سر گنگا رام، لالہ میلہ رام اور مشرق وسطیٰ کے مغل بادشاہ
کچھ ہفتہ پہلے کویت کے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری۔ اس خبر نے نہ چونکا دیا بلکہ کچھ سوچنے پر مجبور بھی کیا اور جس کے نتیجہ میں اس کالم کے لکھنے کی طرف رغبت ہوئی۔ خبر کے مطابق کویت نے دوبئی کے سب سے بلند و بالا ٹاور ”برج الخلیفہ“ جس کی بلندی اس وقت 828 میٹر ہے کے مقابلہ پر زیادہ بلند عمارت نما ٹاور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بلندی 1001 میٹر ہوگی۔ اس میں 234 منزلیں ہوں گی۔ ایک بڑی خطیر رقم اس پر صرف ہوگی لیکن بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ بلند و بالا ٹاور نما عمارت کا اعزاز دوبئی سے چھن کر کویت کے پاس ضرور چلا جائے گا۔
تعمیرات کے اس مقابلہ حسن میں یہ شاہ خرچی کی خبر گلے سے اتری نہیں تھی۔ اسی طرح سعودی عرب میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک انوکھی، منفرد اور غیر معمولی سرمایہ سے ہوشربا قسم کے شہر تعمیر کرنے کے منصوبے منظر عام پر آ چکے ہیں جس میں ایک منصوبہ بحیرہ احمر میں آٹھ کونوں والا تیرنے والا شہر بھی شامل ہے۔ یہ سب سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں جن سے منافع کمایا جانا ہے اور ان سے مستفید بھی صرف دولت مند ہو سکیں گے۔ ایک عام انسان صرف ان کو دیکھ کر حیرت زدہ ہی ہو سکے گا اور بس۔
ایسی خبریں تواتر کے ساتھ پڑھنے کے بعد یہ ذہن سوچنے پر مجبور ہوا کہ کہیں برصغیر کے مغل بادشاہوں کی روحیں مشرق وسطیٰ کی طرف تو ہجرت نہیں کر گئیں؟ کیونکہ دولت کی کمی مغل بادشاہوں کے پاس بھی نہیں تھی۔ انہوں نے بھی کثیر سرمایہ محلوں، محل نما قلعوں، باغات اور دیگر ایسی عمارات کی تعمیر پر لگایا اور وہ بھی آج حکومت وقت کو منافع دے رہی ہے اور دیکھنے بس واہ واہ کرتا ہے۔ یہ سب بادشاہوں والے شوق تھے جو پورے کیے گئے تھے۔
تاریخ یہ پوچھنے میں حق منجانب ہے کہ انسانی فلاح و بہبود کے ایسے کتنے کام ان سے کتنے منسوب ہیں جن سے آج عام انسان شب و روز مستفید ہوتا ہے؟ اس بارے تاریخ خاموش ہی نہیں بلکہ شرمندہ بھی ہے۔ شیر شاہ سوری کا تذکرہ ضرور ملتا ہے اور اس کی وجہ بھی افغانستان سے پاکستان، ہندوستان سے ہوتی ہوئی ڈھاکا تک (گرینڈ ٹرنک روڈ) جرنیلی سڑک کی از سر نو تعمیر ہے جو یقینی طور پر ایک فلاحی کام تھا۔ سرائے تعمیر کرائیں، پہلی بار ڈاک کا نظام رائج کیا۔
صرف پانچ سال اور پانچ دن کی حکمرانی کے عرصے کے دوران کے فلاحی کاموں نے اس کا نام روشن کر رکھا ہے۔ آج جب فلاح و بہبود اور خدمت خلق کے کاموں کی بات ہوتی ہے تو غیر مسلم سر فہرست نظر آتے ہیں۔ لاہور کی تاریخ کے اوراق پر ایسے بہت سے غیر مسلم شخصیات کے کارنامے لکھے موجود ہیں جنہوں نے انسانی فلاح کو مقصد حیات بنا رکھا تھا۔ ان ناموں میں سر گنگا رام اور لالہ میلہ رام بھی شامل ہیں۔ برٹش انڈیا دور کے ان دونوں نے انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کے ایسے چراغ روشن کیے تھے جن کی روشنی سے آج کے پاکستانی بھی فیض پا رہے ہیں۔
لوگ علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔ ”اقراء“ کی تکمیل کے لئے علمی درسگاہیں اور ٹیکنیکل و دیگر تعلیمی ادارے جو قائم کیے تھے ان سے آج پاکستانی مسلمان نسلوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ کسی انسانی دماغ کی شاندار تخلیق اور مثبت سوچ تھی جس کا محور محض ”انسانی فلاح“ تھا اور اس کے ثمرات کی اب کوئی انتہا نہیں دکھائی دیتی۔ صحت کے میدان میں بیماروں کے لئے شفاخانے اور برے بڑے ہسپتال تعمیر کیے جو آج بھی قائم و دائم ہیں اور صحت بانٹ رہے ہیں۔
اس دور میں پیاسوں کے لئے کنویں تعمیر کرائے گئے جہاں سے پیاسوں نے پیاس بجھائی۔ یہ دولت کا سب سے خوبصورت استعمال تھا۔ یہ ایسے انسان دوست منصوبے تھے جن سے اب تک لاکھوں نہیں کروڑوں انسان فائدہ اٹھا چکے ہیں اور پتہ نہیں کب تک فائدے اٹھاتے رہیں گے۔ دولت کو اللہ کی راہ میں بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرنے سے بڑی اور نیکی کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ ان دونوں غیر مسلموں کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی بلکہ ان کے گھر کی لونڈی تھی تھے لیکن انہوں نے سب کچھ انسانی ضرورتوں کی تکمیل پر صرف کر دیا اور دین و مذہب کی شناخت سے بالا ہو کر کیا۔
دونوں جو کماتے وہ انسانی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کر دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی ان کے گھر کی لونڈی بنتی گئی۔ ان دونوں کو دولت اکٹھی کرنے کی ہوس نہ تھی نہ ہی اپنے خاندان کی فکر تھی۔ وہ جو کماتے اس کو عوام الناس کے لئے کاموں پر صرف کر دیتے تھے۔ ضرورت مند مخلوق کی مدد کرنا ہر دور میں سب سے بڑی نیکی رہی ہے۔ رومی کا قول ہے کہ خدا تک پہنچنے کے بہت راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ، مخلوق سے محبت کو چنا۔
مولانا جلال الدین رومی کا ہی ایک اور قول ہے کہ اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ یہ وہ ورثہ ہے جس کی حفاظت ضروری تھی۔ سر گنگا رام اپریل 1851 میں پیدا ہوئے اور جولائی 1927 میں دنیا سے رخصت ہوئے لیکن انسانی ہمدردی اور علم اور انسان دوستی کی یادگاریں پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ سر گنگا رام کے فلاحی کاموں کی تفصیل بہت طویل ہے بلکہ متعدد حوالوں سے بہت آگے تھے۔
وہ ایک سول انجینئر اور ماہر زراعت تھے لیکن غیر معمولی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کی دولت سے مالا مال تھے۔ لاہور اور پنجاب کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو لہلہاتی اور سرسبز زمینوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ اور اپنے تعمیراتی کاموں کی بدولت شہرت کی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ایک بار سر گنگا رام سے ایک صحافی نے انٹرویو کے دوران سوال کیا تھا کہ سر آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوا، اس کی کیا وجہ ہے؟ گنگا رام نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میری بھگوان سے بزنس پارٹنرشپ ہے۔
میں جو کماتا ہوں آدھا اس کے رستے میں خرچ کر دیتا ہوں اور باقی آدھا خود رکھ لیتا ہوں۔ اب بھلا جس کی بھگوان سے پارٹنرشپ ہو اسے نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کے فلاحی کارنامے ایک مضمون کی زینت نہیں بن سکتے۔ غریبوں کے لئے اندرون لاہور وچھو والی گلی میں 1921 تیس بیڈ ہا ہسپتال بنوایا۔ موجودہ لاہور کا سب سے بڑا ہسپتال گنگا رام، راوی روڈ پر معذوروں کا ہسپتال، لیڈی میگلن سکول وغیرہ۔ زراعت کے میدان میں انہوں نے پنجاب میں ہریالی پیدا کی تھی۔
پاور پلانٹس لگائے۔ گنگا رام کی علم دوستی کا ایک مثال یہ ہے کہ لاہور میں کامرس کالج کی کمی محسوس ہوئی تو گنگا رام اپنے گھر کی چابیاں گورنر کی میز پر چھوڑ گئے تھے کہ یہاں کامرس کالج کھول لیا جائے۔ یوں آج کے ہیلی کالج آف کامرس کی ابتداء ہوئی تھی۔ دکھ کی بات کہ آج شاندار ماضی کے علمی ادارے آج مذہبی و سیاسی منافرت کے باعث تباہ و برباد کر دیے گئے ہیں۔ فلاح و بہبود کے میدان میں دوسری قابل ذکر شخصیت لالہ میلہ رام کی ہے۔
لالہ میلہ رام انیسویں صدی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے مخیر افراد اور تاجروں میں ایک نمایاں شخصیت تھے اور محکمہ ریلوے کے ٹھیکیدار تھے اور ساتھ ساتھ دل اور دماغ کے غنی بھی تھے، انسانیت اور انسان دوستی کے علمبردار تھے۔ 1938 میں پیدا ہونے والے میلہ رام کا انتقال 1890 میں ہوا تھا۔ انہیں بعد میں رائے بہادر کا خطاب بھی ملا تھا۔ لالہ میلہ رام کی وسیع جائیداد میں مال روڈ پر واقعہ پنجاب اسمبلی ( ملکہ وکٹوریا) کے سامنے کے موجودہ علاقہ چیئرنگ کراس کے بائیں جانب 36 ایکڑ کی وسیع زمین بھی شامل تھی۔
لالہ میلہ رام کی رہائش گاہ بھاٹی دروازے کی بڑی لال حویلی میں ہوا کرتی تھی جس کی اپنی منفرد شان و شوکت ہوا کرتی تھی۔ مال روڈ پر موجود آج کے دور کا واپڈا ہاؤس کے مقام پر کبھی ”میلہ رام نامی دو منزلہ بلڈنگ ہوا کرتی تھی جو اکیس کنال پر مشتمل تھی اس کے ساتھ ہی نائیڈو ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں آج آواری ہوٹل ہے یہ سب میلہ رام کی جائیداد تھی۔ انہوں نے ہزاروں روپے نقد اور اپنی جائیداد کی زمین سے عطیات کی شکل میں تعلیمی اداروں کی تعمیر میں اور ان کو چلانے کی مدد کی۔ اس دور میں ہزار روپے کی رقم ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔
کہتے ہیں کہ کا ہنہ کے پاس ایک گاؤں بھی میلہ رام کے نام سے موجود ہے جو انہوں نے قائم کیا تھا۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے پاس بہت مشہور تالاب میلا رام کے نام سے تعمیر ہوا تھا۔ ان کے سنہری کاموں میں سب سے بڑا کام حضرت داتا گنج بخش کے دربار کو سب سے پہلے بجلی فراہم کرنا تھا۔ جب لاہور میں چند چھوٹی کمپنیوں نے کوئلہ سے بجلی بنانی شروع کی تو تب لالہ میلہ رام نے داتا دربار کو بجلی فراہم کرائی اور داتا دربار کو روشن کیا اور اس کے تمام مصارف ادا کیے تھے بعد کے اخراجات کی بھی ادائیگی کرتے رہے۔
ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں نے پھر مزید داتا دربار کے اندر بجلی فراہم کر کے اور روشن کیا تھا۔ یہ مذہبی رواداری کی بھی شاندار مثال تھی۔ لاہور کے موجودہ چڑیا گھر کی زمین بھی انہی کی عطا کردہ ہے۔ سر گنگا رام اور لالہ میلہ رام کے انسانی فلاحی منصوبے صرف لاہور تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ بھارت کے اندر بھی ان کے فلاحی کاموں اور تعمیرات کا ایک جال بچھا ہوا ہے۔ دولت کے استعمال کا اس سے بہتر اور کوئی طریق ہو نہیں سکتا کہ جس سے مخلوق خدا کو صدیوں تک فائدہ پہنچتا رہے۔


