تکریم انسانیت


بابا جی اشفاق صاحب اپنے ’زاویہ‘ پروگرام میں معاشرے کے مختلف پہلووں پہ بات کیا کرتے تھے ’جس میں زیادہ تر انسان کی عزت‘ علم و حکمت ’اصول

زندگی ’بندوں کا اپنے جیسے بندوں اور بندوں کا اپنے اصل خالق و مالک سے جڑنا جیسے موضوعات شامل ہوتے تھے۔ ان سادہ مگر گہری باتوں کو وہ ایسے لطیف پیرائے میں بیان کرتے کہ سننے والے کو لگتا کہ یہ تو اسی کے خیالات کو الفاظ دے دیے گئے ہیں اور یہی ان کی کامیابی تھی کہ سامعین‘ حاضرین اور ناظرین کو بات سمجھنے میں آسانی رہتی تھی۔

ان کے کئی جملے ضرب المثل کی حیثیت پا چکے جو آج بھی سماعتوں اور ذہنوں کو جلا بخشتے ہیں۔ انسانی عزت و توقیر کی اولیت ’اہمیت‘ ترجیح اور بالادستی کا جو عنصر ان کے ہاں ملتا تھا وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہ بات ان کے ہاں اتنی مقدم تھی کہ اسی تناظر میں انہیں علم اور خواندگی کے فرق کو نئی جہت اور تعریف سے بیان کرنا پڑا۔ مشرقی حکمت (ایسٹرن ویزڈم) کے وہ بہت قائل تھے۔ لیکن زیادہ تر موضوعات انسانی عزت و توقیر کے گرد ہی گھومتے تھے۔ مثلاً جیسے وہ عید والے دن تھانے (پولیس اسٹیشن) جا کے تھانیدار سے عید ملنے پہنچ گئے۔

فی زمانہ زندگی کی برق رفتاری ’دوسروں سے دنیاوی طور پہ آگے بڑھنے کی دوڑ‘ اور سب کچھ خود ہی پا لینے کی لوبھ نے انسان کو ذہنی کوفت ’نفسیاتی الجھن‘ اندرونی خلفشار اور بیرونی پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خود کو بہتر دکھانے کے چکر میں اب لوگ خود چکروں کا شکار ہو رہے ہیں۔ غالباً وہ جملہ بھی تبھی معرض وجود میں آیا کہ کعبے کے چکر لگانے سے دوسروں کو دیے گئے چکر معاف نہیں ہو سکتے۔

جیسے سب انسان ظاہری طور پہ یکساں ہیں ایسے ہی وہ سب یکساں عزت و احترام کے حقدار بھی ہیں۔ اپنے سے بڑے اور طاقتور کی ”جی حضوری“ اور اپنے سے چھوٹے اور کمزور کو ”بول او تیری“ کا شیوہ اپنانے والے جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ کہاوت مشہور ہے کہ مکافات کی چکی چلتی آہستہ ہے لیکن پیستی بہت باریک ہے۔ مکافاتی افتاد تب آن پڑتی ہے :

جب حدیں پار ہونا شروع ہو جائیں۔
جب اناء اور تکبر کا منہ زور گھوڑا بے قابو ہو جائے۔
جب خدا کی تقسیم میں دخل اندازی کی کوشش کی جائے۔
جب نیکی احسان کا روپ دھار لے۔
جب سخاوت کا مقصد محض شہرت بن جائے۔

جب معاملات بے نیاز کے اختیار میں ہوں اور بے نیاز بھی ایسا کہ جو سب عالمین کا تن تنہا خالق و مالک ہو تو انسان کا اپنی طرف سے کئی گئی اچھائی اور نیکی پہ بھی ڈر کے رہنا بنتا ہے کہ وہ دلوں میں پیدا ہونے والی خواہش ’لوچ اور حسرتوں سے بھی خوب واقف ہے۔ میاں محمد بخش صاحب نے کیا خوب کہا کہ:

پڑھنے دا نہ مان کریں توں ’تے نہ آکھیں میں پڑھیا
اوہ جبار قہار سداوے ’متاں روڑھ چھڈی ددھ کڑھیا

ترجمہ: اپنے پڑھے لکھے (کچھ) ہونے پہ غرور نہ کرنا اور نہ ہی ہر جا اس کا ڈھنڈورا پیٹنا ’اس (اللہ) کی صفات جبار اور قہار بھی ہیں‘ کیا پتا وہ کڑھا ہوا دودھ (ساری محنت اور جہد) اکارت کرد

Facebook Comments HS