ایک باشعور پاکستانی سے ٹیلی فون پر مکالمہ


کچھ روز ہوئے ایک دوست کو پاکستان فون کیا یہ پوچھنے کے لیے کہ انھیں میری کتاب ملی یا نہیں۔ انھوں نے رسمی سلام دعا  کے بعد بتایا کہ وہ ایک سیاسی جلسہ میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو رمضان کے دن ہیں اور ان دنوں عام طور سے معمولات مختلف قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ یہ سن کر کہنے لگے کہ اسی لیے رہنماؤں نے دانش مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے جلسہ کا وقت صبح کو رکھا ہے۔

:میں نے پھر عرض کیا کہ سیاسی جماعت کا یہ جلسہ ایسا کیا اہم ہے کہ عید تک موخر نہیں کیا جا سکتا۔ تو بولے ”آپ کو باہر رہتے ہوئے اندازہ نہیں کہ ہم جلسے جلوس نہیں نکال رہے درحقیقت جہاد کر رہے ہیں۔“ اب میں واقعی مخمصے میں پڑ گیا۔ جہاد؟ کون سا جہاد؟ کس کے خلاف؟ ”میں نے پوچھا۔“قوم کے چور، لٹیروں کے خلاف، ملکی خزانے کو ۔۔۔” اور پھر انھوں نے غالباً اپنے لیڈر کی کسی تقریر کا ایک رٹا رٹایا حصہ میرے گوش گزار کیا۔ میں نے تحمل سے سنا اگرچہ اس میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ وہی پرانی الزام تراشی اور وہی قدیم جذباتیت۔

میں نے انھیں یاد دلایا کہ انھیں اپنی دکان پر بھی تو جانا ہو گا۔ اس پر انھوں نے مجھے سمجھایا کہ عظیم قومی مقاصد کے لیے چھوٹی موٹی ذاتی قربانیاں دینا ہی پڑتی ہیں۔

لیکن دکان تو آپ کے روزگار کا وسیلہ ہے۔ کام کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں؟ ”میں نے فکرمندی سے کہا“

:ایک بار تبدیلی آ گئی تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ”انھوں نے منطق پیش کی۔ پھر طنزیہ لہجے میں گویا ہوئے“

”لگتا ہے، کینیڈا جا کر آپ کی سیاست میں قطعی دل چسپی نہیں رہی۔ بس ڈالر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔“

میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ میں اور میرے سبھی اہل خانہ سیاسی جماعتوں کے منشور اور پالیسیوں سے آگاہ ہیں اور اسی کے مطابق ہر چار سال بعد ووٹ دینے کا فریضہ بھی ادا کرتے ہیں۔ سیاست کو اتنا وقت اور توجہ ضرور دیتے ہیں جتنی ضروری ہے۔ انتخاب کے دن دفتر سے ایک گھنٹے کی چھٹی ملتی ہے تاکہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا جائے اور پھر واپس کام پر ۔ ورنہ ڈاک کے ذریعہ پیشگی ووٹ بھیجنا پڑتا ہے۔

"مطلب یہ کہ وہاں کے لوگ ہماری سطح کا سیاسی شعور نہیں رکھتے اور ہماری طرح کمٹڈ نہیں ہیں۔ زندگی بس کھانے کمانے کے گرد گھوم رہی ہے آپ لوگوں کی۔ ”وہ کہتے ہی چلے گئے۔

میں نے کچھ وضاحت کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ لوگ کافی شعور رکھتے ہیں اور ووٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے بہت سوچ سمجھ سے کام لیتے ہیں۔ مگر اس کے لیے کاروبار حیات کو ٹھپ کردینے کے حق میں نہیں۔ سیاست بہت اہم ہے مگر سماج کا ایک ادارہ ہی تو ہے۔ معاشرے کے دوسرے اہم سماجی ادارے بھی اتنے ہی ضروری ہیں اور اتنی ہی توجہ اور کمٹمنٹ چاہتے ہیں۔ خاندان ہے، معیشت ہے، ماحولیات ہے۔ اور۔

بس رہنے ہی دیجیے، جناب۔ سچی بات کڑوی ہوتی ہے۔ سچ سننا چاہیں تو میں بتاؤں کہ یہ مسائل جو ہم یہاں بھگت رہے ہیں یہ سب آپ کے مغربی ممالک ہی کی دین ہیں۔ ”انھوں نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔

” مغربی ممالک کی دین؟ میں نے جواباً کہا۔“ بھائی، ماحول کو صاف ستھرا تو وہاں رہنے والوں نے ہی رکھنا ہے۔ اب کینیڈا سے تو کوئی صفائی کرنے نہیں آئے گا۔ ”

”میں گلی محلے کی صفائی کی نہیں تیسری دنیا کے ممالک میں سیاسی ماحول اور عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کی بات کر رہا ہوں۔ ہم بھی رپورٹیں شپورٹیں دیکھتے ہیں یہاں۔ اب سب کچھ کھلا ہے۔ آپ لوگ اپنے ملکوں کا کچرا جو ادھر ہمارے ایشیائی ملکوں میں ڈمپ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کو نہیں پتا کیا؟ ” انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔

"ہاں، میں جانتا ہوں مگر یہ وہاں کی حکومتوں سے باقاعدہ معاہدے کے تحت ہوتا ہے۔ شاید وہ اس کچرے کو کارآمد بنا سکتے ہوں یا کچھ اور۔ ”میں جانے اور کیا کہنا چاہتا تھا کہ وہ بولے

”بھائی جان، یہ سب بیرونی سازشیں ہیں۔ آپ مان جائیے۔ ہم تو دیکھ رہے ہیں یہ سب لیکن اب صفائی ہو کر رہے گی۔“

"اس کا آغاز اپنی گلی کی رضاکارانہ صفائی سے کریں تو کتنا اچھا اور مثالی کام ہو۔ ہمارے یہاں کینیڈا میں بھی سرکاری عملہ ہونے کو باوجود شہری رضاکارانہ طور پر باقاعدگی سے سڑکوں کے ارد گرد صفائی میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ”میں نے قدرے تحمل سے کہا۔

”میں اوپر کی صفائی کی بات کر رہا ہوں۔ یہ گلی محلے کی صفائی بھی ہوتی رہے گی۔ بھائی میرے، اگر اوپر صفائی ہو گئی تو نیچے بہتری خود ہی آ جائے گی۔“ وہ کچھ ایسا کہہ رہے تھے۔

لیکن پیارے دوست، شاید آپ کو یاد ہو پاکستان اور کچھ دوسرے ممالک میں ماضی میں بھی ایسی ”صفائیاں“ کی گئی تھیں۔ مگر نتائج مجموعی طور پر منفی ہی نکلے تھے اور پھر آپ دیکھیے خاندان، معیشت اور دوسرے سماجی ادارے بھی تو ۔۔۔”

اب اپنی سوشیالوجی مجھ پر نہ جھاڑیں۔ ہر ملک کی ترجیحات اس کی صورت حال کے مطابق ہوتی ہیں۔ ”انہوں نے فوراً کہا۔“ باقی سارے اداروں کی بہتری سیاسی شعبے میں بہتری سے جڑی ہوئی ہے ”۔

”سیاسی ادارے کی اہمیت سے انکار نہیں۔ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر ساری توانائی ایک مد میں صرف کردی جائے گی تو دوسرے امور مناسب توجہ سے محروم رہیں گے۔“ میں نے پھر اپنی بات واضح کرنا چاہی۔

"آپ میری بات سمجھ ہی نہیں رہے۔ ہمیں اس وقت ایک اہم قومی فریضہ انجام دینا ہے کیونکہ اب حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ ابھی یا کبھی نہیں۔ اگر اب ہم نے قدم نہیں اٹھایا تو تو ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں”۔

میرے ذہن نے عجیب زقند بھری اور ایک ہی لمحہ میں تاریخ کی کتب میں پڑھے تحریک خلافت کے کسی جلوس کے جذباتی منظر سے ہو آیا۔

”اچھا بھائی، خوش رہو۔ میرا تو سونے کا وقت ہو رہا ہے۔ صبح سات بجے تک تیار ہوکے آفس کے لیے نکلنا ہو گا۔ تم سے بات کر کے اچھا لگا۔

"اچھا، بڑی جلدی سو جاتے ہیں آپ لوگ۔ ”وہ قدرے حیرت سے بولے۔ “ہمارا تو وہی معمول ہے۔ رات کو ڈیڑھ دو بجے تک اکرے کے ہوٹل پر یاروں کے ساتھ تازہ حالات پر بحث مباحثہ چلتا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر سنجیدگی سے غور و خوض ہوتا ہے۔ پھر کہیں گھر واپسی ہوتی ہے۔”

تو پھر آپ دکان پر کس وقت جاتے ہیں؟ ”مجھے تشویش ہوئی۔“

دکانیں تو دوپہر کے قریب ہی کھلتی ہیں۔ صبح کو گاہک ہی نہیں آتے تو دکان کھول کر کیا کریں؟ ”وہ آرام سے بولے“

عجیب بات ہے۔ ”میں نے کہا“
” آپ کو کافی وقت ہو گیا ہے یہاں سے گئے ہوئے اس لیے عجیب لگ رہا ہے ورنہ ایسی کوئی فکر کی بات نہیں۔“
”اچھا، چلو ٹھیک ہے۔ ایسا ہی ہو گا۔“


” اچھا تو میں بھی چلتا ہوں۔ بیٹا بھی تیار ہو کر آ گیا ہے۔“ وہ بولے
” اچھا تو اسے کالج چھوڑتے ہوئے جلسے میں جائیں گے؟ ”میں نے کہا
” ارے نہیں بابا، کالج نہیں۔ یہ میرے ساتھ آج جلسہ ہی میں جائے گا۔ کالج والج بعد میں دیکھا جائے گا۔“
”لیکن اس کی پڑھائی!“

بھائی، آپ کو بتایا تو تھا ابھی کہ ہم جہاد پر نکلے ہوئے ہیں۔ اوپر صفائی کا وقت آ گیا ہے۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ ہماری داستاں تک بھی۔ ”وہ پھر شروع ہو گئے تھے۔“

” اچھا، مجھے تو اب اجازت دیجیے۔ عید پر بات ہوگی۔ مبارک بادیوں پر ۔ آپ کو صبح بخیر اور مجھے شب بخیر، گھر میں سب کو سلام۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔“

” خوش تو ہم اسی دن ہوں گے جس دن بدعنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار۔“
ا ”چھا، تو خدا حافظ“
اللہ حافظ ”۔“
میں نے فون بند کرنے ہی میں عافیت جانی۔

Facebook Comments HS