بندوق اور ہتھوڑا

آج کل سیاست میں بندوق اور ہتھوڑا زیر گردش ہے۔ دونوں علامات کا تعلق شرافت سے بالکل نہیں ہیں۔ دونوں علامات کے ڈانڈے شرارت سے بالکل جاکر ٹکراتے ہیں۔ اور ٹکر تو پھر ٹکر ہی ہوتی ہے جسے حرف عام میں حادثے کا نام دیا جاتا ہے۔ حادثہ سوچا سمجھا نہیں ہوتا البتہ اس کے بارے میں سوچا یا سمجھا جا سکتا ہے۔
دونوں مرنے مارنے کے کارن استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک سے نشانہ کیا جاتا ہے دوسرے سے نشانے پر لیا جاتا ہے۔ ایک انگلی کے اشارے پر چلتا ہے دوسرا مٹھی کے سہارے پر چلتا ہے۔ ایک کے مارنے سے خون نکلتا ہے دوسرے کے مارنے سے خون جمتا ہے۔ ایک کا تعلق فاصلے سے ہے دوسرے کا تعلق فیصلے سے ہے۔ ایک دور سے وار کرتا ہے دوسرا قریب سے وار کرتا ایک گھات لگا کر مارتا ہے دوسرا تاک لگا کر مارتا ہے۔ دونوں کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے لیکن اپنے ہاتھ کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک کے وار کا وار نامعلوم ہو سکتا ہے۔ غائب ہو سکتا ہے۔ ہاتھ آ نہیں سکتا۔ چپکے سے وار کر سکتا ہے۔ دوسرے کی مار کی مار معلوم ہوتی ہے۔ غائب نہیں ہو سکتا۔ با آسانی ہاتھ آ سکتا ہے بلکہ بر محل و بر موقع پکڑا جاسکتا ہے یا پکڑا جاتا ہے، غائب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ حاضر ہوتا ہے۔
حاضری کے لئے حاضر دماغی بھی ضروری ہوتی ہے جس طرح غائب کے لئے غائب دماغی لازمی ہوتی ہے۔
دونوں سے کئی وار کیے جا سکتے ہیں لیکن ایک چلتے چلتے رک سکتا ہے دوسرا چلتے چلتے چھینا جا سکتا ہے۔ ایک میں دو بدو ہم کلامی جسمانی کا مزہ چھکا جا سکتا ہے دوسرے سے دور دور سے جسمانی اور روحانی پیوند کاری کے بخیے ادھیڑ دیے جاتے ہیں۔
بندوق صندوق کا ہم آواز ہی نہیں بندے کو صندوق تک پہنچانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے جبکہ ہتھوڑا نہ بندوق اور نہ صندوق کا مترادف ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ دونوں کا کام کرتا ہے لیکن اگر یہ اتفاق اور گروپ کی شکل میں عمل میں لایا جائے کیونکہ اتفاق میں برکت ہوتی ہے اور کوئی بھی گروپ اتفاق کی عین علامت ہوتا ہے اور پھر گروپ گروپ ہی ہوتا ہے بھلے وہ ہتھوڑا گروپ ہی کیوں نہ ہو۔
بندوق کی جتنی اشکال ہیں اتنے ہی اس کے رجوع بکار لانے کے نت نئے طریقے اور سلیقے ہیں بلکہ بعض لوگ اس کو قرینے بھی بولتے ہیں۔ اور قرینہ دیرینہ کا ہم آواز یا ہم صوت لفظ ہے اور دیرینہ دوستی ہو یا دشمنی دونوں اپنی اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے بس قرینہ اگر بندوق کا نہ آئے تو سمجھو بندر کے ہاتھوں چڑھا ہے پھر بھاگنے میں ہی عافیت ہے اگر کوئی قریب جانے اور بندوق کو بندر سے چھیننے کی ہمت کرتا ہے تو زندگی چھن جانے کے درپے ہو سکتا ہے لیکن ہتھوڑے کی جتنی کم اشکال ہیں اتنے اس کے استعمال کے طریقے، سلیقے اور قرینے بھی کم ہیں اور ادھر قرینہ یا دیرینہ کا ہم صوت اتنا خطرناک نہیں جتنا ادھر ہے اور اگر ہتھوڑا بندر کے ہاتھ چل بھی جائے تو بھاگنے میں نہیں جاگنے میں عافیت ہے کیونکہ بندر کو گلکاری یا ترکانی نہیں آتی اور ہتھوڑا چھننے کی تگ و دو میں زندگی چھننے کے چانسز صفر فی صدی ہوتے ہیں۔
بندوق کا بٹ بطور لٹ استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت اس کا منہ مارنے والے کی جانب ہوتا ہے اور اگر ایک بار مخالف کے ہاتھوں میں آ گیا تو پھر بندوق کی بندوق تو ہے ہی بطور ہتھوڑا بھی اس کو فرائض منصبی میں لایا جاسکتا ہے اور یہ فرائض منصبی وہ شخص سب سے اچھے طریقے، سلیقے اور قرینے سے بجا لاتا ہے جس کے ذمہ اس کی بجا آوری ہوتی ہے۔
دنیا کی مخلوقات میں ایسی کوئی مخلوق نہیں ہے جو وہ کھاتی یا کھاتا ہے یا جو اس کی خوراک ہو اور وہ بالکل اسی صورت میں اس کے نکالنے پر بھی قادر ہو سوائے بندوق کے، بندوق لوہا کھاتا ہے لوہا نکالتا ہے اور بالکل اس صورت فضلے کی صورت خالی خولی خول کو پیچھے کی جانب فطری طریقے سے داخل خارج کے پروسس سے گزارتا ہے۔ جبکہ ہتھوڑا ان اوزاری مخلوقات میں سے ہے جو خود کچھ نہیں کھاتا لیکن اگلے کو کھلانے کے کام بدرجہ اتم آتا ہے اور سر سے لے کر پاؤں تک جہاں چاہو کہلا سکتا ہے اور زود ہضم اتنا کہ ڈکار کی بھی ضرورت نہیں کھاتے ہی ہضم بھی ہو جاتا ہے کھانے والا پانی بھی نہیں مانگتا بلکہ ان کو پلایا جاتا ہے۔
بندوق اور ہتھوڑے کو روزمرہ اور محاوروں میں بڑے احسن طریقے سے سمویا گیا ہے۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ بندوق کسی کی نہیں ہوتی بس انہی کی ہوتی ہے جن کی ملکیت ہوتی ہے۔ یا یہ کہ پتہ ان کو چلتا ہے جن کی طرف بندوق کا بیرل یا منہ ہوتا ہے۔ اور یہ جملہ تو شاید جیسے ہر خاص و عام کو ازبر ہو ٹوپک زما قانون۔ بندوق اور ہتھوڑے میں فرق یہ ہے کہ بندوق اپنے نکالے ہوئے مواد سے سروکار نہیں رکھتا نکلا تو رسائی سے بھی دور جبکہ ہتھوڑا سر سے مارتا ہے اور سینگوں سے واپس بھی نکالتا ہے گویا ہتھوڑا معتدل اور انصاف پسند بھی ہے
دونوں لاتوں کے ہتھیار نہیں لیکن استعمال کرنے والے لاتوں کے دور کے لگ رہے ہوتے ہیں۔ لات مارنا گو کہہ سنت خر ہے لیکن ہاتھ چلانا سنت حضرت انسان ہے
لیکن جو وہ اس کو صفائی سے چلاتا ہے اس کے سامنے کیا بندوق اور کیا ہتھوڑا سب کچھ پیچھے چھوٹ جاتا ہے لیکن جس پر یہ صفائی چلی ہو وہ ایسا محسوس کرتا ہے کہ یا تو کسی نے اس پر گولی چلائی ہے یا پھر کسی نے ان کے بیچ دماغ پر ہتھوڑے چلائے ہیں چلانے کا صیغہ ادھر بھی قدر مشترک کے طور پر اپنی موجودگی کا اظہار کر رہا ہے۔
بندوق کی نوک اور ہتھوڑے کے سائے دو الگ الگ علامات ہیں لیکن جب یہ باہم مل جائے تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ دونوں بہن بھائی ہو لیکن بہن ہمیشہ بھائی سے دبتی ہے اور بھائی کا اثر زیادہ ہوتا ہے اس لئے یہ فیصلوں میں آزاد نہیں ہوتی ہے بھائی کے مشورے یا بھائی کی ڈکٹیشن پر چلتی ہے کیونکہ ادھر حصے کا بھی رپھڑا ہوتا ہے اور وہ بھی پہلے سے آدھا ہی طے شدہ ہوتا ہے کہیں اس سے بھی نہ نکل جائے۔

