مردم شماری سے جڑے مسائل

مردم شماری کسی بھی مملکت کے لئے مجموعی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے علاوہ پالیسی سازی کے عمل کو ریگولیٹ کرنے کے لئے افراد اور ہاؤسنگ یونٹس بارے آبادیاتی، سماجی اور اقتصادی تغیرات پہ مبنی ڈیٹا فراہم کرتی ہے، اس لئے مردم شماری کی اہمیت مخصوص وقت میں مسلسل برپا رہنے والی تبدیلیوں کے تحت معاشرے کو مربوط رکھنے کے حوالہ سے اگرچہ بہت اہم سمجھی جاتی ہے لیکن اس کی تشریح کو محض ڈیٹا اکٹھا کرنے کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ یہ معاشرے کی سماجی اور اقتصادی خصوصیات کے موازنہ کے علاوہ سوسائٹی کی جذباتی اور نفسیاتی ساخت میں توازن قائم رکھنے کی محرک بھی بنتی ہے۔
یہ لازمی ہے کہ ایک جامع مردم شماری ہمیں ایسے ضروری اعداد و شمار مہیا کرے جو مختلف انتظامی یونٹس میں سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کی نگرانی کے علاوہ تارکین وطن کی تعداد اور نوعیت بارے کار آمد معلومات فراہم کرسکے، جن کا تعلق قومی سلامتی سے نہایت گہرا ہوتا ہے، یہ سماجی مظاہر کے مطالعہ کے لئے درکار ڈیٹا بیس مملکت کے تمام شعبوں خاص کر تعلیم، صحت اور دفاع سے متعلق منصوبوں کی تشکیل، نگرانی اور تشخیص میں معاون بنتی ہیں اور اسی مخصوص ڈیٹا بیس کی وساطت سے اجتماعی زندگی کی خصوصیات کو سمجھنے کے ایسے اشارے ملتے ہیں، جن کی بدولت جدید معاشروں میں عوامی خدمات، مختلف انتظامی ڈویژنوں کے لئے جامع اور جدید شہر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جاتی ہے۔
یہ ڈیٹا ان مختلف مظاہر کی درست پیمائش کو ظاہر کرے گا جن کی تحقیق کی جا رہی ہو گی جیسے کہ زرخیزی، شرح اموات اور نقل مکانی، جو آبادی میں اضافہ کی شرح اور مردم شماری کے بعد کی آبادی کے تخمینے کے لئے بنیادی ٹول کے طور پر استعمال ہوں گے یعنی جس سے جنس اور قومیت کے لحاظ سے قانونی حیثیت، معاشی سرگرمیوں اور افرادی قوت کے سائز کے لحاظ سے سرکاری اور نجی شعبوں میں اقتصادی اور معاشرتی اداروں کی شرائط کی وضاحت بھی کی جائے گی۔
مردم شماری کا بنیادی مقصد ایک نظر میں پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور حکومت کے لیے ایسے ضروری حقائق فراہم کرنا ہے، جس میں انتظامی امور اور فیصلہ سازی کے لئے سماجی و اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل میں سہولت دے سکے۔ مردم شماری سیاسی نمائندگی اور جمہوری حکومت کے نظام کی بنیاد بھی بنتی ہے۔ یہ بات معروف ہے کہ آبادی کی گنتی ان لوگوں کی تعداد کا تعین کرتی ہے جو پارلیمنٹ یا الیکٹورل کالج میں اپنے طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
2023 سے 2033 تک پارلیمنٹ کی تشکیل کا اندازہ اس موجودہ گنتی سے لگایا جائے گا۔ 2017 کی مردم شماری کے بعد سے آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ پنجاب اور خیبرپختون خوا کی قومی اسمبلی میں کچھ نشستیں کم اور سندھ و بلوچستان کی کچھ بڑھانے کا وسیلہ بنا تھا لیکن اس کے باوجود پچھلی مردم شماری کے اعداد شمار اس قدر متنازع نکلے کہ با امر مجبوری ریاست کو پانچ سال بعد ازسر نو مردم شماری کی حساس مشق دہرانا پڑی۔ شومئی قسمت کہ ہمارے نظام میں پائی جانے والی ابدی خامیوں اور گروہی کشمکش کی بدولت موجودہ مردم شماری بھی متنازع بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
کراچی سے قطع نظر خیبر پختون خوا کے ضلع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خانہ شماری بڑھنے اور آبادی کم ہونے کے منفی انڈیکیٹرز کے باعث مہیب تنازع اٹھ کھڑا ہوا، جس سے سول سوسائٹی میں اضطراب کے علاوہ سابق ایم این اے داور کنڈی اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس ایشو کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں مستقل سکونت رکھنے والے لاکھوں قبائلیوں نے ایک منظم مہم چلا کر تمام قبائلی خاندانوں کو مردم شماری میں اپنا اندراج وزیرستان میں کرانے کی ترغیب دی جس کے نتیجہ میں ضلع جنوبی وزیرستان کی آبادی تو چار لاکھ تک بڑھ گئی لیکن ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں فاٹا انضمام کے بعد جنڈولہ اور درازندہ تحصیلوں کے اضافہ کے باوجود 2017 کی نسبت ایک ڈیڑھ لاکھ تک آبادی کم ہو گئی۔
مستزاد یہ کہ ایک لسانی اکائی کی طرف سے مردم شماری کے ایس او پی کی علانیہ خلاف وردی کر کے سوسائٹی میں گہری تفریق کے بیج بونے کی جسارت سے انتظامیہ کی دانستہ چشم پوشی زیادہ اذیت ناک تھی، اس کھلی بے انصافی کی اگر بروقت تلافی نہ گئی تو اس جارحیت کے مضمرات مدت تک خطہ کو تڑپاتے رہیں گے۔ حیرت انگیز طور پہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماءکرام، سی ایس پی افسران، ڈاکٹرز، وکلائی، سیاستدانوں، سینیٹرز، ممبران اسمبلی اور تاجروں نے اجتماعی فیصلہ کے ذریعے اپنے پاکستانی بھائیوں کا حق مارنے پہ جس طرح اتفاق کیا یہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
لاریب، فطرت انسانوں کے انفرادی گناہوں اور شخصی غلطیوں کو تو معاف کر دیتی لیکن قومی کے اجتماعی جرائم کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ مردم شماری جیسے حساس کام کی ذمہ دار اتھارٹی کی کھلی ناکامی پہ تاحال کوئی بازپرس نہیں کی گئی، حکام میں سے کسی نے انتظامی افسران سے نہیں پوچھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں مستقل سکونت رکھنے والوں کی سو فیصد آبادی نے ببانگ دہل یہاں اپنا اندراج کرانے سے انکار کر کے ریاستی قوانین اور ملکی آئین کی دانستہ نافرمانی کیوں کی؟
سرکاری اتھارٹی انہیں جرم کے ارتکاب سے روکنے کی بجائے غلط کام کرنے والی کی سہولت کاری میں کیوں جت گئی؟ بلاشبہ اس حوالہ سے مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کے ذمہ دار افسران کا کردار نہایت متنازع رہا۔ مردم شماری کے ایس او پیز کے مطابق مستقل سکونت رکھنے والا کوئی شہری اگر اپنا اندراج متعلقہ ضلع میں کرانے سے انکار کرے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں گھروں پہ پولیس کے چھاپے اور شناختی کارڈ کی بندش شامل ہے۔ مردم شماری ایسا ہمہ جہت عمل ہے اگر اس میں کوئی ہیرا پھیری کی جائے تو پوری سوسائٹی بلکہ قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے لیکن حسب روایت سرکاری افسران قومی سلامتی اور معاشرے کے مجموعی مفادات کی قیمت پہ تھوڑے سے فوائد، کسی دباؤ کے سامنے جھکنے یا پھر سفارش پہ بخوشی پوری قوم کی بیخ کنی پہ تیار ہو جاتے ہیں۔
انتظامیہ کے افسران بارے معلوم ہوا ہے کہ وہ یہاں دہائیوں سے آباد قبائلیوں کو منتیں کرتے رہے کہ وہ پورا کنبہ نہیں تو ایک آدھ افراد کے ناموں کا اندراج تو ڈیرہ اسماعیل خان میں کرا دیں لیکن کسی ایک خاندان نے بھی ان کی نہیں مانی، تمام قبائلیوں نے اپنا اندراج ضم شدہ اضلاع میں کرایا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مردم شماری میں بے قاعدگیوں اور غلط اندراج کا معاملہ محض وسائل کی تقسیم تک ہی محدود نہیں، محض وسائل کوئی اتنا بڑی چیز نہیں، ویسے بھی یہاں شہریوں کو کہاں پورے حقوق ملتے ہیں؟
جتنے فنڈ اضلاع کے لئے مختص ہوں ان کا 70 / 80 فیصد کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، اسی طرح منفی ہتھکنڈوں سے قبائلی اضلاع کی آبادی زیادہ ظاہر کر کے اگر کچھ وسائل بڑھا بھی لئے گئے تو ان میں کا بڑا حصہ بدعنوانی اور بدانتظامی کی بھینٹ چڑھ جائے گا اور جو لوگ ان حقیر مفادات کے لئے پوری مملکت سے نا انصافی پہ کمربستہ ہیں ان کے حصہ میں بہت کم آئے گا لیکن بڑے پیمانے کی اس اجتماعی نا انصافی سے جو نفرتیں، تعصبات اور تفریق پیدا ہو گی اس کے اثرات ہماری نسلوں کو اجاڑ کے رکھ دیں گے، یہ خطہ پہلے بھی فرقہ واریت اور نسلی و لسانی تعصبات کی آگ میں جلتا رہا، قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کی خونخوار لہروں نے ہزاروں معصوم انسانوں کو نگل لیا ہم مزید نفرت اور تفریق کے متحمل نہیں ہو سکتے، قبائلی ہمارے بھائی ہیں، یہ خطہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، ہمیں علاقائی تعصبات میں سمٹنے کی بجائے پاکستان کی وسعتوں میں ابھرنا اور اپنے پاکستانی ہونے پہ فخر کرنا چاہیے۔ ریجنل نیشنل ازم کا تعصب اور علاقائی مفادات پہ غیر ضروری اصرار معاشرے کو بیمار کر کے ظلم اور بے انصافی کو گوارا بنا لیتا ہے، قبائلی ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور کراچی میں یکساں شراکت دار ہیں، انہیں ان خطوں کو بھی اپنے گھرکی طرح اپنانا چاہیے، اسی میں ان کی اپنی اور ہم سب کی بھلائی ہے۔

