مسجد واسی، حقیقی توبہ اور مذہبی بیانیہ


رمضان کے کٹھن معمولات سے حواس پوری طرح تاحال بحال نہیں ہو پائے۔ مجھے رمضان میں مختلف اجتماعات، دعا اور طاق راتوں میں مسجد جانا اچھا لگتا ہے اور وہاں آنے والی خواتین نے مجھے کہا آپ رمضان کے بعد جمعہ کی نماز کے لئے بھی آئیے گا اگر فرصت ملے تو ۔ میں نے فوراً حامی بھر لی۔

برائے مہربانی آپ مجھے میری اس پسندیدگی پہ بہت مذہب پرست اور نیک مسلمان سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے گا، میں ایک عام روایتی سے مسلمانوں میں سے ہوں جن کے ہاں ملا اور ان مذہبی لوگوں کی منافقت، اور دو رخی پہ بہت سی بیزاری اور عناد پایا جاتا ہے، وہ عناد جو رنج اور دکھ میں پلتا ہے۔

جب میں دیکھتی ہوں کہ یہ سچ اور حقیقت ہے کہ ’‘ چرچ کے چوہے سب سے زیادہ نڈر ہوتے ہیں۔ ”اس کے باوجود آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں وہاں کیوں جاتی ہوں۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو خانہ خدا کوئی بھی ہو، وہ چرچ ہو یا گرد وارہ، مندر ہویا ہماری مسجد مجھے وہاں پھیلا سکون اور پوزیٹو انرجی بہت شانتی دیتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہفتے میں یہ میری واحد سماجی سرگرمی ہوتی ہے ورنہ میں گھر سے لے کر اپنے پارک میں واک تک بس خود ہی خود کے ساتھ ہوتی ہوں۔

یوں عید کے بعد معطل حواسوں اور بھاگ دوڑ کے ساتھ بمشکل جمعہ کی نماز پکڑی۔ مسجد گھر سے قریب ہی ہے۔ خطبہ اختتامیے پہ تھا۔ مسجد میں سب لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے تھے، مردانے میں خوب رش تھا اور اوپر زنانے میں دس پندرہ خواتین تھیں سب نے گردنیں موڑ کر مجھے دیکھا اور خاموشی سے نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس ماحول کے نظم و نسق کو پوری طرح اپنے اندر جذب کیا اور دل ہی دل میں اعتراف کیا کہ مذہب چاہے آپ ظاہرا ًہی اوڑھیں آپ کو سب سے پہلا تحفہ ڈسپلن کا ضرور دیتا ہے اس مولوی کے بھی وہی مسائل ہوں گے جو میرے گھر میں ہیں، عید کی تھکاوٹ، رمضان کی ذمہ داریوں کی تھکاوٹ، تہوار کی گہما گہمی مگر پنج وقتہ ذمہ داریوں میں کوئی تعطل نہیں، ممکن نہیں کہ ظہر یا جمعہ کی نماز ایک بجے نہ ہو۔

میں نے دل ہی دل میں ایک شاباش تو دے ڈالی۔ اب مولوی صاحب کے خطبے پہ غور کیا، وہ بڑی رقت سے فرما رہے تھے ’‘ سن لیجیے اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، ہم آخری حدیں پار کر گئے ہیں، اس اللہ کے نام پہ بننے والے ملک میں ہر طرح کا گناہ کیا جا رہا ہے پاکستان کے لئے اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہو گئی ہے۔ اللہ ہم سے ناراض ہے آئیے اسے منا لیں۔ گناہوں سے توبہ کر لیں، اجتماعی توبہ اور استغفار کرنا ہو گا ورنہ باقی قوموں کی طرح ہمارا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ ”اس طرح کے جملوں کے بعد انھوں نے فرمایا ہم نماز کے بعد بآواز بلند استغفار کا ورد کریں گے اور توبہ کریں گے۔

مولوی صاحب کے لہجے کی رقت نے کچھ متاثر کیا مگر میں نے جھنجھلا کر سوچا ’‘ مولوی کا کام کیا ہے، خوف کا کاروبار کر کے مسجد کے لیے چندہ وصولنا۔ ”جمعہ اور دعا مکمل ہوئی۔ میں سیڑھیاں اتر رہی تھی، عین اس وقت نیچے مردانے میں استغفر اللہ کا بآواز بلند ورد شروع ہو چکا تھا۔

میں نے ہال پہ نگاہ ڈالی کالونی کے مختلف لوگ، دودھ والا، پر چون فروش، میڈیکل سٹور کا مالک مختلف لوگ زور و شور سے ورد کر رہے تھا۔ میں نے دل میں سوچا ’‘ تو کیا ہو جو واقعی مہلت ختم ہو چکی ہو؟ کیا وہ رب جس کے ناراض ہونے کی وعید دی جا رہی ہے وہ محض اس ورد سے اور مسجد کے چندے کے ڈبے میں کچھ نوٹ ڈال دینے سے راضی ہو جائے گا اور یہ کرنے کے بعد یہ دودھ والا اٹھے گا، کالونی کے باہر لگے نلکے سے دودھ میں پانی ملائے گا اور خالص دودھ کی قسم پہ ایک سو پچاس روپے کے حساب سے بیچے گا حالانکہ یہ آتے وقت اس میں سے کچھ فیصد کریم نکلوا کر آیا ہے مگر اس کی تسلی نہیں ہوئی۔

یہ میڈیکل سٹور والا اٹھے گا اور ممنوعہ اور نشہ آور ادویات دگنے داموں پہ بیچے گا جبکہ جعلی ادویات کے کاروبار سے الگ منافع کمائے گا۔ وہ بھی اپنا کام اب پورے اطمینان سے کرے گا کیونکہ اس نے استغفار کا ورد کر لیا ہے اور مسجد کا چندہ دے کر سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کر لیا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے چوہدری صاحب بظاہر تو آکشن میں نان کسٹم مال اٹھاتے ہیں مگر سب جانتے ہیں کہ وہ سمگلنگ میں بھی پوری طرح ملوث ہیں اور جب وہ کوئی جائے رفتن نہیں پاتے تو ڈھٹائی سے کہتے ہیں، ارے بابا ہم چھوٹے لوگوں نے بھی تو کھانا ہے نا، یہ سمگلنگ تو گورنمنٹ اور فوج مل کر خود کرواتی ہے کسٹم ڈیپارٹمنٹ خود ملوث ہے، ایران سے پٹرول سمگل ہو کر آتا ہے اور کون بیچتا ہے اور یہ کام کون کر رہا ہے کون نہیں جانتا۔

سو آج انھیں بھی اطمینان مل گیا۔ چوہدری صاحب کے ساتھ لمبی سفید داڑھی اور ٹخنوں سے اونچی شلوار والے شیخ حاجی عابد بیٹھے تھے وہ بھی اپنی راہ لئے، سب جانتے ہیں کہ ان کی مل کے لئے گیس کنکشن غیر قانونی ہے جس کا بل لاکھوں میں ہے مگر وہ ایک ڈیڑھ لاکھ رشوت دے کر جان چھڑا لیتے ہیں، ملک گیس کی لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہے اور اسے چھوٹے بڑے سب مگر مچھ نوچ رہے ہیں لیکن آج تو یوم استغفار منایا گیا تھا۔

ان کے ساتھ طارق گجر تھا جس نے کالونی میں اپنے گھر کو ڈیرے میں بدل رکھا ہے اور اس کے گھر کا اوپر کا پورشن شراب، افیم، چرس کے دھوئیں اور بدبو سے اٹا ہوتا ہے، سنا ہے لونڈے بازی بھی یہاں چلتی ہے مگر کون بولے، تھانہ ان کا اپنا ہے چھاپہ پڑنے سے پہلے اطلاع مل جاتی ہے۔ پچھلی صف میں جمیل سٹور والا تھا جس نے مارکیٹ کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کافی سامان سٹاک کر لیا تھا اور اب اس کی چاندی تھی ہر چیز کے نرخ ڈبل ہو گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ریحان تھا یہ پراپرٹی ڈیلر ہے وہاں گھپلوں کی الگ داستانیں ہیں اور جو ان کا نسلوں سے واسا کا بل ادا نہیں ہوا وہ الگ داستان ہے جس کے نتیجے میں گلی میں آئے روز گٹر کا پانی کھڑا ہوتا ہے کمپلینٹ اس لئے نہیں کی جا سکتی کیونکہ بل ادا نہیں ہوا اور جس کی وجہ سے آنے جانے والوں کو اور خصوصاً نمازیوں کو شدید تنگی ہوتی ہے مگر کوئی نہیں بولتا کیونکہ اکثریت نادہندہ ہے۔ ”

میں مسجد کے اوپر والے حصے سے نیچے آئی تو نیچے صائمہ چورنی ننگے پاؤں جا رہی تھی اور اس کے منہ پہ نہ بہت بلند اور نہ بہت آہستہ یا علی مدد کا نعرہ تھا، اس نے پچھلے محرم میں منت مانگی تھی کہ وہ سارا سال ننگے پاؤں پھرے گی جب تک کہ اس کا گھر نہ بن جائے۔ وہ کالونی میں مختلف گھروں میں کام کرتی تھی اور بلا کی چورنی تھی اور اب اس نے گھر بنانے کے ارادے سے دانت مزید تیز کر دیے تھے، میرے گھر بھی کچھ دن کام کیا مگر چیزیں اتنی تیزی سے غائب ہوئیں کہ میں نے اسے نکال دیا۔ گھر آتے آتے ان مسجد واسیوں کا تجزیہ کرتے کرتے میرے منہ کا ذائقہ زہرناک ہو چکا تھا۔ میں نے بہت تلخی سے سوچا اگر جو واقعی مہلت ختم ہو چکی ہے اور رب ناراض ہو چکا ہے تو اس کو منانے کا طریقہ کون بتائے گا؟!

کیا آج کے مولوی کو یہ جاننے اور سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ استغفار کے ورد اور مسجد کے چندے سے توبہ نہیں ہوتی بلکہ حقیقی توبہ اس وقت ہوگی جب ہم ریاستی قوانین کو توڑتے ہوئے احساس گناہ کا شکار ہوں گے مگر یہ احساس کون دلائے گا؟ یہ تو کبھی ہمارا مذہبی بیانیہ رہا ہی نہیں۔

Facebook Comments HS