دس بلین ٹری پراجیکٹ اور محکمہ جنگلات کا بوسیدہ نظام
آج کل موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں بتدریج اضافے اور سیارہ زمین اور اس پر بسنے والے جانداروں پر اس کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں جنگلات کی اہمیت اور جنگلات لگانے پر بہت توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں خیبر پختونخوا میں بلین ٹری پراجیکٹ کے بعد پاکستان بھر میں 10 بلین ٹری پراجیکٹ شروع کیا گیا جس میں پچاس فیصد فنڈز وفاق اور 50 فیصد فنڈز صوبائی حکومتوں نے فراہم کرنے ہیں لیکن دسمبر 2022 کے بعد سے 10 بلین ٹری پراجیکٹ کے تحت لگائے گئے کروڑوں پودوں کے لئے بجٹ فراہمی معطل ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نئی شجرکاری رک گئی ہے بلکہ پہلے سے لگے کروڑوں پودے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
مزدوروں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے فیلڈ سٹاف کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج یوم مئی 2023 ہے اور محکمہ جنگلات کے مزدوروں کو چار ماہ سے مزدوری نہیں ملی، اتنے بڑے میگا پراجیکٹ کی ادائیگیوں کا نظام اس قدر ناقص ہے جو افسوسناک ہے جنگلات ایک صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبے میں جنگلات کا نظام الگ ہے جو انتہائی پرانا اور پسماندہ ہے۔ برٹش دور کا فارسٹ ایکٹ 1927 آج بھی مستعمل ہے فارسٹ مینول بھی برطانوی دور کا ہی چلایا جا رہا ہے۔
1960 کی دہائی کا بنا اکاؤنٹنگ سسٹم بھی مینول ہے اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے جدید کمپیوٹرائزڈ سیپ سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ محکمہ جنگلات، ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس آف فارسٹس کے ماتحت مینول نظام کے تحت کام کرتا ہے جس سے محکمہ میں شفافیت اور بہتری نہیں آ رہی، حکومت بلوچستان نے ایک شاندار اقدام کیا ہے اور محکمہ جنگلات کو اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے اور ڈائریکٹر بجٹ کا دفتر ختم کر کے محکمہ کو بوسیدہ مینول اکاؤنٹنگ سسٹم سے نکال کر جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور کروڑوں روپے کی بچت بھی کی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس دفتر ختم کر کے حکومت کروڑوں روپے بچائے اور محکمہ جنگلات کو اکاؤنٹنٹ جنرل کے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ماتحت کر کے محکمہ کو جدید اور شفاف بنائے تا کہ 10 بلین ٹری جیسے میگا پراجیکٹ کو بہترین انداز سے کامیاب کیا جا سکے، موجودہ ڈائریکٹر بجٹ دفتر نہ تو وقت پر ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل ہے اور اکثر اوقات ملازمین کو تنخواہ بھی پوری نہیں ملتی اور کوئی نہ کوئی الاؤنس ڈائریکٹر بجٹ دفتر کی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے اور بوسیدہ مینول اکاؤنٹنگ سسٹم کی وجہ سے تنخواہ سے کٹ جاتا ہے اور ملازمین کے لئے سخت پریشانی کا باعث بنتا ہے اس عیدالفطر کے موقع پر بھی فیلڈ ملازمین کو پوری تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی، اکثر پلانٹیشن کا بجٹ بروقت ریلیز نہیں ہوتا اور ڈائریکٹر بجٹ دفتر پیسے روک کے بیٹھا رہتا ہے اور بجٹ نہ ملنے سے پلانٹیشن ناکام ہو جاتی ہے اور پھر اس ناکامی کا ذمہ دار فیلڈ ملازمین کو قرار دے کر انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت ریکوری ڈال دی جاتی ہے اور ان کی تنخواہ سے ماہانہ کٹوتی شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ ساری صورتحال فیلڈ ملازمین کے لئے سخت پریشان کن ہے۔ محکمہ جنگلات میں درکار بنیادی اصطلاحات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی،
پنجاب میں 9 کروڑ انسان اور کروڑوں مویشی پنجاب کے % 8۔ 2 جنگلات پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کے محدود ذرائع پر بہت دباؤ ہے۔
با اثر لوگوں کی سپورٹ، الیکٹرک آروں، گاڑیوں اور اسلحہ سے لیس ٹمبر مافیا سے ان جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لئے محکمہ جنگلات نے تین ہزار نہتے اور پیدل فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز تعینات کر رکھے ہیں۔
ایک فارسٹ گارڈ/فارسٹر کے پاس اوسطا 100 سے 500 کلومیٹر لمبی نہروں /سڑکوں کے کنارے موجود درختوں یا 500 سے 2000 ایکڑ جنگل کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے جس کے لئے وہ 24 / 7 راؤنڈ دی کلاک ذمہ دار ہوتے ہیں جنگل میں مسلسل باقاعدگی سے پیٹرولنگ کرنا اور نقصان جنگل کی صورت میں ڈیمیج رپورٹ کے ذریعے اپنے بلاک افسر کو آگاہ کرنا فارسٹ گارڈ کی بنیادی ڈیوٹی ہے۔ یہ قیمتی جنگل وسیع علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں جس پر ٹمبر مافیا کی نظر ہوتی ہے لیکن اس کی حفاظت ایک اکیلے، نہتے اور معمولی تنخواہ لینے والے فارسٹ گارڈ اور فارسٹر کی ذمہ داری ہے جن کے لئے ٹمبر مافیا کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے یہ ان بے بس ملازمین کے بس کی بات نہیں رہی، ان کے پاس نہ کسی قسم کی کوئی سواری ہے نہ ہی کوئی اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ نہ کوئی فکس ٹی۔ اے /ڈی۔ اے اور نہ پیٹرول دیا جاتا ہے۔ صرف معمولی تنخواہ ملتی ہے اور ذاتی خرچ پر پیٹرولنگ کرنا پڑتی ہے جس سے تنخواہ جنگل کے گشت میں خرچ ہو جاتی ہے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ سرکاری جنگلات بہت بے دردی سے اور تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں۔
سب سے بنیادی اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ محکمہ جنگلات میں پراسیکیوشن سسٹم غیر قانونی طور پر معطل ہے کیونکہ اس کا کوئی تحریری آرڈر کسی اتھارٹی نے جاری نہیں کیا، فارسٹ افسر ز ڈیمیج رپورٹس کی پراسیکیوشن نہیں کرتے لیکن اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں لیکن عرصہ دراز سے خالی پی۔ سی رجسٹر اس بات کی گواہی ہیں کہ ڈیمیج رپورٹس کی پراسیکیوشن عرصہ دراز سے بند ہے۔ نقصان جنگل کرنے والے کو کوئی سزا اور جرمانہ نہیں ہو رہا کیونکہ فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز کی ڈیمیج رپورٹس کو محکمہ کی طرف سے عدالتوں میں نہیں بھیجا جا رہا، نقصان جنگل ہو جائے تو ملزمان سے جرمانہ وصول کرنا بھی فارسٹرز اور فارسٹ گارڈز کی ذمہ داری ہے۔
فارسٹ گارڈ ڈیمیج رپورٹ کاٹے یا ملزم کے خلاف پرچہ پولیس دے پھر بھی افسر ز کی طرف سے زبانی احکامات ہیں کہ نقصان جنگل کا جرمانہ ہر حال میں ملزمان سے وصول کریں یا اپنی جیب سے جمع کروائیں ڈیمیج رپورٹس عدالتوں کو بھیجی نہیں جا رہی اس لئے فارسٹرز اور فارسٹ گارڈز کے لئے ملزمان سے جرمانہ وصول کرنا ہی واحد راستہ ہے جو ٹمبر مافیا سے وصول کرنا ناممکن ہے۔ جرمانہ نہ ملنے کی وجہ سے ملزمان کے خلاف ڈیمیج رپورٹ اور پرچہ پولیس کے باوجود فارسٹ گارڈ اور فارسٹر کو نقصان جنگل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور لاکھوں اور کروڑوں کا نقصان فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز کی تنخواہوں سے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت
Inefficiency & misconduct
کے چارج لگا کر ماہانہ کٹوتی کر کے پورا کیا جاتا ہے اور محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ہے اربوں روپے کی یہ ریکوری فیلڈ سٹاف کی تنخواہوں سے کی جا رہی ہے اور محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ہے جس کا تمام ریکارڈ ہر فارسٹ ڈویژن کے پیداوار جنگل کے فارم 11 میں درج ہے۔
محکمہ جنگلات پنجاب کے 35 فارسٹ ڈویژن میں سے ملازمین کی تنخواہوں کا چارٹ اور فارم 11 کا ریکارڈ 2006 سے 2018 تک چیک کیا جائے تو اس شدید ظلم اور زیادتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو ان افسر ز نے ان فیلڈ ملازمین اور ان کے بچوں پر کیا ہے۔ پیڈا ایکٹ کا اس قدر بے رحم اور جابرانہ استعمال صرف محکمہ جنگلات پنجاب کے افسر ز کر رہے ہیں جو سراسر غیر قانونی ہے اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ کوئی خوش قسمت فارسٹ گارڈ اور فارسٹر ہو گا جس کو مکمل تنخواہ ملتی ہے ورنہ سب کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ہے۔
ھم اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پنجاب کے جنگلات سے قیمتی درخت لاکھوں کی تعداد میں غائب ہو چکے ہیں جن کی جگہ پہ اب نئے چھوٹے پودے یا زیبائشی پودے لگا دیے گئے ہیں اور معاملہ دبا دیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کو آج بھی برطانوی دور کے قانون کے تحت چلایا جا رہا ہے جو آج کے دور میں موثر نہیں ہیں۔ لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے کو عدالت چند سو روپے جرمانہ کر کے چھوڑ دیتی ہے جس کی وجہ سے لکڑی چوروں اور ٹمبر مافیا کو روکنا نا ممکن ہو چکا ہے اور وہ بے خوف و خطر نقصان جنگل کرتے ہیں اور محکمہ جنگلات پنجاب سوائے اپنے ملازمین کو ریکوری اور سزائیں دینے کے کچھ نہیں کر پا رہا،
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام صوبوں کے محکمہ جنگلات کے نظام کا تقابلی جائزہ لیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں تبدیلی کر کے اسے بہتر بنایا جائے تا کہ لکڑی چوروں اور ٹمبر مافیا کو سخت سزا ملے اور ان کی حوصلہ شکنی ہو۔
دوران ڈیوٹی فیلڈ سٹاف کو ذاتی اسلحہ رکھنے کا پرمٹ جاری کیا جائے۔ محکمہ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ محکمہ جنگلات کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پرچہ پولیس درج کیا جائے تا کہ ملزمان سے جرمانہ اور لکڑی ضبط کر کے جنگلات اور قومی وسائل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ سسٹم کے نقائص اور کمزوریوں کے باعث ملزمان جرمانہ نہیں دیتے اور نہ انہیں سزا ہوتی ہے اور یہ نقصان پیڈا ایکٹ لگا کر فیلڈ سٹاف کی تنخواہوں سے ماہانہ کٹوتی کر کے پورا کیا جاتا ہے۔
ہم عرض گزار ہیں کہ پنجاب میں جنگلات کی تباہی کے عوامل کی تحقیقات کی جائیں اور پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی، محکمہ جنگلات پنجاب کے ذمہ داروں کو کمیٹی کے اجلاس میں طلب کر کے تمام معاملات کی تحقیق اور تفتیش کرے اور حکومت کو اصلاح احوال کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے تا کہ ہزاروں چھوٹے ملازمین اور ان کے بچے اس معاشی دہشت گردی سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتیں جنگلات کی ترقی اور فروغ کے لئے وقف کر سکیں۔


