آزاد کشمیر کی مخلوط حکومت میں کشمیر کاز کے تقاضوں کی تکمیل کا چیلنج
آزاد کشمیر میں سابق وزیر اعظم تنویر الیاس کی توہین عدالت کے جرم میں نا اہلی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے دوران ’پی ٹی آئی‘ کے حصے بخرے ہو گئے۔ سابق سپیکر چودھری انوار الحق کو وزیر اعظم بناتے ہوئے ایک ایسی مخلوط حکومت کی تشکیل کی گئی جس پہ قومی حکومت ہونے کا تاثر غالب ہے۔ اپوزیشن رہنما چودھری لطیف اکبر کے سپیکر اسمبلی بنانے کے بعد آزاد کشمیر کے صدر کی تبدیلی کا عمل باقی رہ جائے گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے انتہائی نوعیت کے جارحانہ اقدامات کی تناظر میں اس بات کی اشد ضر ورت محسوس ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں موجودہ قومی حکومت کے تشکیل میں آزاد کشمیر کے نئے صدر کا انتخاب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور کشمیر کاز کے تناظر میں کیا جانا نہایت اہم ہے اور اس حوالے سے موزوں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت ہی ہو سکتی ہے جس کا عالمی سطح پہ کشمیر کاز کے حوالے سے نمایاں کام ہو۔
اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر کی تبدیلی کے عمل میں متحرک ہے اور پیپلز پارٹی کی ہی کسی شخصیت کو صدر بنانے کی کوشش کی اطلاعات ہیں۔ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے تمام مراحل میں انتخابی حلقوں کی سیاست کو مدنظر رکھا گیا ہے او ر اس طرح آزاد کشمیر کی ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت کے قیام کا میرٹ بھی مقامی نوعیت کے مفادات کے گرد ہی گھومتا ہے۔ اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر کے نئے صدر کے تقرر کا فیصلہ مقامی سیاسی مفادات کے حوالے سے کرنے کے بجائے کشمیر کاز کے قومی مفاد میں کیا جائے۔ صدر کے عہدے پہ ایسی شخصیت کو لایا جائے جو آزاد کشمیر کی نالی ٹوٹی کی سیاست، قبیلائی منافرت اور آزاد کشمیر کی مقامی چپقلش کے امور سے بالاتر رہتے ہوئے خالصتاً کشمیر کاز کے حوالے سے ہو۔
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر بھارت کے انتہائی نوعیت کے جارحانہ انسانیت سوز مظالم پر مبنی اقدامات کے دور سے گزر رہا ہے۔ بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کے اقدام کے وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں متعین بھارتی گورنر ستیہ پال ملک نے انہی دنوں ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ ”بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے اقدام سے پہلے ہی ایسے سخت ترین اقدامات کر لئے گئے تھے کہ جس سے مقبوضہ کشمیر میں یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ“ کوئی کتا بھونک سکے یا کوئی چڑیا چہچہا سکے ”۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف بات کرنا تو دور، جس کسی پہ شک بھی گزرے اسے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سال کے لئے بغیر کسی الزام عائد کیے جیل میں قید کر دیا جاتا ہے اور پھر اس دو سالہ میعاد میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے بھارتی حکومت کے مختلف اقدامات تیزی سے زیر کار ہیں۔ زمینوں کی ضبطگی، بھارتی شہریوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ، غیر ریاستی باشندوں کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کاری اور بڑی تعداد میں انہیں مقامی ڈومیسائل کی فراہمی، مزاحمتی تحریک میں ملوث افراد کے مکانات کی مستقبل ضبطگی اور کشمیری رہنماؤں، کارکنوں کو جیلوں میں قید کرنے سمیت درجنوں دیگر ایسے اقدامات ہیں جو کشمیریوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات بھی نمایاں ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو معاشی طور پر بدحال کرنے کے اقدامات بھی کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے متنازعہ قرار دی گئی ریاست جموں و کشمیر میں عالمی قوانین، اصولوں اور معاہدوں کے منافی اقدامات کو عالمی برادری کی طرف سے بالواسطہ جائز قرار دلانے کی بھارتی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں جس میں مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس کا اقدام بھی شامل ہے۔
یہاں اس کا ادراک کرنا بھی ضروری ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے اقدامات کے حوالے سے چند بڑی عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر پر قبضے کے معاملے میں پیش رفت کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں یہ اس بات کی ضرورت میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے کردار کو مکمل طور پر مقامی سیاسی مفادات میں محدود رکھنے کے بجائے کشمیر کاز سے منسلک کیے جانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں۔
آزاد کشمیر میں صدر کے عہدے پہ مقبوضہ کشمیر کی ایسی شخصیت کو فائز کرنا اہم اقدام ہو سکتا ہے جس کا عالمی سطح پہ کشمیر کاز کے حوالے سے کام ہو۔ یوں تو عالمی سطح پہ کشمیر کاز سے متعلق متعدد شخصیات کا نام لیا جا سکتا ہے تاہم ان تمام شخصیات میں کشمیر کاز کے حوالے سے نمایاں کام اور کردار ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کا ہے۔ یقیناً سلامتی کے قومی اداروں کو اس ضرورت کی اہمیت کا احساس ہو گا کہ آزاد کشمیر حکومت کو مکمل طور پر مقامی سیاسی مفادات میں بدستور محدود اور کشمیر کاز سے لاتعلقی کے چلن کو قائم رکھے جانے میں کیا کیا سنگین خطرات درپیش ہو سکتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی عالمی سطح پہ کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم شخصیت کو آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پہ فائز کرتے ہوئے ایک اہم مثبت پیش رفت کو ممکن کیا جا سکتا ہے۔ یہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری
کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی نتیجے میں صورتحال کی سنگینی اور اس کے ممکنہ مہلک اثرات کے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پہ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کے انتخاب کو یقینی بنائیں جو عالمی سطح پہ کشمیر کے حوالے سے نمایاں طور پہ متحرک ہو۔


