روہنگیا مسلمانوں کی کسمپرسی


برما کے شمال مغربی حصے جس کی سرحدیں بھارتی ریاستوں میزورام اور ناگالینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہاں صدیوں پہلے اسلام کا نور پھیلا اور اس کے نتیجے میں روہنگیا مسلمان آبادی پہ ظلم و ستم کا ایک طویل اور جانگسل دور شروع ہوا۔ آج کل اندازہً ان کی آبادی بیس لاکھ افراد پہ مشتمل ہے جن میں سے کئی افراد دنیا کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ اندازہ ہے کہ کم از کم پانچ لاکھ افراد تو صرف پاکستان میں موجود ہیں۔

برما میں اس آبادی کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک کے بدولت یہ دنیا کی سب سے زیادہ ستائی اور ٹھکرائی ہوئی آبادی ہے۔ اور ان کی نسل کشی کو برما سرکار کی سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ جنگ عظیم دوئم میں جب برما کمپین جاری تھی تو انہوں نے برطانوی افواج کا ساتھ دیا تھا اور برما کی بدھ مت آبادی ظاہر ہے جاپانی فوج کی ہمدرد تھی اس جنگ کے بعد اس آبادی کے خلاف ظلم و ستم میں اضافہ روز افزوں ہو گیا آئے روز ان کی عزت و آبرو کی پامالی اور دیگر ملکی وسائل سے محرومی اور ناقدری نے ان کو کہیں کا نہ چھوڑا۔

دراصل روہنگیا مسلمانوں کو مشرقی بنگال کے ساتھ زمینی قربت کے ناتے وہ بنگالی گردانتے ہیں جبکہ وہ اپنی شناخت راخیائن صوبہ جو میانمار کا ہی حصہ ہے کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں اور وہ بڑے محب وطن اور جفاکش لوگ ہیں۔ اس ہمسائیگی کی بناء انہوں نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا اور اپنے صوبۂ رخیائن کو مشرقی پاکستان کی نسبت سے پاکستان میں شمولیت کی خواہش کا بے پناہ اظہار کیا تھا اس سلسلہ میں انہوں نے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جس نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور قائد کی نیم رضامندی حاصل کر لی تھی مگر جب قائد اعظم نے اس معاملے کا بغور مشاہدہ کیا تو فیصلہ فرمایا کہ ہم برما کے داخلہ امور میں دراندازی نہیں کریں گے اور یوں یہ تسلسل جاری نہ رہ سکا۔

پھر کئی ایک مرتبہ لوگ ٹولیوں کی صورت بنگلہ دیش اور ملائشیا وغیرہ میں پناہ گزین ہوئے مگر ان ممالک کی سردمہری کی وجہ سے انہیں پھر سے اپنے وطن لوٹ جانا پڑا۔ پاکستان میں موجود پانچ لاکھ افراد بھی اپنی شناخت کے لیے آج بھی سرگرداں ہیں۔ میانمار کی فوجی جنتا سخت قوانین لاگو کیے ہوئے ہے اور ان مسلمانوں کو وہ بہاری گردانتے ہیں جبکہ بنگالی اور بہاری انہیں اپنا نہیں بلکہ روہنگیا کہتے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ کسی قوم کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا سب سے بڑا سبب تعلیم ہے اور روہنگیا کے بدنصیب مہاجرین جو دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ کاکسس بازار بنگلہ دیش میں واقع ہے وہاں مقیم ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے کیونکہ وہاں اتنی سہولیات نہیں ہیں یا دانستہ دی نہیں جا رہیں، ایک تو صرف 23 فیصد بچوں کو تعلیم تک رسائی نہیں اوپر سے اہم رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو ان کی مادری زبان کے بجائے بنگالی زبان میں درس و تدریس کرنا پڑتی ہے جو خاصا مشکل کام ہے۔

ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کی اپنی زبان میں نصاب ترتیب دیا جائے اور دوسرا اہم پہلو ان کی ہنرمندی کی تربیت کا مناسب انتظام کیا جا سکے جس سے یہ خود انحصاری کی راہ پہ گامزن ہو کر اپنے والدین اور معاشرے کے لئے سود مند افراد بن سکیں۔ یہ بحیثیت مجموعی قومی امن و سکون کے بھی اہم ہے۔ عالمی برداری کو ان کے معاملات میں ہمدردانہ توجہ دینا ہوگی۔

اس ظلم و ستم کی شب کا اختتام کب اور کیسے ہو گا اس کا تعین کرنا خاصا دشوار محسوس ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS