخابات میں کس ممکنہ گڑ بڑ کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
اس وقت سہ رکنی بنچ وزارت دفاع اور ایک شہری کی اس درخواست پر سماعت کر رہا ہے کہ ملک میں انتخات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں۔ وزارت دفاع کی پٹیشن کو تو بنچ نے کل ہی ناقابل سماعت قرار دیا تھا تاہم اسی حوالے سے ایک شہری کی پٹیشن پر بنچ مسلسل گل افشانی فرما رہا ہے۔ حیرت ہے کہ جس موضوع پر وزارت دفاع کی درخواست قابل سماعت نہیں تھی، تو اس سے ملتی جلتی ایک شہری کی پٹیشن پر غور کے دوران کیوں خون پسینہ ایک کیا جا رہا ہے۔ اگر فاضل ججوں کی آئینی تفہیم کے مطابق یہ معاملہ اس کے سوا حل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے اور 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات منعقد ہوں تو پھر سیاسی لیڈروں کو بلانے، سپریم کورٹ میں سیاسی وعدے لینے اور پھر عید الاضحیٰ کے بعد انتخابات کروانے پر راضی ہونے کی سفارش کرنے جیسے مشورے کون سے آئین کی کس شق میں درج ہیں؟
اس وقت سے سب سے بڑا سوال البتہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو صرف پنجاب کے انتخابات میں ہی آئین کی سرفرازی کیوں دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے کوئی سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ کیا پنجاب اور دیگر صوبوں کے لئے آئین میں علیحدہ علیحدہ طریقے بیان کیے گئے ہیں یا پنجاب کے مسئلہ پر غور کرتے ہوئے جج حضرات آئین پڑھنے کے لئے کوئی دوسرا چشمہ استعمال کرتے ہیں۔ ججوں کی یہ تضاد بیانی اور اپنے ہی دعوؤں کی نفی سے اب سپریم کورٹ کو بھی ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب میں انتخاب کو 1955 سے 1969 تک کے دور میں ون یونٹ کی سیاست سے تشبیہ دی ہے اور اسے مسترد کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ خود عدالت کی طرف سے حائل کی جا رہی ہے جو ایک طرف پنجاب میں 90 دن کے اندر انتخابات کی رٹ لگائی ہوئے ہے تو دوسری طرف یکم مارچ کے حکم کو تین دو کا فیصلہ قرار دے کر اس پر اصرار کر رہی ہے حالانکہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے سوال پر سوموٹو کو سات میں سے چار ججوں نے مسترد کر دیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب تک یہ معاملات طے نہیں ہوتے، اس وقت تک کوئی سیاسی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دوسرے لفظوں میں مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری اپنے اپنے انداز میں ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ قانون کے مطابق چلے اور اپنی فہم کو قانون یا آئین قرار دینے کا طریقہ ترک کیا جائے۔ چیف جسٹس یہ طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
پنجاب میں انتخابات کو آئین کی بالادستی اور سپریم کورٹ کی عزت سے منسلک کرنے سے پہلے چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں کو اس پہلو سے غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ انتخابات کی ضد کرنے والی پارٹی ہی ملک کے منتخب اداروں کے کام میں سے سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف نے پہلے قومی اسمبلی سے استعفے دیے اور جب انہیں منظور کر لیا گیا تو عدالتوں سے سٹے آرڈر لے کر ضمنی انتخابات کا راستہ روکا گیا۔ پہلے خود ہی سیاسی مکالمہ کے سارے راستے بند کیے اور جب ہر طرح کے دباؤ کے باوجود حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکا تو پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ کر سیاسی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ اس بات پر تو بضد ہے کہ اسمبلی ٹوٹنے کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں لیکن اس سوال کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہے کہ دو صوبائی اسمبلیاں توڑی کیوں گئی تھیں۔
حالانکہ جسٹس اطہر من اللہ نے تو سوموٹو کے تحت پہلی سماعت میں ہی یہ سوال اٹھایا تھا اور چیف جسٹس نے اسے اہم قابل غور نکتہ کے طور پر نوٹ کرنے کا اعلان کیا تھا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کیا پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں آئینی طور سے توڑی گئی ہیں؟ بعد میں اپنے ساتھی ججوں سے ’لڑائی‘ کے ماحول میں چیف جسٹس نے اس اہم نکتہ کو فراموش کرنا ہی بہتر خیال کیا۔ موجودہ تکلیف دہ صورت حال چیف جسٹس کی طرف سے بعض باتوں کو یاد رکھنے اور بعض کو بھول جانے کی اسی ’عادت‘ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اگر ہر کام قانون و آئین کے مطابق کیا جاتا اور فاضل جج اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی زحمت نہ کرتے تو سیاسی ریمارکس کی بجائے قانونی فیصلے صادر کر کے عدالت برخاست کر دی جاتی۔ آج کی سماعت بھی اس نکتہ پر مرکوز نہ ہوتی کہ پنجاب میں عدالتی حکم کے مطابق 14 مئی کو انتخابات ہوں گے یا سیاسی پارٹیاں ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات پر اتفاق کر لیں تو سپریم کورٹ اپنا فیصلہ تبدیل کر لے گی۔
چیف جسٹس جس سہ رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے ملکی سیاست کو تلپٹ کرنا چاہتے ہیں اسے عام شہری کی نگاہ میں منصفین کی بجائے ایک سیاسی پارٹی کا غیرعلانیہ ترجمان سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن جسٹس بندیال اپنی جانبداری کو آئینی طریقہ بتاتے ہیں اور کسی فراخدل ’نمبردار‘ کی طرح یہ رعایت دینے کو تیار ہیں کہ پارٹیاں مفاہمت کر لیں تو سپریم کورٹ کوئی راستہ نکال لے گی۔ گویا آئین کتاب میں لکھے ہوئے رہنما اصول نہیں ہیں بلکہ ججوں کے دماغ پر سوا کوئی سیاسی بھوت ہے جو انہیں ایک ہی معاملہ کے ایک پہلو کو دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جبکہ اس کے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کرنا اتنا ہی آئینی سچ قرار پاتا ہے۔ اس شعبدہ بازی کو کسی اصول قانون کے تحت عدالتی کارروائی قرار دینا مشکل ہے۔
دوسری طرف ملک کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو حکمران اتحادی جماعتوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بس ہوا ہی چاہتا ہے۔ یادش بخیر اس حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کی یقین دہانیوں کی تعداد درجن بھر کے لگ بھگ ہوگی لیکن کوئی امید بر نہیں آتی کی صورت حال برقرار ہے۔ شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ کو کامیابی تک لانے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بہت محنت کی اور قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وزیر اعظم کے منہ سے جاری ہوا ہے جو آئینی جمہوریت کی بات کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ انہوں نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد منظور کروائی اور خود وزیر اعظم بنے۔ کہاں یہ آئین پسندی اور جمہوریت نوازی اور دوسری طرف یہ پستی کہ ملک کے مالی معاملات میں حکومت اس حد تک ناکام ہے کہ آرمی چیف وزیر خزانہ بنے ملک ملک گھوم رہے ہیں۔
دو اعلی ترین عہدوں پر ایسے کم نگاہ افراد کا موجود ہونا ہی درحقیقت ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ جب تک اعلیٰ عہدوں پر ایسے لوگ فائز رہیں گے جو اقتدار یا اختیار سے آگے بڑھ کر دیکھنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں، اس وقت تک پاکستان کو مسائل کی دھند سے باہر نکالنے کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

 

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali