نماز عید اور ہماری قوت برداشت


عدم برداشت، یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اکثر اوقات سننے کو ملتا ہے۔ بحیثیت معاشرتی رکن ہمیں کئی دفعہ اس کی عملی جھلک بھی انسانی رویوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ عدم برداشت کیا ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں؟ اور ممکنہ طور پر اس کا کیا حل ہو سکتا ہے! یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں ابھرتے ہیں اور وہ ان کے جوابات ڈھونڈنے کی اپنی سی کوشش ضرور کرتا ہے۔

عدم برداشت کیا ہے؟ میرے خیال کے مطابق کسی کی بات یا ذات کو برداشت نہ کرنا ایک ایسا انسانی رویہ ہے جس کی ابتدا اختلاف سے ہوتی ہے۔ یہ اختلاف اکثر اوقات بڑھ کر مخالفت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بعد ازاں یہی مخالفت باہمی نزاع کا سب بنتی ہے جو بالآخر عدم برداشت پر منتج ہوتی ہے۔ عدم برداشت کا رویہ فرد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ایسے اثرات مرتب کرتا ہے جس کا نتیجہ سوائے نقصان کے کچھ نہیں نکلتا۔

دیگر سماجی رویوں کی طرح عدم برداشت کے بھی کئی اسباب ہوتے ہیں۔ اکثر اسباب و علل سطحی ہوتے ہیں جو محض مزاج کی شدت کے باعث اختلاف رائے اور عدم موافقت کی صورت میں مخالفت کے درجے سے ہوتے ہوئے مقابل کی رائے کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ جبکہ بعض صورتوں میں اس کی بنیادیں بے حد گہری ہوتی ہیں جن کا سرا مخصوص دماغی، نفسیاتی اور معاشرتی مسائل سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یوں تو اس رویے کے چھوٹے بڑے کئی اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً نفسیاتی، معاشی بد حالی، معاشرتی اور مخصوص دماغی اور موروثی امراض وغیرہ۔

مگر میں فقط دو اسباب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پہلا سبب غیر صحت بخش خوراک اور غیر صحت مند دانہ طرز زنگی سے متعلق ہے۔ آج کا دور تیز رفتاری کا دور ہے۔ وقت کی کمی اور کام کی زیادتی کے سبب ہر شخص جلدی میں نظر آتا ہے۔ اسی افراتفری کی کیفیت میں نہ ہی ڈھنگ سے کچھ کھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی نیند پوری ہو پاتی ہے۔ خوراک اور نیند کے اسی عدم توازن کے باعث مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے جو اگر مستقل حیثیت اختیار کر لے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدم برداشت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماری کو جنم دیتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے اثرات اکثر و بیشتر غصے کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہماری نئی نسل اس لت کا بری طرح شکار ہو چکی ہے اور اور خطرے کی بات یہ ہی کہ عدم برداشت کا رویہ سب سے زیادہ اسی طبقے میں پایا جاتا ہے۔ دوسری وجہ معاشرتی رویوں سے متعلق ہے۔ میرے خیال کے مطابق عدم برداشت ایک دائروی عمل ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پیلی صورت میں فریقین اپنے اشتعال پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے فوری طور پر ایک دوسرے سے الجھ بیٹھتے ہیں ہیں اور یہی وقتی غصہ بعد میں کسی بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے۔

دوسری صورت میں ایک فریق دوسرے کی بات کو لمبے عرصے تک شعوری طور برداشت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ اس کا ضبط جواب دے جاتا ہے۔ غصے کا فطری رد عمل غصے کی شکل میں ظاہر ہوتا جو بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ نتیجہ پھٹ پڑنے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ عدم برداشت کی یہی دوسری صورت زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرے پر بھی اس کے بے حد منفی اثرات پڑتے ہیں

ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔ اکثر کا تعلق خانگی زندگی سے ہوتا ہے۔ کچھ کا پیشہ ورانہ امور سے اور بعض سماجی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ سر دست محض ایک مثال جو ہماری دیہاتی اور نیم شہری مذہبی ثقافت سے تعلق رکھتی ہے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اس کا مظاہرہ عام طور پر عیدین کے مقدس تہواروں کے موقع پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ عیدین کی نمازوں کے اوقات کے لیے اعلانات کیے جاتے ہیں جو اکثر اوقات ان الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ حضرات عید کی نماز فلاں مسجد میں ٹھیک فلاں وقت پر ادا کی جائی گی۔ اس خیال کے تحت کہ کہیں مسجد میں جگہ ہی نہ ملے لوگ وقت سے پہلے ہی مسجد میں پہنچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ادھر مسجد میں یہ کیفیت ہوتی ہے کہ آئمہ حضرات اور ان کے معاونین یعنی مسجد کمیٹی کے اراکین لاؤڈ سپیکر کھولے یا تو حلق کی ہوری قوت سے وعظ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں یا پھر مختلف مد میں آنے والی رقوم کو تکتے ہوئے ہل من مزید کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سبحان اللہ جزاک اللہ کو ورد زبان بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔

بظاہر ان دونوں باتوں میں کوئی حرج نہیں۔ پند و نصیحت امام کا فرض بھی ہے اور ہمارے عوام بھی اس قدر غافل ہیں کہ بہت سی بنیادی باتوں کو بھلا دیتی ہیں۔ لوگوں کا مسجد یا امام صاحب کو رقم دینا بھی ایک مثبت عمل ہے۔ ظاہر ہے بحیثیت انسان امام مسجد کی بھی ذاتی ضروریات ہوتی ہیں جو تنخواہ کم ہونے کے باعث کچھ اسی طریقے سے پوری ہوتی ہیں۔ مسئلہ تب بگڑتا ہے جب آئمہ حضرات جوش خطابت میں جلد مائیک چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

بعینہ یہی صورت حال ان مساجد میں بھی پیش آتی ہے جہاں آخری لمحے تک جزاک اللہ کی اکساہٹ آمیز تکرار سے مزید نوٹوں کا انتظار اور نقصان کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں طے شدہ وقت سے دس پندرہ منٹ اوپر ہو جانا معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ انتظار کے اس وقفے میں جہاں نمازی حضرات بے زار ہوتے ہیں وہاں وہ یہ بھی خیال کرنے لگتے ہیں کہ خانہ خدا میں کھڑے ہو کر لفظ ٹھیک کا استعمال کرتے ہوئے ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ وہ چند بار تو یہ معاملہ برداشت کر لیتے ہیں مگر ہر عید پر دوہرایا جانے والا یہ عمل ان کے پیمانہ صبر کو لبریز کر دیتا ہے۔

پہلے پہل اختلاف سرگوشیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ دھیرے دھیرے آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر باہمی نزاع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آئمہ کرام اور مقتدیوں کے درمیان مستقل بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ عیدین کے اجتماعات میں نمایاں تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے اور بد قسمتی سے یہی طبقہ نسبتاً جلد مشتعل ہوتا ہے۔ آئمہ اور مسجد کمیٹی کے ایک مختصر طبقے کی غلط بیانی کے باعث نوجوان نسل افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہوئے مذہب سے ہی بر گشتہ ہو جاتی ہے۔

اب رہا سوال کہ عدم برداشت کے اس رویے کا حل کیا ہے؟ یاد رکھیے کہ زندگی کے ہر معاملے میں توازن کو اختیار کیے بغیر کوئی مستحکم کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ تاہم توازن کی یہ کیفیت دو طرفہ ہونی چاہیے۔ ایک اچھا سامع ہونا بھی عدم برداشت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ رائے کا احترام بھی برداشت پیدا کرنے کا ایک قابل عمل ذریعہ ہے۔ حقوق و فرائض کی متوازن ادائیگی بھی ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توازن کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تاکہ معاشرہ عدم استحکام سے بچ سکے۔

Facebook Comments HS