بلوچی بابا وائرل ویڈیو کے بعد


آج کے دور میں دنیا ایک دوسرے کو حقیقی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے کیمرے کی آنکھ سے دیکھنا پسند کرتی ہے متاثر بھی ہوتی ہے۔ پرانے دور میں جب ٹیلی ویژن کا دنیا میں افتتاح ہوا آہستہ آہستہ گھر گھر میں ٹیلی ویژن کی موجودگی یقینی ہو گئی ایک وقت آیا مذہبی علما اور سکالرز نے اسے شیطانی ڈبہ کہہ دیا دیکھتے ہی دیکھتے جب ٹیلی ویژن پر بیہودہ پروگرام نشر ہونے لگے تو اسے دجال کا فتنہ سے مشابہت دی گئی۔ اب تو جدید سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے جہاں اب ٹیلی ویژن کا دور تقریباً بالکل ختم ہو چکا ہے۔

ہر خاص و عام شخص انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں ہونے والے حالات و واقعات سے باخبر رہتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر اور سوشل میڈیا پر ویڈیو بنانے کا رواج عام ہے۔ انہی حالات کے پیش نظر آج کل اکثر کچھ افراد کو تو اتنا بھی علم نہیں ہوتا کب کہا ان کی ویڈیو بنا دی گئی اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا۔ کچھ اتنے سادہ لوح انسان جن کو ٹھیک طرح سے بٹنوں والا موبائل استعمال کرنا نہیں آتا لوگ ان کی بھی ویڈیو بنا کر وائرل کر دیتے ہیں۔

ویڈیو بنانا آج کے دور میں ایک عام بات ہے۔ یہاں بات صرف کسی کی بغیر اجازت ویڈیو بنانے کی نہیں ہے نہ بات دنیا کے لوگوں کی اس ویڈیو میں دکھائی دینے والی شخصیت کی پذیرائی کی ہے۔ بات یہاں آپ کے ایمان کی کمزوری کی ہے دراصل بات یہ ہے وہ بلوچی بزرگ جو بہت مشکل سے رقم جمع کر کے عمرہ کرنے گئے۔ جس وقت وہ ویڈیو بنائی گئی اپنے تمام ساتھیوں کو کھو دیا اور یہاں تک ان کا جوتا بھی لاپتہ ہو گیا ایک شخص جو دنیاوی مسائل کا شکار ہے ایک کرب سے گزر رہا ہے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی لوگوں نے پسند کی پذیرائی بھی ہوئی۔

مگر بات کہا جا کر خراب ہوئی جب اس بزرگ کو صحابہ کی مشابہت کہا گیا اور تو اور استغفر اللہ انہیں حضرت ابوبکر سے مشابہ قرار دے دیا گیا۔ اگر آج لوگ اپنے ایمان کی حفاظت کرتے اور اللہ کے دین پر دل کی گہرائی سے یقین کرتے تو اس قسم کے الفاظ جو کہ گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں نہ کرتے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب لوگ ایک سادہ لوح بابا جی کو دیکھ کر اس قسم کے دلائل دینے سے بعض نہیں آئے تو جب حقیقی دجال آئے گا جو ہر طرح کے لوازمات سے خود کو تیار کر کے آئے گا تو جن لوگوں کا ایمان اس حد تک کمزور ہو گا جو کسی بھی بزرگ کو صحابہ سے تشبیہ دیتے ہیں وہ اس حال میں خود کو کیسے بچا سکیں گے۔

کیونکہ وہ تو لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے بڑے سے بڑے کمال دکھائے گا جسے دیکھ کر بہت سے ایمان افروز لوگ بھی اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کرسکیں گے۔ اس وقت کے آنے سے پہلے کی اس شیطانی سوشل میڈیا کا استعمال جس قدر بڑھ گیا ہے جہاں عام سے عام شخص کو بھی اصحاب کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب اللہ کی طرف سے حقیقی آزمائش آئے گی مگر ڈر اس بات کا ہے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے کیا ہم اس آزمائش پر پورا اتر سکیں گے۔ اللہ ہمارے دین کی حفاظت کریں اور ہمیں صحیح اور غلط باتوں میں فرق کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

Facebook Comments HS