راولپنڈی اور مسلم لیگ (ن) میں داخلی تقسیم
پاکستان جو پہلا اسلامی اور دنیا کا ساتواں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ ہمیں امید تو یہ تھی کہ ارباب اقتدار پاکستان کو بلٹ ٹرین کی رفتار سے ترقی کی منازل طے کراتے لیکن افسوس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہر ادارے، اہم شخصیات میں تقسیم چھوت کی بیماری کی طرح پھیل چکی ہے۔ افسوس ملک کا سابق وزیر اعظم جسے نئی نسل دنیا کا بہادر وزیر اعظم سمجھتی تھی عدالتوں میں سر پر بلٹ پروف ٹوپی پہن کر سینکڑوں محافظوں اور اپنے چاہنے والوں کے درمیان غیر محفوظ اور موت کے ڈر سے کانپتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔ بہادری کی تصویر سیاسی وابستگی کے بغیر دیکھنی ہے تو راولپنڈی میں بے نظیر کی شہادت پر مری روڈ کے ہسپتال میں پہلے پہنچنے والے میاں نواز شریف کی آمد کا مشاہدہ کر لیں آپ کو اس کا جواب مل جائے گا کہ کون صرف سوشل میڈیا پر بہادر ہے اور کون میدان کا شیر ہے۔
مانا کہ اسٹبلشمنٹ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں عرصہ دراز سے کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ2018 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کی شکست کی وجہ صرف اسٹبلشمنٹ کی کارستانیاں ہی نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کچھ اپنوں کی نوازشیں بھی شامل ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے راولپنڈی کی صرف ایک مثال کافی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی میاں نواز شریف سے۔ (گہری محبت) کی وجہ سے 2018 کے انتخابات میں نون لیگ کو اقتدار سے الگ رکھنے کے فیصلے پر جہاں بہت سے نون لیگی رہنماوں کو شکست دی گئی وہیں این اے 60 سے راولپنڈی کے محمد حنیف عباسی پر بھی عین الیکشن کے قریب ایفی ڈرین کا کیس ڈال کر انہیں جیل بھیج دیا گیا جن کی جگہ قیادت نے لیگی رہنما سجاد خان کو قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا موقع دیا۔
سجاد خان نے قیادت کے اعتماد اور ان کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر الیکشن، رزلٹ کی رات تک جیت لیا لیکن آر ٹی ایس فارمولے کے تحت جہاں نون لیگ کے بڑے بڑے ستون گرا دیے گئے وہیں سجاد خان کو بھی رات کے اندھیرے میں چند سو ووٹوں سے ہرا دیا گیا لیکن کہا جاتا ہے کہ سجاد خان کو ہرانے میں آر ٹی ایس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے لوگوں کا بھی ہاتھ تھا۔ جن کی وجہ سے سجاد خان قومی اسمبلی کی جیتی ہوئی سیٹ ہار گئے۔
کسی پر الزام لگانے، کسی کو ہیرو یا کسی کو زیرو کرنے سے بہتر ہے کہ2018 میں نون لیگ کی شکست کے اصل محرکات کو سمجھا جائے۔ عام تاثر ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے نون لیگ کو ہروایا لیکن پاکستان کے بہت سے شہروں میں اکا دکا سیٹوں پر شکست ہوئی لیکن راولپنڈی جو ن لیگ کا گڑھ اور میاں نواز شریف کا دوسرا گھر مانا جاتا تھا جہاں میاں نواز شریف نے تقریباً سو ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ سے جدید ترین ہسپتال، میٹرو بس سروس، انڈر پاس، اور ہیڈ بریج اور سڑکیں اتنی کشادہ کر دیں کہ ٹریفک جام ہونا بھول گئی اس کے باوجود یہاں تمام سیٹوں پر شکست یہ بات آج تک ہضم نہیں ہوئی۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ محمد حنیف عباسی کے جیل جانے کے بعد سجاد خان کے جیتے ہوئے الیکشن کو ہارتا دیکھ کر لگتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے انتخابات لڑنے والے امیدواروں خاص کر عرصہ دراز سے انتخابات جیتنے والے سیاستدانوں میں ایک خطرناک سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ جس حلقے سے وہ الیکشن لڑتے اور جیتتے ہیں وہ اسے سیاسی حلقہ نہیں بلکہ اپنی جاگیر اور ریاست سمجھ بیٹھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس ریاست کا بے تاج بادشاہ مانتے ہیں۔ اسی غیر سیاسی و غیر جمہوری سوچ کی وجہ سے اور بادشاہت کے نشے میں وہ اپنی رعایا یعنی عوام کے مسائل کے حل کا سوچنا تک گوارا نہیں سمجھتے۔
یہی سوچ نون لیگ کو راولپنڈی میں بھی لے ڈوبی اور سامنے نظر آنے والی آر ٹی ایس کی صورت میں دھاندلی کو اس لئے کسی نے نہ روکا کہ کہیں حنیف عباسی کی سلطنت پر سجاد خان کا قبضہ نہ ہو جائے۔ حالانکہ اگر انہیں اپنے قائد کی، ان کے خاندان کی اور پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کی لازوال قربانیوں کا پاس ہوتا تو وہ اپنی شخصیت کو ایک طرف رکھ کر پارٹی قیادت کی طرف سے چنے ہوئے امیدوار کو نیک نیتی سے جتواتے جس سے قائد کی جیت ہوتی پارٹی اقتدار میں آتی اور دوسرے اداروں کو جو جمہوریت کی گاڑی کو آئے روز پٹری سے اتار دیتے ہیں انہیں بھی سبق ملتا کہ جمہوری نمائندوں میں اگر گنتی کے چند لوٹے اور ان کے مہرے ہیں تو زیادہ تر جمہوریت کے متوالے بھی ہیں۔
رمضان کے آخری عشرے میں میاں نواز شریف کو سعودی شاہی خاندان کی طرف سے شاہی مہمان نوازی میں شریف فیملی کو عمرے کی سعادت شاہی پروٹوکول میں ملی۔ اس وقت خطے میں کیا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور میاں نواز شریف کو شاہی مہمان کیوں بنایا گیا اس کا ذکر کسی دوسرے کالم میں کروں گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میاں نواز شریف نے چار سال لندن میں کافی پی کر ، واک کر کے اور آرام و آسائش میں گزارے ہیں تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے۔
کیونکہ اس بار لندن میں میاں نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی رفقا کی بھی سیاسی تربیت کی ہے جن کو وقت آنے پر پاکستان کے سیاسی میدان میں اتارا جائے گا۔ میاں نواز شریف کے ان ہی مخلص اور قابل اعتبار شخصیات میں ایک راولپنڈی کے رہائشی ناصر محمود بٹ کا شمار ہوتا ہے جو نہایت متحرک اور لندن میں نواز شریف کے ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے نظر آئے۔ ناصر محمود لندن میں میاں نواز شریف کی رہائشگاہ کے سامنے پی ٹی آئی کے کارکنان کو احتجاج اور ہلڑبازی سے روکنے پر جیل بھی جا چکے ہیں اب وہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر پاکستان آ چکے ہیں اور انہوں نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 16 سے کاغذات بھی جمع کرا رکھے ہیں۔
ناصر محمود بٹ جو کہ مسلم لیگ نون انگلینڈ کے صدر بھی ہیں وہ پارٹی میں کتنے اہم ہیں اس کا اندازہ ان کے فقیدالمثال استقبال اور ان کے اعزاز میں سجاد خان کی طرف سے راولپنڈی کے وسیع و عریض تاریخی پارک لیاقت باغ میں افطار ڈنر پر حلقے کی عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر گواہی دے چکا ہے۔ افطار ڈنر اس شہر کے اس تاریخی لیاقت باغ میں منعقد کی گئی جہاں بڑے بڑے سیاستدان جلسہ کرنے سے ڈرتے ہیں وہاں بغیر کسی لیڈر کے عوام کی بھاری تعداد کی شرکت نے سجاد خان اور ناصر محمود بٹ کی پارٹی اور ن لیگی کارکنان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ناصر محمود بٹ کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر میں حالانکہ شہر کے تمام رہنماؤں کو شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی مگر پنڈی سے ایم این اے طاہرہ اورنگزیب اور ڈویژنل صدر ملک ابرار احمد ہی شامل ہوئے ملک ابرار نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مجھے نون لیگی کارکنان کی لیاقت باغ میں اتنی بڑی تعداد میں شمولیت پر خوشی ہوئی اور جب بھی الیکشن ہوئے اور قیادت نے جیسے بھی ٹکٹ دیا سب کو چاہیے کہ وہ اس امیدوار کو صدق دل سے سپورٹ کرے۔ اس کے ساتھ دکھ یہ ہوا کہ اسی دن راولپنڈی کے نون لیگی رہنما راجہ محمد حنیف نے بھی افطار ڈنر کا اعلان کر کے شہر میں پارٹی کے دو دھڑے ہونے کا ثبوت دیا۔
انتخابات سر پر ہیں، ناصر بٹ سجاد خان اور دوسرا گروپ حلقے میں متحرک ہے۔ راولپنڈی میں نون لیگ کی اس واضح تقسیم اور دھڑے بندی سے نون لیگ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ نون لیگ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کا مقابلہ اس دور کی سب سے شاطر اور دنیا کے سب سے مہلک ہتھیار سوشل میڈیا کی ایکسپرٹ پارٹی سے ہے جس کے فالورز پارٹی کے جھوٹے بیانیے کو سچ سے زیادہ سچ سمجھ لیتے ہیں۔ اگر راولپنڈی کی مقامی قیادت نے آنے والے انتخابات سے قبل اپنے اندر کی مخالفتیں، تحفظات، شکایتیں اور رنجشیں دور نہ کیں تو راولپنڈی کو ایک بار پھر نون لیگ کا گڑھ بنانا خواب سے کم نہ ہو گا اس کی مثال پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو کبھی پنجاب میں اپنی اکثریت پر ناز کیا کرتی تھی لیکن آج انہیں پنجاب میں الیکشن لڑنے کے لئے امیدوار نہیں ملتا۔


