کیا اس طرز پر پاکستان کا نظام چل سکتا ہے؟


آئین کو پچاس سال ہو گئے۔ ایک بار پھر ہماری سیاست کی کشتی ڈول رہی ہے۔ ہر ادارہ ایک دوسرے سے دست و گریبان۔ مزید یہ کہ ہر ادارہ اندرونی اختلافات کا شکار۔ سیاسی گروہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا۔ باہمی دشنام طرازی عروج پر۔ آخری خبریں آنے تک تمام گروہ سپریم کورٹ میں پیش ہو کر یہ گتھی سلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اور اس کے بعد کئی لیڈر سپریم کورٹ کے خلاف پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ہم بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی بند گلی سے نکلے بھی تھے؟

یہ فخریہ اعلانات تو کیے جا رہے ہیں کہ آج سے پچاس سال قبل ہم متفقہ آئین میں بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آئین اتنا ہی کامیاب ہے تو ہم مسلسل بحرانوں کا شکار کیوں رہتے ہیں؟ یہی آئین دو بار مارشل لاء کے قدموں تلے پامال کیا گیا۔ کیا آئین میں نقص ہے یا ہم قصوروار ہیں کہ اس آئین کے مطابق ملک کو چلا نہیں سکے؟ یا جمہوری عمل کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

کسی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے اس کی بنیاد کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کالم میں ہم پچاس سال کی بجائے اکاون سال پہلے کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب جنرل یحییٰ خان صاحب اقتدار سے رخصت ہوئے تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ملک کے صدر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام سنبھال لیا۔ اس وقت کوئی دستور بھی موجود نہیں تھا، جس کے تحت پاکستان کو چلایا جائے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ مستقل آئین تو بعد میں سوچ بچار کے بعد بنایا جائے گا لیکن فوری طور پر ملک میں ایک عبوری آئین نافذ کر کے ملک کو چلانے کا کام شروع کیا جائے۔ چنانچہ ایک عبوری آئین تیار کیا گیا اور 14 اپریل 1972 کو اس قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو نئی اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا۔

اور اگلے روز یعنی 15 ستمبر 1972 کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تا کہ عبوری آئین منظور کیا جائے اور اس کے بعد مستقل آئین کی تیاری کا کام شروع ہو۔ عبوری آئین کی منظوری دو دن میں لینی تھی۔ امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ اس اجلاس میں ملک کی قانون ساز اسمبلی اس بات پر غور کرے گی کہ کس طرح قوم کی شیرازہ بندی کی جائے اور اتحاد پیدا کیا جائے لیکن ابھی یہ اجلاس شروع ہی ہوا تھا کہ جمعیت العلماء پاکستان کے قائد شاہ احمد نورانی صاحب نے اتحاد پیدا کرنے کی بجائے کہا

”اس کے ساتھ میں عرض کروں گا۔ کہ جو آئین ہمارے سامنے عمدہ فریم میں سجا کر پیش کر دیا گیا ہے۔ اس میں اسلام کو قطعاً کوئی تحفظ نہیں دیا گیا۔ میں اس دستور کو معزز ایوان کے لئے قابل قبول نہیں سمجھتا ہوں۔ اور میں اس دستور کی مخالفت کرتا ہوں۔ اگر اس دستور کو نافذ ہی کرنا ہے تو وہ دفعات جو اس کے اندر اسلام کے متعلق موجود ہیں، ان دفعات کے متعلق کسی کمیٹی کے سامنے میں بیان دے سکتا ہوں۔ بہت سے علماء یہاں موجود ہیں وہ بھی بیان دیں گے۔ اور اسلام کے مطابق دستور کی دفعات بنانے میں تعاون کریں گے۔ اور ان دفعات کی تصحیح کی جائے گی جو اسلام کے خلاف ہیں اور پھر اس عبوری آئین میں ترمیم کر دی جائے گی۔ تب یہ قابل قبول ہو سکتا ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان کا صدر مسلمان ہو گا۔ مگر مسلمان کی تعریف کوئی نہیں جانتا ہے کہ کیا ہے۔ ہر شخص مسلمان بننے کی کوشش کرتا ہے۔

اس ملک کے اندر اسلام کے بدترین قسم کے دشمن موجود ہیں۔ وہ مسلمان بن کر حکمران بن سکتے ہیں اور چور دروازے سے حکومت کرنے کے لئے وہ یہاں آ سکتے ہیں۔ میں مسلمان کی تعریف کروں گا جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو اور حضور انور ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین رکھتا ہو وہ مسلمان ہے۔ ورنہ مرزائی قادیانی ہے۔ اس قسم کی تعریف اور پابندی اس کے اندر موجود نہیں۔ ”

اس تقریر سے یہ ظاہر تھا کہ نورانی صاحب احمدیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ عمل صرف احمدیوں تک محدود رہا؟ نورانی صاحب کی تقریر کے بعد ایک اور رکن ڈاکٹر ایس محمود بخاری صاحب نے نورانی صاحب کی تقریر پر یہ تبصرہ کیا

”میں اپنے فاضل دوست جناب مولانا نورانی سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ مجھے قرآن و سنت کی رو سے یہ بتلائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے۔ جب کہ مسلمانوں میں 72 فرقے ہیں۔ ہر فرقہ کا concept علیحدہ علیحدہ ہے۔ ان کی کتابیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ان کی تفسیریں علیحدہ ہیں۔ ان کی تاویل علیحدہ ہے۔ اگر 72 فرقوں کے مطابق اگر ہم مولانا کی تاویل قبول کر لیں تو پھر کوئی مسلمان باقی نہیں رہتا۔ قرآن کریم میں مومن اور متقی کی تو تشریح موجود ہے۔ لیکن مسلمان کی تشریح نہیں ہے۔“

وفاقی وزیر عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا :

”الیکشن کے زمانے میں ہم نے یہ سنا تھا کہ جنت کی چابی کس کے ہاتھ میں ہے اور ووٹ مسلمان کسے دیتے ہیں، مسلمان کون ہے اور کون نہیں ہے۔“

اس کے بعد وفاقی وزیر کوثر نیازی صاحب نے اپنی تقریر میں ان خیالات کا اظہار کیا :

”جناب والا! پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن کے زمانے میں کچھ حضرات نے فتویٰ صادر کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اسلام کے بھی خلاف ہے اور اسلامی آئین کے بھی مخالف ہے۔ ان حضرات اپنے بنائے ہوئے قانون کے اندر اسلام کو محصور کرنے کی کوشش کی تھی اور خود ساختہ آئین کو اسلام کا نام دے دیا تھا مگر آج کے دن محترم وزیر قانون نے عبوری دستور کا جو مسودہ اس معزز ایوان کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام نہ تو کسی کی اجارہ داری ہے اور نہ کسی کی جا گیر ہے۔ اسلام ان چند لوگوں کی ملکیت نہیں ہے۔ یہ سب کا ہے اور سارے کے سارے لوگ اس سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جس طرح انہیں اسلام سے محبت کے دعوے ہیں۔

جنھوں نے یحییٰ خان کے زمانے میں اس سے آدھ گھنٹا بات کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ صدر یحییٰ خان جو آئین مستقبل میں پیش کرنے والے ہیں وہ اسلامی ہو گا۔ جنہوں نے یحییٰ خان پر اس قدر اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ ایک آدھ گھنٹے کی نشست کے بعد ان سے چند باتیں سننے کے بعد اس آئین کے لئے اسلامی ہونے کا فتویٰ صادر کر دیا جو ابھی معرض مستقبل میں تھا۔ وہ آج ہمارے ساتھ لین دین کے لئے دوسرے باٹ استعمال کر رہے ہیں۔ یحییٰ خان کے لئے جو رعایات ان کے پاس تھیں ان کا عشر عشیر بھی ہمارے لئے مناسب نہیں جانتے۔ ”

اس کے بعد کوثر نیازی صاحب نے کہا

”مثال کے طور پر مولانا نورانی صاحب نے فرمایا ہے کہ توحید کے بارے میں جو نظریہ ہے اس پر ہم متفق ہیں۔ وہ ہونا چاہیے ہم سب موحدین ہیں ہم سب اسلام کو مانتے ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مولانا صاحب کی توحید میں اور دوسرے علماء کی توحید میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ میرے ساتھ جو محترم رکن بیٹھے ہیں، وہ تعزیہ داری کو توحید کے منافی نہیں سمجھتے لیکن مولانا موصوف اور ان کے ساتھی تعزیہ داری کو شرک سمجھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ اس ملک کے عوام میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت داتا گنج بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دینے اور نذریں گزارنے کو اسلام کے لئے ضروری سمجھتے ہیں اور اپنے لئے سعادت جانتے ہیں۔“

اس بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے ایک اور رکن اسمبلی میر علی بخش خان صاحب کو یاد آیا کہ انتخابات کے دوران نورانی صاحب پیپلز پارٹی والوں کو بھی کافر قرار دیتے رہے تھے۔ انہوں نے کہا

”انتخابی مہم کے دوران مولانا صاحب نے پیپلز پارٹی والوں کو غیر اسلامی اور کافر کہا تھا کیا اب بھی ہم مولانا صاحب کے نزدیک غیر مسلم ہیں اور اب بھی ہم اس قابل نہیں کہ ہم اس ملک کے اندر کچھ کام کر سکیں۔“

اسی طرح وفاقی وزیر شیخ محمد رشید صاحب نے کہا :
”یہ علماء حضرات عوامی حکومت اور پیپلز پارٹی کے خلاف کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔“

یہ تھا نکتہ آغاز نئی اسمبلی کا اور ہماری آئین سازی کا۔ چند گھنٹوں میں ہی ایک دوسرے پر رکیک حملے شروع ہو گئے اور پھر یہ بحث صرف اس موضوع تک محدود نہیں رہی کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر۔ ان دو دنوں میں ایک دوسرے پر رکیک حملے کیے گئے۔ رشوت کھانے کے الزام لگائے گئے۔ مارشل حکام سے ساز باز کرنے کے الزام لگائے گئے۔ لڑکیوں کو چھیڑنے اور خواتین کے زبردستی کپڑے اتارنے کے الزامات لگائے گئے۔ نیا صوبہ بنانے کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ ایک رکن نے یہ اصرار شروع کر دیا کہ میں تو صرف پشتو میں ہی تقریر کروں گا۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کو بھی نہ بخشا گیا۔ ان پر بھی الزامات لگائے گئے۔ آپ 15 اور 17 اپریل 1972 کی کارروائی پڑھ لیں۔ عبوری آئین یا مستقل آئین پر کم ہی بات ہوئی۔ اتحاد پیدا کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ تمام ارکان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم جیسا چاہیں آئین بنا لیں۔ کیا ہم اس نظام کو چلا سکیں گے؟

Facebook Comments HS