گارنٹی، وعدے اور بجٹ


مہنگائی عام آدمی کا مسئلہ ہے یا مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ ہے جبکہ پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام ف، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، ق لیگ و دیگر جماعتوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا تو سرے سے مہنگائی مسئلہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں تو مہنگائی نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ پاکستانیوں کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں مل گئی تھی اور دو سو ارب ڈالر الگ سے باہر سے آ گئے تھے۔ وہ الگ بات ہے عمران خان الو ٹماٹر کی قیمتیں کنٹرول کرنے نہیں آئے تو بلکہ ہجوم کو قوم بنانے آئے تھے۔

خیر عمران حکومت نے آئی ایم ایف کا جو پانچ سالہ پلان لیا تھا وہ جون میں ختم ہو رہا ہے۔ یہ وہی پلان ہے جسے لینے پر عمران خان نے خود کشی کو ترجیحی دی تھی۔ وہ پلان لے بھی لیا لیکن خودکشی نہیں کی۔ چھ ماہ سے اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے نئی قسط لینے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے اسی چکر میں انہوں نے منی بجٹ کی شکل میں 170 ارب کے نئے ٹیکس لگا دیے، امپورٹ پر مکمل پابندی لگادی، ایل سیز بند کردی، شرح سود 21 فیصد تک بڑھا دی لیکن آئی ایم ایف ٹس سے مس نہ ہوا۔

حکومت کہتی رہی ہم نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردی ہیں لیکن آئی ایم ایف ماننے کو تیار نہیں ہوا۔ حکومتی جماعتوں نے عوام سے دل کھول کر بددعائیں وصول کرلی لیکن مشن آئی ایم ایف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی قیادت کی بجٹ کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جس میں میاں نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک پر شرکت کی۔ میاں نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی کارکردگی سے کافی مایوس نظر آئے۔

میاں نواز شریف نے اسحاق ڈار پر مہنگائی کی وجہ سے سخت برہمی کا بھی اظہار کیا۔ نواز شریف نے اسحاق ڈار کو ہدایت کی کہ بجٹ مکمل ٹیکس فری بنائیں اور قوم کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔ اس میٹنگ کے اگلے دن ہی اسحاق ڈار نے بجٹ کی تیاری شروع کردی۔ اب حکومتی ذرائع بتا رہے ہیں حکومت بجٹ میں اچھی خاصی تنخواہوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید نئے ٹیکسز نہیں لگائیں جائیں گے، پہلے سے عائد ٹیکسز میں کمی لائی جائے گی، نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بھی خطیر رقم رکھی جائے گی جو جون میں ہی جاری ہونے کا امکان ہے کیونکہ اگست میں اسمبلی اپنی مدت پوری کر رہی ہے اس سے قبل مسلم لیگ نون پانی کی طرح پیسہ بہائے گی۔

پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو جون کے اندر ہی مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک اور الیکشن سے قبل مسلم لیگ نون عوام کا سامنا کرنے کے قابل ہو سکے۔ اسحاق ڈار بجٹ میں قوم کو فل ٹائم عیاشی کروانے جا رہے ہیں اس بجٹ سے تقریباً ہر طبقہ خوش ہو گا ماسوائے آئی ایم ایف اور تحریک انصاف کے۔ یہ بجٹ کم اور من سلویٰ زیادہ ہو گا۔ آئی ایم ایف کے چکر میں مسلم لیگ نون نے اپنی سیاست داؤ پر لگائی۔

بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے جب حالات اتنے برے تھے تو مسلم لیگ نون نے حکومت کیوں لی۔ شہباز شریف نے پورا ایک سال مشکل ترین فیصلے کیے جن میں مہنگائی کا عذاب سرفہرست ہے۔ یہ تمام فیصلے انہی کی مرضی سے کیے گئے جن کی مدد سے شہباز شریف نے حکومت لی۔ کیونکہ شہباز شریف کو گارنٹی دی گئی تھی آپ بے فکر ہو کر کام کریں باقی معاملات ہم سنبھال لیں گے۔ دونوں طرف سے کچھ وعدے ہوئے تھے لہذا ان کو پورا کیا جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسحاق ڈار مکمل ٹیکس فری بجٹ دیتے ہیں اور عوام کو بڑے ریلیف دیتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت مکمل سیاسی بجٹ دیتی ہے تو آئی ایم ایف پلان سے پاکستان نکل جائے اور جو بھی اگلی حکومت آئے گی اس کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا پڑے گا۔ جیسے عمران خان نے گزشتہ سال اپریل سے تین ماہ قبل بجلی پانچ روپے سستی اور پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان تو جیسے ہی ان کی حکومت گئی تو نئی حکومت پر ان دونوں چیزوں کی مد میں 700 ارب کا بوجھ پڑا اسی بوجھ نے مفتاح اسماعیل کی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔

پھر مفتاح اسماعیل نے مہنگائی اور نئے ٹیکسز عائد کر کے عوام کی کمر توڑ دی۔ اب اسحاق ڈار بھی یہی کچھ کرنے جا رہے ہیں۔ جو کارڈ جاتے جاتے عمران خان نے کھیلا وہی کارڈ اب اسحاق ڈار کھیلنے جا رہے ہیں۔ اگر اگلی حکومت دوبارہ مسلم لیگ نون کی آئی تو شاید اسحاق ڈار اپنے کھودے گڑے پر کر لیں گے لیکن اگر عمران خان کی حکومت آئی تو وہ اگلے پانچ سال انہی گڑھوں کو پر کرنے میں ہی گزاریں گے ریلیف دینے کے قابل نہیں ہوں گے ۔

چند دن قبل مولانا ناصر مدنی نے اپنے یہ ایک بیان میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا کہ آئی ایم ایف کے ترلے منتیں کرنے کی بجائے دنیا میں اسلامی ممالک کی تعداد 54 ہے۔ تمام اسلامی ممالک ایک، ایک ارب ڈالر کی ماہانہ کمیٹی ڈالیں اور پہلی کمیٹی پاکستان رکھ لے۔ ویسے یہ مشورہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔ پاکستان جب سے آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسا ہے قوم پس کے رہ گئی ہے۔ یہ حکومت تو ختم ہونے والی ہے اب جو اگلی حکومت آئے گی اس کو چاہیے آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کی بجائے متبادل ذرائع تلاش کرے۔ کیونکہ جب تک آئی ایم ایف سے ڈالر لیتے رہیں گے قوم پر مہنگائی کا عذاب مسلط رہے گا۔

Facebook Comments HS