بالٹی


دنیا میں کئی ممالک ہیں اور یہ ممالک زبان ثقافت، مذہب اور اب و ہوا کے لحاظ سے ایک دوسرے سے الگ الگ تو ہے ہی لیکن یہ ممالک ناموں کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے تفاوت رکھتے ہیں بلکہ بعض ممالک اور اس کے صدر مقام کے تو نام بھی اشیائے خورد و نوش، انسانی استعمال کے ناموں پر رکھے گئے ہیں یا پھر دیگر ممالک کی زبانوں میں اس کے وہ مطلب نکلتے ہیں یا پھر مزاحیہ رنگ بھی لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیسے کہ مالٹا، خرطوم، ادیس بابا، نیو جرسی، کھٹمنڈو، پاپوا نیو گنی اور بالٹی مور۔

بالٹی مور سے یاد آیا۔ اگر ہم اس کا اردو اور انگلش کا مل کر ترجمہ کریں تو اس کو مزید بالٹیاں کر سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بالٹی کا ایک مخصوص دور رہا ہے اور وہ دور اب تک پھیلا ہوا ہے بس صرف اس کی اقسام اور استعمال میں فرق آیا ہے۔

ایک دور تھا کہ بالٹیوں کے بغیر گھر نامکمل ہوا کرتا تھا کیونکہ اس زمانے میں گھر گھر پانی کی لائنز بچھی ہوئی نہیں تھی اور محلے کے مخصوص جگہوں میں نلکے لگے ہوئے ہوتے تھے جہاں سے لوگ ٹین اور بالٹیاں قطاروں میں لگا کر بھر بھر کر بانگیوں میں ہم وزن کر کے لاتے یا پھر ایک ساتھ اس سے ایک ریڑھی بھر کر گھر تک پہنچاتے۔

لیکن جوں جوں یہ اطوار بدلتے گئے بالٹی کی شکلوں و شبہات میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ ابتدا میں یہ بالٹی ایک سخت لکڑی سے بنی ہوئی ہوتی تھی، پھر یہ ربڑ کی شکل میں منتقل ہو گئی، پھر ٹین یا لوہے سے بننا شروع ہو گئی اور آج تک آتے آتے پلاسٹک پر رکھ گئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ربڑ اور ٹین یا لوہے کی بالٹیاں بھی قابل استعمال اور مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

پلاسٹک کی بالٹی اب ہر گھر میں وافر مقدار میں نہ صرف پائی جاتی ہیں بلکہ ہر واش روم کی زینت بنی ہوئی ہوتی ہے زینت اس لیے کہ ایک تو یہ نت نئے ڈیزائن میں ملتی ہیں اور دوسرے یہ کہ چھوٹے بڑے سائز کے ساتھ ساتھ ہر رنگ میں پانی کو اپنے آغوش میں چاہے ٹھنڈا ہو یا گرم یا پھر نیم گرم بڑے پیار سے نلکے کے پانی کی لوری سنا کر سلا دیتا ہے جب تک کہ واش روم کے ہینڈ مگ سے اس کے تن بدن میں بھونچال یا کوئی ارتعاش پیدا نہ کریں۔

بالٹی کو متعدد طریقوں یا سلیقوں سے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر بروئے کار لایا جاتا ہے۔ بالٹی اگر بھری ہوئی ہو اور اس پانی میں مٹی یا دھول گرنے یا پھر کسی جانور کے جوٹا کرنے یا چھوٹے بچوں سے حفاظت میں رکھنا ہو تو اس پر یا تو کپڑے دھونے کا تسلا یا شانک یا پھر دوسری بالٹی کو الٹا کر کے رکھ دیا جاتا تھا یا رکھ دیا جاتا ہے۔ بالٹی میں اگر پانی لانا ہو تو اس کو ایک ہاتھ میں پکڑ کر اور اگر دو ہوں تو دونوں ہاتھوں میں ترازو بنا کر منزل مقصود تک پہنچایا جاتا ہے۔ اگر خالی ہو اور کسی جگہ منتقل کرنا ہو تو ایک دوسرے میں سمو کر ایک قطار کی شکل میں ایک کے اوپر ایک کو رکھ کر ان کی ترسیل کی جاتی ہیں۔ گھومتے پھرتے چنے اور مونگ پھلی بیچنے والے بڑی آسانی سے بالٹی کو اپنے کیرئیر کے طور پر بروئے کار لاتے ہیں۔

ہم نے بڑے پر خطر حالات میں یہ تو سنا ہے کہ فلاں بندے کو دیگ میں بٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ یا پھر لوہے سے بنے ہوئے تندور میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا تاکہ اگر ان پر کوئی گولی چلائے تو مخالفین کی فائرنگ یا حملے سے محفوظ رہیں۔ ہم نے جسم کی حفاظت کے لئے آئرن کوٹ یا بلٹ پروف جیکٹ یا سر کو بچانے کے لئے ہیلمٹ کے استعمال کا وتیرہ دیکھا اور پرکھا ہے لیکن یہ نہ دیکھا اور نہ سنا تھا کہ بالٹی کو بھی سر کی حفاظت کے لئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ ویسے کم خرچ بالا نشیں کے مصداق تو ہیلمٹ سے کئی درجہ سستا ہے لیکن بالٹی کی چادر اتنی مضبوط ہوتی نہیں ہے کہ اسے بچاؤ ممکن ہو سکے البتہ بقول غالب دل کی تسلی کے لئے یہ خیال اچھا ہے۔ ویسے بھی تبدیلی کے نعرے اور بدلاؤ کے اس بہاؤ میں سب کچھ چلتا ہے کوئی بالٹی سر پر رکھی یا پھر بالٹی میں بیٹھ کر جائیں حفاظت مقصود ہے یا مقصود حفاظت ہے سب قابل قبول ہے کیونکہ درست ہوتا ہے جن کا ہر فرمایا ہوا تو کیوں نہ درست ہو گا ان کا ہر عمل کیا ہوا؟

Facebook Comments HS