سالک ’کی کہانی، درویش کی زبانی

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار! چلیے، آج دَرویش اور دُرویش میں فرق پر بات نہیں کرتے اور سیدھے ’سالک‘ پر آ جاتے ہیں۔ جن ’سالکین‘ سے میں، نام کی حد تک ہی سہی، بچپن سے آشنا تھا ان میں سے مولانا علم الدین سالک اور پروفیسر عبدالمجید سالک کے نام میں کبھی فراموش نہ کر سکا کیوں کہ و الدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری ان علمی ہستیوں کا ذکر علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر امروہوی کے تذکرہ

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

ہمارے دو محبوب شاعر: ظفر زیدی اور مصطفیٰ زیدی

خالد سہیل کا خط قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب جب ہم دونوں مل کر اپنی کتاب ”مشترکہ محبوبہ“ مرتب کر رہے تھے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت اور مسرت ہو رہی تھی کہ ہم نے مل کر جو ادبی کام کیا ہے اس میں خطوط ’کالم اور انٹرویو سبھی شامل ہیں۔ اس کتاب نے مجھے یہ تحریک دی کہ میں آپ کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا سلسلہ جاری رکھوں تا کہ آپ کی ادبی لیاقت و

Read more

قدیمی باشندوں سے معافی کا قومی دن

آج سے پچیس برس قبل جب میں اور طاہرہ اپنے تین ننھے ننھے بچوں کے ہاتھ تھامے کینیڈا کے اقتصادی اور ثقافتی مرکز ٹورانٹو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے (پیئرسن انٹرنیشنل) پر اُترے تھے تو دو صدیوں کے دوراہے پر موسم گرما کی وہ ڈھلتی شام پت جھڑ سے مصافحہ کر رہی تھی۔ ہمارے ابتدائی ایام ٹورانٹو کے جس مسلم اکثریتی علاقے میں گزرے اُسے یار لوگ از راہِ تفنن ”اسلامی جمہوریۂ تھارن کلف“ کہتے ہیں۔ وہاں گزارے دنوں کی

Read more

مشترکہ محبوبہ اور مولوی صاب

ہم سب پر یارِ مہرباں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا تازہ کالم ”میری دو کمزوریاں میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ“ پڑھا اور حسبِ سابق اوّلین فرصت میں پڑھا۔ ان کے کالم کا مرکزی موضوع ”شوگر“ یعنی ذیابیطس جیسا موذی مرض ہے جو دنیا بھر میں انسان کی جان کو آیا ہوا ہے۔ کالم میں اس تشویش ناک امر کا اعلان بھی ملتا ہے کہ ستّر برس کے ہمارے یہ نوجوان، فعال اور سرگرم لکھاری، دانش ور اور مفکر دوست بھی

Read more

آگ کتنی روشن ہے: اختر حسین جعفری صاحب کی نظم پر ایک تاثریہ

زندگی کے سفر میں اپنی تنہائی کو مہکانے کا جو نسخہ میرے ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ کسی اچھی نظم کے ساتھ وقت گزارا جائے اور اگر وہ اجازت دے تو اس سے مکالمہ کیا جائے۔ ایسے میں میں نے محسوس کیا ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے میرا ذہن تخیل کے پروں پر سوار ہمیشہ کسی نئے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ کبھی منظروں میں کھو جاتا ہے اور کبھی مصرعوں کے ساختیاتی حُسن میں گُم ہو جاتا

Read more

کچھ اقبال ساجد کے بارے میں

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آپ کا ادبی مکتوب نظر نواز ہوا جس میں آپ نے لاہور کی ایک منفرد ادبی شخصیت زاہد ڈار صاحب سے قلمی تجدیدِ ملاقات کا سامان کیا ہے۔ آپ کے خط سے پاک ٹی ہاؤس اور اس کے مستقل ”نشینوں“ کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں اور زاہد ڈار کی شاعری سے بھی حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ اس حوالہ سے دل چسپ بات یہ کہ زاہد ڈار صاحب ان شخصیات میں سے تھے جن

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی: آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟

آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی سے پوچھتے ہیں ملاقات تو دراصل مسی ساگا کے ایک انڈین ریستوران میں ہونا طے پائی تھی مگر میرے اصرار پر اسے اونٹاریو جھیل کے کنارے واقع شہر برلنگٹن کے ایک افغان کباب ریستوران میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہ سب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کمال شفقت کا نتیجہ تھا۔ شام ڈھلنے سے کچھ پہلے جب میں ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب

Read more

سفر تو آغاز ہو چکا ہے: ایک پہر نجیب احمد کی شاعری کے ساتھ

اُڑ نہ جائیں پھر درختوں سے ہرے پتوں کے غول اِک یہی ڈر تھا، مرا کچھ اور سرمایہ نہ تھا اس پُر تاثیر شعر کی وجدانی کیفیت کی گونج میں جھومتے ہوئے، سرمائے شمالی سے ٹھٹھرتے اِس شفّاف دن کی آخری ساعتوں سے ہم نگاہ، میری آنکھیں آسمان کے وسیع رنگین کینوس پر آج جو براہِ راست فضائی مظاہرہ دیکھ رہی ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہے اور دل کش بھی۔ فلیم بورو کی نِیم شہری آبادی سے گریزاں اس

Read more

جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر

”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“ شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔ سال انیس سو اٹھاسی ہے۔ شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔ لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے

Read more

جی چاہتا ہے اور اندھیرا دکھائی دے

لیاقت علی عاصم کی شاعری کے ساتھ شب گردی کینیڈا کی معروف ماہرِ رقص خاتون شینن لٹسن برگر اِس بار اپنے آبائی اور انتہائی سرد شمالی صوبے سسکیچوان گئیں تو وہاں انہیں گراس لینڈز نیشنل پارک کی سیرِ شب کا موقع بھی ملا۔ گراس لینڈز پارک کینیڈا کے ان چودہ پارکوں میں سے ایک ہے جنہیں سرکاری طور ہر ”ڈارک سکائی ریزرو“ کا درجہ حاصل ہے۔ گراس لینڈز کینیڈا میں اس نوعیت کا سب سے بڑا نہ سہی سب سے

Read more

پاپی ”عُرف قُربِ قیامت کی نشانیاں“

(یہ تحریر ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کی مشترکہ کتاب ”پاپی“ کی فیملی آف دی ہارٹ کے زیرِ اہتمام ٹورانٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ رُونمائی میں پڑھی گئی) …………………………… ! خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار میرا بچپن لاہور کے ایک قدیم علاقے مزنگ کی گلی نمبر چالیس میں گزرا۔ (قہقہہ) ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں میرا یقین کیجیے میں بھی کبھی بچہ رہا ہوں یہ وہی مزنگ ہے جس میں نام ور شاعر مِیرا جی

Read more

بہتر برس کا نوجوان: ڈاکٹر خالد سہیل

آج نو جولائی انیس سو چوبیس ہے اور آج کے دن۔ ۔ ۔ مگر ٹھہریئے، آج پر بات کرنے سے پہلے اسّی کی دہائی کا ایک واقعہ سُن لیجیے۔ لاہور کے ہوٹل فلیٹیز کے کشادہ مرکزی ہال میں پاکستانی ثقافت پر ایک تقریب بپا تھی جس کی صدارت فیض احمد فیض صاحب کر رہے تھے۔ تقریب کے اختتام پر جب انھیں اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تو انھوں نے اپنی گفت گو کا آغاز کرتے ہوئے جہاں اس تقریب

Read more

ادبی و پیشہ ورانہ زندگی کا رشتہ

خالد سہیل کا خط ! محترمی و مکرمی و معظمی حامد یزدانی صاحب میں جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنی نوجوانی میں میں ایک شاعر اور فلاسفر بننا چاہتا تھا اور میری والدہ مجھے ایک ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں چنانچہ میں ایک ماہر نفسیات بن گیا جس میں ایک شاعر ’ڈاکٹر اور فلاسفر آپس میں بغل گیر ہو گئے۔ کینیڈا آنے سے پہلے مجھے وہ دن رات اب بھی یاد ہیں

Read more

یزدانی جالندھری: بحیثیت والد، بطور تخلیق کار

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب (ممنون ہوں کہ آپ نے پروفیسر محمد حسن صاحب سے متعلق اپنے مکتوب کے آخر میں مجھ سے ”ہم سب“ کے قارئین کے لیے اپنے والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری (جنھیں ہم پاپا جی کہتے تھے کے بارے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ آپ کی یہ فرمائش کیسی بروقت و برمحل ہے کہ اسی ماہ یعنی جون ہی میں دنیا بھر میں ”فادرز ڈے“ بھی منایا جاتا ہے۔ یزدانی جالندھری صاحب میرے والد

Read more

شاہزادہ سخن امیر حسن جعفری کا جشنِ صحت

خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار اردو شعر و ادب کی تاریخ، یوں تو، ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج مجھے سن اٹھارہ سو چوّن کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب بہادر شاہ ظفر ابھی شہنشاہِ ہند نہ بنے تھے بلکہ ولیِ عہد یا شہزادے تھے اور اچانک بیمار پڑ گئے تھے۔ شہزادے کو صحت ہوئی تو والد گرامی یعنی بادشاہ سلامت نے ان کے لیے سرکاری طور پر جشنِ صحت منانے کا اعلان کیا۔

Read more

لاہور کہاں ہے؟

سوچتا ہوں کہ پانچ برس تو ہو ہی گئے ہوں گے میرے شہر لاہور کو یونیسکو کی جانب سے ”شہرِ ادب“ کا اعزاز پائے ہوئے۔ مجھے یاد ہے اس اعزاز کے اعلان سے اگلے روز ہی لاہور سے تخلیق کار دوست راجا نیر کا پیغام موصول ہوا تھا کہ ایک مقامی اخبار کے لیے انھیں میرے تاثرات درکار ہیں۔ میں نے قلم برداشتہ چند سطور رقم کیں اور انھیں بھیج دیں۔ وہ سطور کچھ یوں تھیں : لاہور کی حسین فضاؤں

Read more

ترقی پسند نقاد پروفیسر محمد حسن کے حوالے سے مکالمہ

حامد یزدانی کا خط ۔ ۔ ! محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب میں زندگی میں اتفاقات پر بھی یقین رکھتا ہوں مگر ان سے کہِیں زیادہ حادثات پر ۔ کیوں کہ حادثات، میرے خیال میں، اتفاقات سے زیادہ پیش آتے ہیں انسان کو ۔ یا شاید یاد زیادہ یہی رہ جاتے ہیں۔ نہیں کیا؟ بہرحال، سرِ دست کسی حادثے پر بات کرنا مقصود نہیں۔ ایک اتفاق بلکہ حسیں اتفاق آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے میں

Read more

دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے: جرمن زبان کے شاعر رِلکے اور ان کی نظمیں

” میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔“ نپے تلے ریڈیائی لہجے میں ادا کیے گئے اس سادہ سے جملے نے جہاں مجھ پر ماضی کے کئی در وا کر دیے وہاں اعزاز آئندہ کی نوید بھی سنا دی۔ میں نے سامنے دھرے سکرپٹ پر سے نگاہ اٹھا کر میز کے دوسری جانب کھڑی ثریا شہاب صاحبہ کی جانب دیکھا جو سرخ سویٹر اور سفید پتلون میں ملبوس اپنے نفاست سے تراشیدہ بالوں کو دائیں ہاتھ سے کان کے پیچھے

Read more

کیا سیاست ہمارے رویّے میں شدت پیدا کرتی ہے؟

اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ایک ذاتی سا احساس شیئر کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مقیم اپنے بعض پرانے دوستوں سے جب کبھی فاصلاتی رابطہ ہو تو میں ان کی اور اپنے دوستوں کی خیریت جاننے کا متمنی ہوتا ہوں۔ پوچھتا ہوں: ”یار، فلاں دوست کیسا ہے؟ کافی روز سے بات نہیں ہوئی۔“ دوسری جانب سے ناگواری سے جواب ملتا ہے: ”ارے، کس بے ایمان کی بات کر رہے ہو۔ کراہت

Read more

رات، اور مَیں سفر میں: جدید آئرش شاعر جوزف کیمبل اور اُن کی نظمیں

اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ یہ ”بچپن سے“ محاورتاً نہیں لکھ رہا۔ واقعتاً لکھ رہا ہوں۔ گھر میں والد صاحب جناب یزدانی جالندھری کی کتابوں کا جو ذاتی ذخیرہ تھا اُس میں کتنی ہی زبانوں کی کتب اور جرائد موجود تھے۔ میں طبع زاد اردو ادب کے ساتھ ساتھ ان کی محفوظ کی ترجمہ شدہ کتابیں بھی ”چٹ“ کر جاتا تھا۔ مثلاً کی کتابوں میں مجھے قیامِ پاکستان

Read more

کیا آپ کی داڑھی سفید ہو رہی ہے؟

تحریر: حامد یزدانی اور خالد سہیل ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی کا خط ۔ ۔ ۔ ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ گزشتہ روز آپ سے فون پر بات ہوئی تو اپنی خیریت اور تازہ ترین صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے میں نے جب یہ مصرع پڑھا: کہ آئینے میں اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی تو آپ بے ساختہ ہنس دیے تھے اور پھر آپ نے اپنے مخصوص اور پرخلوص انداز

Read more

ایک اور ایک گیارہ: ایک اشتراکی معرکہ

مجھے یاد ہے بچپن سے لڑکپن تک ہمارا معمول یہ رہا کہ اِدھر گرمیوں کی چھٹیاں آغاز ہوتیں اور اُدھر ہم لائل پور یعنی فیصل آباد جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے کیونکہ سکول بند ہونے سے ہفتوں پہلے ہی لائل پور سے نانا جان کی طرف سے دعوتی پوسٹ کارڈ موصول ہوجاتا تھا۔ دو ماہ وہاں کی کُھلی فضا میں گزارنے کے بعد لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی گلیوں میں لوٹتے تو جانے کیوں وہ ہمیں پہلے

Read more

ہیں پرانے وہی غم نئے سال میں

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شے اتفاقاً ہمارے سامنے آجاتی ہے اور پھر ہماری زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔ اور پھر وہ معمول روایت سی بن جاتا ہے۔ پرانی یعنی ”زمانہ قبل از سوشل میڈیا“ کی بات ہے۔ میں نے یورپ میں قیام کے دوران میں اپنا پہلا نیا سال دریائے رائن کے کنارے واقع خوب صورت تاریخی شہر کولون میں منایا تھا۔ یہ انیس سو نوے کی بات ہے۔ رائن کی لہروں میں آتش بازی کے

Read more

اور کرسمس سفید ہو نہ سکی

برف کی سفیدی سے ڈھکے صنوبر کے بلند بالا پیڑوں کی ایک قطار کے پہلو میں چمکتی سفید چراگاہ جس کے عین بیچ میں بھوری کھال پر ننھے ننھے سفید دھبوں پر اتراتے دو بڑے ہرن اور ان کا ایک بچہ نیم روشن جھیل میں اپنے عکس دیکھنے میں مگن ہیں۔ جھیل کا پانی جم کر شفاف آئینے کا روپ دھار چکا ہے۔ سارے میں جھٹپٹے کا عالم ہے۔ شام ڈھلنے کو ہے یا دن نکلنے کو بے تاب ہے؟

Read more

کیا آپ کو نانی اور دادی بننے کا شوق ہے؟

مصنف: خالد سہیل / حامد یزدانی ۔ خالد سہیل کا خط محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب کووڈ کی وبا کے دوران ہماری گروپ میٹنگز زوم پر ہوتی تھیں لیکن جب سے کووڈ کی وبا ختم ہوئی ہے اب گروپ میٹنگز کلینک میں ہوتی ہیں۔ ان میٹنگز میں ہمارے مریض اپنے نفسیاتی ’ازدواجی اور خاندانی مسائل پر تبادلہ خیال کر کے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آج کی میٹنگ میں ایک دلچسپ موضوع پر تبادلہ خیال ہوا۔ میں نے

Read more

نوید صبح ہیں، سارے جہاں کے بچے ہیں

خالد سہیل حامد یزدانی ۔ خالد سہیل کا خط …………….. میرے یار طرحدار حامد یزدانی آپ سے پچھلے چند خطوط میں کینیڈا کے قوانین اور خاندان کی ذمہ داریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے میں اپنی غیر روایتی زندگی اور باپ بننے کے تجربے کے بارے میں سوچنے لگا۔ چونکہ اب آپ کی اور ’ہم سب‘ کے قارئین کی دوستی میں بے تکلفی کا عنصر بڑھ رہا ہوں اس لیے اب آپ سے چند ذاتی تجربات شیر کرنا

Read more

کینیڈا میں بچوں کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات آپ کا از حد ممنون ہوں کہ آپ نے میرے گزشتہ خط کا تفصیلی، پر مغز اور مفید جواب رقم کیا جس میں نہ صرف ”ڈھلتی عمر کی اداسی“ کے احساس کی وضاحت کی بلکہ اس کی علمی یا سائنسی حقیقت اور مختلف صورتوں سے بھی آگاہی عطا کی اور ساتھ ہی ساتھ اس احساس سے نمٹنے کے لیے کچھ موثر طریقے بھی درج دیے۔ آپ نے جیتی جاگتی مثالوں کا سہارا

Read more

کیسی کھنک رہی ہیں خزاں کی یہ بارشیں

رم جھم کے ساتھ کرگا ہے پتوں کا شور بھی یہ شعر میرے دوسرے شعری مجموعہ ”گہری شام کی بیلیں“ میں شامل اس غزل کا حصہ ہے جو برسوں پہلے جرمنی کے شہر کولون میں کہی تھی۔ مجھے یاد ہے ایسی ہی ایک پت جھڑ کی شام تھی جب میں، امجد اور طاہرہ اپنے دفتری احباب کے ساتھ کہیں عشائیے پر جا رہے تھے۔ منزل مقصود کے قریب پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش نے آ لیا اور بوندوں کی جل

Read more

ڈھلتی عمر کی اداسی

حامد یزدانی خالد سہیل حامد یزدانی کا خط ! ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب امید کہ آپ بخیر ہوں گے۔ یوں تو آپ کی علم و تجربہ سے بالواسطہ اور بلا واسطہ مسلسل ہی استفادہ کرتا رہتا ہوں اور آپ کی شخصیت کی ہمہ جہتی کے بدولت یہ استفادہ کئی ایک شعبوں میں ہوتا ہے۔ ان شعبوں کا دائرہ کار شعر و ادب سے فکر و فلسفہ تک اور روزمرہ زندگی کے معاملات سے تاریخی، سماجی اور نفسیاتی موضوعات تک

Read more

لاہور کا سقراط : ایک کتاب، ایک سفر

ستر کی دہائی میں جب میں لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور بازاروں میں اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لیے سگریٹ کی خالی ڈبیاں اکٹھا کرنے میں مگن ہوتا تھا۔ مجھے کہاں پتہ تھا کہ ان دنوں اسی شہر کے دانش کدوں، چائے خانوں اور ترقی پسندی کے مراکز پر لاہور کے سقراط علم و دانش، بیداری اور شعور کی کرنیں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ہم نفسوں کو بامعنی

Read more

ہیپی ہیلووین: کون پھرتا ہے نہ جانے کس کا چہرہ اوڑھ کر

مجھے یاد ہے نوّے کی دہائی تک جرمنی میں ہیلووین نام کا کوئی تہوار نہیں منایا جاتا تھا۔ کم از کم کولون اور اس کے گردونواح میں تو ہرگز نہیں۔ کولون میں منائے جانے والے قابلِ ذکر موسمی یا ثقافتی تہواروں میں مقبول ترین تو رنگا رنگ کارنیوال تھا جو ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا۔ اس کا مرکزی جلوس تو شہر کے مرکزی حصہ ہی سے نکلتا تھا جس کا آنکھوں دیکھا حال ٹی وی، ریڈیو

Read more

سفر تمام ہوا ہمرہاں بدلتے ہوئے : توصیف تبسم

:ادھر دفتر میں لنچ بریک کا وقت ہوا اور ادھر واٹس ایپ پر کال کی گھنٹی بجنے لگی۔ سکرین پر روشن سرخ اور سبز دائروں میں سے سبز پر شہادت کی انگلی پھیری اور رابطہ قائم ہو گیا ہیلو، السلام علیکم۔ کیا حامد یزدانی صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟ میں توصیف ”تبسم بول رہا ہوں اسلام آباد سے۔“ دوسری طرف سے ایک مشفقانہ آواز کہہ رہی تھی۔ ” وعلیکم السلام، ڈاکٹر توصیف تبسم صاحب۔ میں، حامد یزدانی ہی بات

Read more

ادب کی کہکشاں کا ایک ستارہ: صائمہ زیدی

(یہ مضمون جرمنی میں مقیم منفرد شاعرہ صائمہ زیدی کے لیے ٹورنٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ پذیرائی میں پڑھا گیا) خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار، حقیقت یہ ہے کہ میری حالت اِن دنوں اُس شتر مرغ کی سی ہے جو ریت میں سر چھپائے کسی محاورے میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ؟ وجہ جاننے کے لیے آپ کو ایک بار پھر میرے ساتھ لاہور کی سیر کرنا ہوگی جب فلیٹیز ہوٹل میں اشرف جاوید صاحب کے اوّلین

Read more

خالد سہیل: ستّر سُنہری برس اور ستّر ادبی تحفے

(یہ مضمون امیر حسین جعفری کی مرتب کردہ کتاب ”ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت“ کی تقریبِ پذیرائی منعقدہ ٹورانٹو، کینیڈا کے لیے لکھا گیا) ……………………………… خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار جانے کیوں جب بھی کسی محفل یا تقریب کی دعوت ملتی ہے مجھے بے ساختہ احمد مشتاق کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا اِس شعر کا عصری جواز یا ریلے وینس

Read more

جرمن زبان کے شاعر یُرگن اور روزمرہ کی شاعری کی تحریک

یہ رائن کی مچلتی، گنگناتی ریشمی لہریں حسیں یادوں کے، جل تھل موسموں کے خواب بنتی ہیں مہکتے شہر کی، بہکی ہوئی یہ نرم رو نیلی ہوائیں کیوں مری ہم راز بننا چاہتی ہیں میں کہ ٹھہرا بے وفا، سیماب پا، لفظوں کا بیوپاری بھلا میں گنگناتی اجنبی لہروں سے کیا وعدہ کروں ( دریائے رائن کے کنارے ) نوے کی دہائی کے اوائل میں جب میں ایسی نظمیں کہتے ہوئے اپنے شاعر، ادیب اور فن کار دوستوں کے ساتھ

Read more

سات سمندر پار اردو ادب: ایک جائزہ

خواتینِ ذی وقار اور حضراتِ خوش اطوار سوچتا ہوں کہ حسنِ اتفاق کی اس سے عمدہ عملی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ عزیز تخلیق کار دوست خلیق الرحمٰن نے مجھے حلقۂ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اُس اجلاس میں ’ابتدائیہ‘ پیش کرنے کی دعوت دی ہے جس کا موضوع ہے ”سمندر پار پاکستانی اردو ادب: ایک جائزہ“ اور ابھی چند روز قبل اِدھر ٹورانٹو، کینیڈا میں مقبول نشریاتی ادارے ’ٹیگ ٹی وی‘ کے ادبی پروگرام ’بیٹھک‘ میں ایک خصوصی

Read more

خالد احمد: ادب کا گگلی بولر

ادھر کینیڈا، شمالی امریکا میں موسم گرما کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ طویل اور ”پرتشدد“ سردیوں کے بعد بہار کی خوش گوار خنکی کا دورانیہ رفتہ رفتہ گرمیوں کی پرتپاک تمازت میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے۔ جنوب ایشیائی ممالک کے برعکس یورپ اور شمالی امریکا میں اس موسم کا خیر مقدم خاصے جوش و خروش سے کیا جاتا ہے کیوں کہ اسی رت میں دھوپ سے چمکتے دنوں کے ساحل پر کچھ کھل کر کھیلا جا سکتا ہے۔ بدلتی

Read more

آصف فرخی پر مضمون جو مل ہی نہیں رہا

میرا یقین مانیے، مضمون تو میں نے قلم برداشتہ یکم جون 2020 ہی کو لکھ لیا تھا اور تین جون کو اسے حتمی شکل میں کمپیوٹر میں محفوظ کر دیا تھا یہی سوچتے سوچتے کہ اسے کس دوست کو سناؤں؟ کہاں اشاعت کے لیے بھیجوں؟ بس سوچتا ہی رہ گیا۔ آج کوئی تین برس بعد پرانا لیپ ٹاپ کھولنے کا موقع ملا تو ڈیسک ٹاپ پر یہ ان پیج فائل دکھائی دی ہے۔ فائل پر کلک کرتا ہوں تو پیج

Read more

کیا داتا صاحب ایک ترقی پسند صوفی تھے؟

ہماری زندگی واقعات و مشاہدات کا ایک مجموعہ ہی تو ہے۔ کچھ بامعنی اور کچھ بے معنی، کچھ قابل فہم اور کچھ ورائے فہم۔ کچھ واقعات اور ان کا ربط آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے اور کچھ کا دیر سے اور کچھ کبھی پلے ہی نہیں پڑتے۔ ہو سکتا ہے اس میں زیادہ قصور میری کم فہمی ہی کا ہو۔ ویسے تو سماجی اور سیاسی موضوعات بھی کوئی کم مشکل نہیں ہوتے مگر روحانی روابط کے وجود اور

Read more

درختوں کے ہاتھ خالی ہیں : اختر حسین جعفری

تین جون انیس سو بانوے کو بدھ کا دن تھا۔ دریائے رائن کے کنارے آباد تاریخی شہر کولون کے راڈربرگ گورٹل پر واقع ریڈیو دوئچے ویلے، دی وائس آف جرمنی کی بلند بالا عمارت کی آٹھویں منزل پر اردو سروس کا عملہ معمول کی مصروفیات میں مگن تھا۔ شام کے پروگرام کے لیے موضوعات کا چناؤ اور ذمہ داریاں تقسیم کر کے کیفے ٹیریا میں ناشتہ کیا گیا تھا۔ جنوب ایشیائی نشریات کے انچارج ڈاکٹر گوئبل گروس کو ”ہیلو“ کہتے

Read more

ایک باشعور پاکستانی سے ٹیلی فون پر مکالمہ

کچھ روز ہوئے ایک دوست کو پاکستان فون کیا یہ پوچھنے کے لیے کہ انھیں میری کتاب ملی یا نہیں۔ انھوں نے رسمی سلام دعا  کے بعد بتایا کہ وہ ایک سیاسی جلسہ میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تو رمضان کے دن ہیں اور ان دنوں عام طور سے معمولات مختلف قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ یہ سن کر کہنے لگے کہ اسی لیے رہنماؤں نے دانش مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے جلسہ

Read more

جرمن زبان کے شاعر ایرش فریڈ اور ان کی نظمیں

میں کئی روز سے دیکھ رہا تھا کہ باہم بات چیت کے دوران میں امجد کی جرمن بیگم روزی اچانک اپنی مادری زبان بولنے لگتی تھیں۔ خاص کر جب انھیں امجد سے بات کرنا ہوتی۔ ان کے خاموش ہونے پر امجد مجھے اردو یا پنجابی میں بتاتا کہ بیگم کیا کہہ رہی تھیں۔ امجد علی ”مزنگی“ ہونے کی وجہ سے میرا محلے دار بھی تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھنے کے باعث میرا ہم۔ مکتب بھی۔ بی اے کا

Read more

بھٹو کی پھانسی : یا الٰہی، مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

  دھکا اچانک اور ایسا زوردار تھا کہ دھان پان سا میں بنا کوشش ہی اس ٹرک کے عین سامنے جا کھڑا ہوا تھا جس کی پیشانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کا سہ رنگ جھنڈا سجا ہوا تھا اور جس کی چھت پر پارٹی کے قائد ذوالفقار على بھٹو ہاتھ ہلا ہلا کر جلوس کے شرکا کے پرجوش نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ گہرے نیلی شرٹ اور سر پر اسی رنگ کی کیپ۔ مجھے رسالہ ”چین باتصویر“ کے سرورق

Read more

ٹوٹ بٹوٹ سے کشورِ حسین تک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ ایک کیا اس زمانے کا ہر وہ لڑکا جس نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی کتاب ’جھولنے‘ پڑھ یا دیکھ رکھی تھی وہ ’ٹوٹ بٹوٹ‘ بن کر اصلی نہیں تو خیالی بادام اخروٹ کھا کر ہی اپنی فرضی موٹر کار اڑائے پھرتا تھا۔ ہم کوئی استثنا نہ تھے۔ مگر جب ٹوٹ بٹوٹ کی فرضی موٹر کار لڑکپن کی گلی کو عبور کر کے نوجوانی کے مقفٰی موڑ تک پہنچی تو چمن کی صورت بدل بدلی

Read more

’کینیڈین لکھاری مارگریٹ ایٹ وڈ کی‘ دیر سے آنے والی نظمیں

امریکی صدر جو بائیڈن کے کینیڈا کے اولین سرکاری دورے کی رپورٹ پھر سے دکھائی جانے لگی تو میں نے ریموٹ کا بٹن دبایا اور ٹی وی کی آواز کچھ مدھم کردی اور نظر پھر سے کینیڈا کی ممتاز لکھاری مارگریٹ ایٹ وڈ کے انگریزی شعری مجموعے ”ڈئیرلی“ پر جما لی۔ سامنے نظم کھلی تھی: ”دیر سے آنے والی نظمیں“ ۔ نظم کا عنوان دیکھتے ہی مجھے بے ساختہ اپنے منیر نیازی صاحب یاد آ گئے جو کہتے تھے :

Read more

جب امجد اسلام امجد نے قرۃ العین حیدر کو گھاس نہ ڈالی

میں بات کرنا چاہتا ہوں امجد پرویز کی آواز میں اس خوب صورت کلام کی شہرت اور ڈرامہ ’وارث‘ کی مقبولیت سے پہلے کی جب سن ستتر اور اکاسی کے دوران میں میں ہر صبح پیدل گورنمنٹ کالج لاہور جانے کے لیے مزنگ سے پرانی انارکلی کی طرف رواں دواں ہوتا تھا۔ امجد اسلام امجد صاحب اپنے مقبول عام لمبراٹا سکوٹر کا شور اور دھواں بلند کرتے ہوئے لیک روڈ اور لٹن روڈ مزنگ کا چوراہا پار کرتے تھے۔ وہ

Read more

ہم خواب کس زبان میں دیکھتے ہیں؟

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات امید ہے آپ بخیر ہوں گے اور موسم سرما کے برفیلے موڈ سے ”لطف اندوز“ ہو رہے ہوں گے جس سے اپنی استطاعت کے مطابق میں بھی ”استفادہ“ کر رہا ہوں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہاں کینیڈا میں ہمیں موسموں کی شدت کا سامنا کرنے لیے مناسب سہولیات دستیاب ہیں ورنہ پاکستان سمیت دنیا کے کتنے ہی ممالک میں ان ضروری سہولیات کی کمی کے باعث کافی جانی نقصان ہوجاتا ہے۔

Read more

ظہیر کاشمیری: بگولا رقص میں رہتا ہے

میں نے روزنامہ ’مساوات‘ کے دفتر کا داخلی گیٹ عبور کیا، سیدھا ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے کمرے کے دروازے پر دستک دی اور اندر داخل ہو گیا۔ کہیے! سامنے میز کے پار رنگدار شرٹ پہنے، ہیٹ میز پر رکھے، تیکھے نقوش والے سُرخ و سفید ایڈیٹر صاحب نے زیرِ نظر ورق پر سے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وہ، جی، یہ مضمون تھا۔ مساوات میں چھپنے کے لیے دینا ہے۔ میں نے ادب سے جھجکتے ہوئے کہا

Read more

کیا آپ بھی ‘نکوسیا’ میں مبتلا ہیں؟

ہمارے ایک معتبر اور شریر صحافی دوست بتایا کرتے تھے کہ ایک زمانے میں لاہور کے ایک روزنامے میں ایک نستعلیق قسم کے بزرگ نیوز ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ صحافت کے شعبے میں ان کا کتنا تجربہ تھا یہ تو معلوم نہ ہوسکا۔ تاہم زندگی کے میدان میں ان سا تجربہ کار آس پاس نہ تھا کہ وہ اس وقت تک تین شادیاں اور ایک عالمی جنگ بھگتا چکے تھے۔ خلیجی جنگ کا آغاز ہوا تو نیوز روم کے ایک کونے

Read more

سنومین

آج گھر کے نزدیک واقع لاکھوں برس پرانے قدرتی مناظر کی جھلکیوں سے مہکتے لاسیل پارک میں داخل ہوتے ہی پارکنگ لاٹ کے دائیں طرف کے میدان میں ایستادہ ایک سنو مین یا برف کے پُتلے نے ہم تینوں کے قدم آگے بڑھنے سے روک لیے۔ پارک کے بچوں والے گوشے میں ایک بچہ سلائیڈ پر اور دو بچیاں جھولوں پر تھیں۔ ایک خاتون ان کے پاس بیٹھنے کو لکڑی کے بینچ سے برف ہٹا رہی تھی۔ اس کے ساتھ

Read more

کوے (افسانہ)

۔ طویل اور مہیب راہداری عبور کر کے میں ایک دالان میں جا نکلتا ہوں جس کے گرد اونچی فصیلیں ایستادہ ہیں۔ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی ہے۔ نہ صاف اجالا ہے نہ صاف اندھیرا۔ سامنے ایک سیاہ محرابی بے کواڑ دروازہ نما ہے۔ اچانک عقب سے کھٹ کی آواز آتی ہے۔ میں مڑ کر دیکھتا ہوں۔ میرے آنے کا راستہ بھی دیوار ہو چکا ہے۔ بھیانک اندھیرا چھانے لگتا ہے اور یکا یک ہر سمت سے بے سمت چیخیں

Read more

” توصیف تبسم کا “ کوئی اور ستارہ

بات یہ ہے کہ شروع سے ہی رنگ میری کمزوری، تصویریں میری محبت اور اظہار میری مجبوری رہا ہے۔ نصابی اور غیر نصابی کتابوں، ملکی اور غیر ملکی رسالوں میں ورق ورق چمکتی تصویروں اور ان کے رنگوں کی دل کشی کب تصویری فن پاروں کی نمائشوں کی سیر کے معمول میں ڈھلی، مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔ شاید جرمنی میں مقیم میرے لاہوری فن کار دوست امجد علی کی رفاقت کی دین ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ ”از

Read more

عارف عبدالمتین، حرف احتجاج سے حرف دعا تک: ڈاکٹر خالد سہیل کو تیسرا خط

مکتوب نگا: حامد یزدانی اور ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی صاحب! آپ نے عارف عبدالمتین کے نظریاتی ارتقا کا ذکر کیا ہے۔ میں نے اس تبدیلی کی تفہیم کے لیے ایک انٹرویو میں ان کو چیلنج بھی کیا اور ان کے عزیزوں کے چند انٹرویو بھی کیے۔ میں اس خط میں ان کے خیالات میں ارتقا کا ادبی اور نظریاتی تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔ عارفؔ عبدالمتین کی ایک یک

Read more

شاعر اور دانشور عارف عبدالمتین کے دو مداحوں کا مکالمہ

خالد سہیل حامدیزدانی ————————————————————— خالد سہیل کا خط حامد یزدانی کے نام ! حامد یزدانی صاحب مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ آپ نہ صرف میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین کو جانتے ہیں بلکہ ان سے کئی بار مل بھی چکے ہیں۔ مجھے آپ کے ان کے بارے میں تاثرات جاننے کا بہت اشتیاق ہے لیکن آپ کے تاثرات جاننے سے پہلے میں آپ سے اپنے تجربات شیر کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو ہمارے تعلق کی

Read more

دیومالائی کردار سینٹا کلاز سے ایک اور ملاقات

آج دفتر کا مرکزی دروازہ کھولتے ہی اندر کا منظر بدلا ہوا دکھائی دیا۔ سبھی کمروں کے دروازے مختلف رنگا رنگ سجاوٹوں سے مزین تھے۔ میری دو روزہ غیرحاضری میں میری مستعد ہم۔ کار خواتین نے کیا خوب صورت انقلاب بپا کر دیا تھا دفتر کی فضا میں۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ نکمے مرد کارکن کہاں تھے کہ سارا کام خواتین کو کرنا پڑا تو میں عرض کروں گا کہ وہ دو روز دفتر میں نہیں تھے یا نہیں

Read more

”بقیہ عمران خان“

میں نے ایک اپنے ایک دیرینہ دوست سے درخواست کی کہ مجھے لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ ”اشکال“ میں شامل عمران خان سے اپنی گفتگو کا ریکارڈ درکار ہے۔ یار مہربان نے ترقی پسند ادیب دوست جاوید آفتاب کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے کے شمارہ بابت اکتوبر، نومبر 1998 کے صفحات کے عکس مجھے یکے بعد دیگرے بھیجنے شروع کیے۔ دوست نے جانے کیوں اس عکسی ترسیل کی ترتیب کو معکوسی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سو، ریڈیو

Read more

فیض صاحب کے نام۔ ”یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا“

ٓانیس سو چوراسی میں نومبر کا آخری عشرہ آغاز ہوا۔ لاہور میں سردی بڑھنے لگی تھی۔ اور پھر اس موسم میں سردی سے زیادہ اداسی در آئی تھی۔ کیا تمہیں پتہ ہے فیض صاحب رخصت ہو گئے؟ ”روزنامہ جنگ سے حسن رضوی صاحب، جنہیں میں حسن بھائی کہتا تھا، نے فون پر سوال کیا تھا۔“ جی، جانتا ہوں۔ جو چلے تو جاں سے گزر گئے۔ ”میں نے اداسی سے کہا۔“ تو دفتر پہنچو۔ جنگ کے خصوصی ایڈیشن کے لیے ادیبوں،

Read more

عمران کی گھڑی، ٹروڈو کی عینک اور میری حماقت

سن دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے۔ کینیڈین طیارہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور ان کے سرکاری وفد کو لئے ویت نام کے ہوچی من ہوائی اڈے پر اترا تو ہمارے وزیر اعظم طیارے کے دروازے سے برآمد ہوئے۔ انہوں نے دھوپ کا چشمہ پہن رکھا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے انہوں نے ایک نظر استقبالی ماحول پر ڈالی۔ پھر بڑے فلمی انداز میں چشمہ اتارا اور میزبانوں کو ہاتھ ہلا کر اور مسکر کر ’ہائے‘ کہا۔ ہلکے سلیٹی رنگ کے

Read more

گیارہ نومبر۔ کینیڈا کا ریمیمبرینس ڈے

ادھر میدان میں بگل بجا اور ادھر آسمان سے چھر چھر بارش برسنے لگی اور چشم زدن میں کینیڈا، اونٹاریو اور رائل کینیڈین لیجن کے بھیگتے جھنڈوں کے قرب میں چھوٹی بڑی، سرخ، سفید، نیلی، پیلی، سبز اور سیاہ رنگوں کی چھتریاں کھٹ کھٹ کھل گئی تھیں۔ اس قومی دن پر ہمارے صوبے اونٹاریو میں عام تعطیل نہیں ہوتی اس کے باوجود اس تقریب میں اتنے لوگ شامل تھے اور ان میں اکثر سمجھدار تھے کہ موسم کا موڈ دیکھتے

Read more

ثریا شہاب نے میرا انٹرویو لینے کے بارے میں کیوں سوچا؟

““ ” میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔“ نپے تلے ریڈیائی لہجے میں ادا کیے گئے اس سادہ سے جملے نے جہاں مجھ پر ماضی کے کئی در وا کر دیے وہاں اعزاز آئندہ کی نوید بھی سنا دی۔ میں نے سامنے دھرے سکرپٹ پر سے نگاہ اٹھا کر میز کے دوسری جانب کھڑی ثریا شہاب صاحبہ کی جانب دیکھا جو سرخ سویٹر اور سفید پتلون میں ملبوس اپنے نفاست سے تراشیدہ بالوں کو دائیں ہاتھ سے کان کے

Read more

میں ادب کا ہرجائی ہوں ”۔ ڈاکٹر خالد سہیل“ گفتگو: حامدیزدانی

““ اس طرف آ جائیے ۔ اس سے پہلے کہ انڈین ریستوران کے استقبالی کا ؤنٹر پر کھڑی لڑکی سے میں کچھ پوچھتا یہ ’باوزن‘ دھیمی صدا میرے بائیں کان کے پردے سے ٹکرائی تھی اور میری گردن اور نگاہ بے ساختہ صدا کے تعاقب میں روانہ ہو گئی تھیں۔ لانبی سفید زلفوں میں لپٹے ڈاکٹر خالد سہیل ادھر دیوار کے ساتھ کھڑکی والی نشست پر بیٹھے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ ونڈو سیٹ ”۔ میں نے سوچا اور قدم

Read more

متنازع فرانسیسی لکھاری میشیل ہوئل بیک اور ان کی کچھ نظمیں

““ شاعری میں کردار ہی نہیں الفاظ بھی بسیرا کرتے ہیں۔ شاعری سے متعلق اس دل چسپ بیان کے خالق میشیل ہوئل بیک جن کا نام سال رواں میں ادب کے نوبل پرائز کے لیے پسندیدہ لکھاریوں کی فہرست میں بھی میں گردش کرتا رہا ہے 1958 میں فرانس کے جزیرہ ری یونین میں میشیل تھامس کے نام سے پیدا ہوئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ عالمی ادبی منظر نامے میں اپنا ایک متنازع مگر اہم مقام بنا چکے

Read more

میں تو اپنے ہی ’پروردگان‘ کی سازش کا شکار ہو گیا” احمد ندیم قاسمی“

لیجیے، اس بار ”ہم سب“ کے توسط سے ندیم خطوط پیش خدمت ہیں۔ یہ سات خط ممتاز شاعر و ادیب اور مدیر فنون جناب احمد ندیم قاسمی نے سن دو ہزار ایک اور سن دو ہزار چھ کے دوران تحریر کیے۔ جہاں تک اس قدآور ادبی شخصیت کی ادبی زندگی کا تعلق ہے تو ترقی پسند تحریک کی صورت حال، محترم وزیر آغا اور فیض صاحب سے تعلقات کے حوالے سے بھی اور ادبی گروہ بندیوں کے سبب جنم لینے

Read more

! پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا

اشکوں سے نہیں ٹوٹا ابھی ضبط کا پشتہ پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا گزشتہ کچھ عرصہ سے والد صاحب (جناب یزدانی جالندھری) کا یہ شعر جسے جناب وجاہت مسعود بھی ضرب المثل قرار دیتے ہیں میرے گوشہ وجدان کو گھیرے ہوئے ہے۔ ادھر کینیڈا شمالی امریکا میں بیٹھا وطن عزیز کی طرف دیکھتا ہوں تو جانے کیوں ہر منظر ڈوبتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس موقع پر آپ مجھے قنوطیت پسند کہنا چاہیں تو بخوشی کہہ لیں

Read more

بستر میں دھوکا: ایک سنگین جرم

”اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو مرد بستر میں اپنی ساتھی سے دھوکا کرے گا وہ قانون کا مجرم گردانا جائے گا۔ بھئی واہ، کینیڈا کا قانون۔“ ہمارے دوست چوہدری صاحب نے کینیڈا کی سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا جس کے مطابق مرد اپنی ہم بستر سے وعدہ کر کے بھی جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم نہ پہننے پر ریپ یعنی جنسی زیادتی کا مرتکب قراردیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے

Read more

دیوار : افسانہ

نو متحد جرمن شہر برلن کے برینڈن برگ گیٹ پر اس دن عجب میلے کا سا سماں تھا۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کا اتحاد اسی سال موسم خزاں میں تو ہوا تھا۔ ہم اس وقت شہر کی مشرقی جانب کھڑے تھے یا مغربی؟ میں اپنے کم گو جرمن نژاد ہم۔ کار ہیرشمٹ ؔ سے پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر پھر ایک تو یہ سوچ کر چپ ہو رہا کہ کیا فرق پڑتا ہے اب تو یہ ایک ہی ملک اور ایک

Read more

انتظار حسین: بدھا کے زمانے کا تخلیقی حسن پرست

”تمہارے یوں ملنے کا جرمانہ یہ ہے کہ جتنے دن میں یہاں برلن میں ہوں، تم میرے ساتھ رہو گے۔ بولو، منظور؟“ اردو ادب کی بستی میں یادگار قصہ کہانیاں متعارف کروانے والے اپنی طرز کے آخری تخلیقی آدمی انتظار حسین صاحب میرے سلام اور تجدید تعارف کے رسمی جملے ختم ہوتے ہی چہک کر گویا ہوئے تھے۔ جرمن اتحاد کے بعد متحدہ برلن میں سہ روزہ بین الاقوامی اردو سیمینار اپنی نوعیت کا اولین ادبی اجتماع تھا جس کا

Read more

وزیراعظم کی حجامت

”جسٹن ٹروڈو کے حجام نے ان سے کوئی انتقام لیا ہے۔“ ”پرائم منسٹر کے بالوں کا نیا سٹائل مزاحیہ اداکار جم کیری کے اس ہیئر سٹائل کی نقل ہے جو اس نے فلم“ ڈم اور ڈمر ”کے لیے اپنایا تھا۔“ ”ٹروڈو کے بالوں کا نیا انداز ایک اداکارہ کی یاد دلاتا ہے“ ”ٹروڈو ایسا کیوں کرتے ہیں : کیا شہرت کے لیے؟ میڈیا پر چھائے رہنے کے لیے؟“ ادھر ٹویٹ پہ ٹویٹ ہو رہا ہے اور ادھر ہمارے بھلے مانس

Read more

بے نشاں قبروں کا بلاوا

” عیسائیوں کی طرف سے مقامی باشندوں کے خلاف سرزد ہونے والی ’برائی‘ کے لئے میں عاجزی کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔“ کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پاپائے روم نے اپنے چھ روزہ ’تعزیتی اور معذرتی‘ دورے کے دوران گزشتہ روز جب ایک اجتماع میں یہ الفاظ کہے تو بہت سے چہرے نم دیدہ اور غم زدہ تھے ان تمام تر مظالم اور زیادتیوں کو یاد کر کے جو عیسائی مبلغین نے اس دور کی حکومتوں کے ساتھ مل کر

Read more

جہیز میں دینے والی پاکیزہ کتابیں

سنو برخوردار، ’عورت، جنس کے آئنے میں‘ اور ’مرد، جنس کے آئنے میں‘ میری ہی کتابیں ہیں ” اور یہ بھی جان لو کہ وہ فحش یا گندی کتابیں قطعی نہیں، بلکہ بہت پاکیزہ کتابیں ہیں، اتنی صاف ستھری کہ کوئی بھی باپ بلا جھجک انہیں اپنی بیٹی کو جہیز میں دے سکتا ہے۔ ہم میں خرابی یہ ہے کہ جانے بغیر، پڑھے بغیر نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ سرورق پر ”جنس“ کا لفظ پڑھا نہیں کہ اس بے چاری

Read more

تو کیا اب اس چوری کے ایڈیشن پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟ (قرۃالعین حیدر)۔

”۔ تو کیا اب پاکستان میں چھپے ان چوری کے، پائریٹڈ ایڈیشنز پہ آٹو گراف دینا پڑے گا مجھے؟“ اردو کی نام ور ادیبہ قرۃالعین حیدر یعنی عینی آپا میرے ہاتھ سے اپنی کتاب لیتے ہوئے مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔ اب بھلا میں کیا کہتا۔ عینی آپا سے گفتگو کا وقت اسی روز برلن میں منعقدہ انٹرنیشنل اردو سیمینار کے ظہرانے کے بعد طے کیا تھا۔ جب وہ ایک جرمن ٹی وی صحافی سے ”دو دو ہاتھ“ کر کے

Read more

افسانہ: خاکی تھیلا

”We Are Open“ اس وقت ٹورانٹو سے کچھ دور واقع قصبہ واٹر ڈاؤن میں ہوا بند تھی اور جولائی کا نارنجی سورج غروب ہونے والا تھا جب وہ شخص ایک خاکی تھیلا اپنے پہلو میں دبائے کیفے کے رنگین شیشے جڑے چوبی دروازے کے دائیں طرف، سرخ اینٹوں کی دیوار کے ساتھ، فٹ پاتھ پر ، جسے یہاں سائڈ واک کہتے ہیں، اس سفید بورڈ کو دیکھ کر چلتے چلتے بے ساختہ یا بے اختیار یا کہہ لیجیے کہ یک

Read more

ایک انسانیت پسند درویش کی کتھا

” درویش“ ۔ انگریزی زبان میں یہ لفظ اس سرخ سپورٹس کار کی لائسنس پلیٹ پر چمک رہا تھا جس کا مسافر کی سمت کا دروازہ کھلتے ہی بھائی ارشاد حسین اس کی عقبی نشست پر براجمان ہو گئے تھے اور ڈاکٹر خالد سہیل ایک مسکان کے ساتھ ڈرائیور کی نشست سنبھالتے ہوئے مجھے کہہ رہے تھے : آپ یہاں بیٹھ جائیے میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ۔ ” ”جی ضرور۔“ میں نے کہا تھا اور ان کے برابر والی

Read more