ترکیہ میں عام انتخابات اور ممکنہ نتائج
ترکیہ اپنے داخلی اور خارجی حالات و واقعات کی بناء آج کل دنیا میں سب سے زیادہ خبروں میں ہے۔ اوائل برس جب ایک قیامت خیز زلزلے نے تاریخی تباہی کی اور ہزارہا لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ ملک اس مکمل بحالی کے دور سے گزر رہا ہے جبکہ انتخابات جو 14 مئی کو منعقد ہونا ہیں اس کی مہم چلائی جا رہی ہے اگرچہ صدر رجب طیب اردگان یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسے حالات میں ہم کسی انتخابی مہم جوئی میں وہ سرگرمی نہیں دکھائیں گے جیسے عام طور پہ ہوتی ہے البتہ انہوں نے اپنے جاری کردہ اصلاحاتی منصوبوں میں برق رفتاری کا وعدہ کیا ہے اور اس عزم پہ گامزن ہیں کہ جس طرح انہوں بیس سال پہلے سفر کر کے ایک پسماندہ معیشت کو ترقی کی شاہراہ پہ ڈالا اور یورپ کا سب سے بڑا ائرپورٹ بنایا، ترقی یافتہ جدید اسپتال بنائے، سڑکوں کا جال بچھایا اسی طرح وہ خود کفالت کی نت نئے کام کریں گے اور اپنے ملکی وسائل پہ انحصار کر کے اپنی انرجی کی صلاحیت کو بڑھائیں گے کیونکہ وہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنے سمندری وسائل کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے گیس اور تیل کی دولت سے خود کفیل ہوجائیں گے اس طرح قیمتی زرمبادلہ بھی بچ جائے گا جس کا استعمال وہ ترقیاتی کاموں میں صرف کرسکیں گے۔
اس لیے وہ اس صدی کو ترکیہ کی صدی بھی کہتے ہیں اور عملی طور پر شب و روز کوشاں بھی ہیں۔ عالمی منظرنامے میں بھی امن و شانتی کے لیے بھی ترک کاوشیں قابل رشک ہیں۔ خاص طور پہ روس اور یوکرائن تنازعہ کے تناظر میں انہوں نے جس پامردی اور سیاسی بصیرت سے صورتحال کو بگڑنے سے بچایا ہے وہ قابل قدر ہے۔ ان انتخابات میں ترکیہ کے غیر ممالک میں مقیم ہم وطنوں کی شرکت و شمولیت بھی اہم ہوگی۔ وہ بھی خاصے پرجوش دکھائی دیتے ہیں اور توقع ہے کہ پہلے کی نسبت وہ اس مرتبہ بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنے کے لئے خاصے متحرک بھی ہیں اور پرجوش بھی۔
ادھر حکومت مخالف دھڑے بھی اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور انہیں بھی توقع ہے کہ وہ ان میں بہت بہتر کارکردگی دکھائیں گے اور ترکیہ کو حقیقی ترقی دیں گے۔ مقابلہ تو کڑا متوقع ہے مگر قرین قیاس یہی ہے کہ صدر اردگان ایک مرتبہ پھر واضح اکثریت سے یہ انتخابات جیت کر اپنا ترقیاتی سفر جاری رکھیں گے جو عالمی امن کے لیے نیک شگون ہو گا۔ بہرحال اس فیصلہ تو عوام نے انتخابات میں خود کرنا ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔


