بوسنیا کی چشم دید کہانی (36)

فرینکفرٹ سے ایمسٹرڈیم کے لیے میری منتخب کردہ ریل گاڑی کا وقتِ روانگی رات دس بجے تھا ۔اس نے صبح 8 بجے ایمسٹرڈیم پہنچنا تھا۔ رات کے سفر کی وجہ سے گاڑی کے زیادہ تر ڈبے خواب گاہوں پر مشتمل تھے۔ یہ خواب گاہیں کچھ ایسی آرام دہ تھیں کہ نیندوں میں کسی رت جگے کے گھلنے کی کیا مجال۔ فرینکفرٹ سے ایمسٹرڈیم تک کے سفر کے دوران نہ تو پاسپورٹ کا معائنہ ہوا اور نہ ہی سامان کی پڑتال۔ سو جب آنکھ کھلی تو گاڑی ایمسٹرڈیم کے مضافات میں واقع تا حدِ نگاہ پھیلے سبزہ زاروں کے درمیان سے گزر رہی تھی۔ ایسے خوب صورت کھیت اور ایسے سبزہ زار میں نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ جی چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے، یہ منظر یہیں ساکت ہو جائے۔ ٹھیک 8 بجے ہماری گاڑی ایمسٹرڈیم کے سینٹرل اسٹیشن میں داخل ہو گئی۔
ابھی تک دیکھے گئے یورپ کے شہروں میں ایمسٹرڈیم واحد شہر تھا جہاں کوئی اپنا رہتا تھا۔ یہ اپنے جثے سے بھی بڑے دل والے ہمارے دوست گل اعظم تھے۔ انہیں میں نے زغرب ہی سے بذریعہ فون اپنی آمد سے مطلع کر رکھا تھا۔ اسٹیشن پر قدم رکھتے ہی میں نے فون کارڈ خریدا اور عمارت سے باہر لگے ہوئے فون بوتھوں کی طرف بڑھا۔ ہر طرف ہلکی ہلکی دھند پھیلی ہوئی تھی۔ سخت ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ یہاں سردی میرے اندازے سے کچھ زیادہ تھی۔ گل بھائی سے فون پر رابطہ ہونے پر انہوں نے گھر تک پہنچنے کے سلسلے میں راہنمائی کی۔ میں اُن کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اُن کے گھر کے قریب واقع اسٹیشن پر بذریعہ زیرِ زمین ریل گاڑی پہنچ گیا، جہاں وہ میرے منتظر تھے۔
اُن کی رہائش ایک سولہ منزلہ عمارت کی نویں منزل پر واقع فلیٹ میں تھی۔ فلیٹ کافی کشادہ تھا۔ یہاں اُن کے ہم راہ ان کے کچھ دوست بھی رہتے تھے۔ جن دوستوں کے لیے یہاں بسیرا کرنے کو جگہ نہ بچتی تھی وہ صبح کے ناشتے یا پھر دن یا رات کے کھانے کے وقت یہاں موجود ہوتے تھے۔ یہ سب دوست مل کر طرح طرح کے کھانے خود پکاتے اور پھر جب کھانے بیٹھتے تھے تو ان کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ کوئی بھی توشہ اگلے وقت کے لیے نہیں بچنا چاہئے۔ گل بھائی کے ان آشفتہ شکم دوستوں میں ایک تو ان کے عزیز عباس تھے اور دو ہندوستانی مسلمان، ریاض خان اور مستان شاہ۔
گل بھائی کی زندگی کاایک لگا بندھا معمول تھا۔ وہ ایک ہوٹل کے استقبالیہ پر ملازم تھے۔ رات کی ڈیوٹی سر انجام دیتے تھے۔ اُن کی ڈیوٹی نصف شب سے صبح آٹھ بجے تک ہوتی تھی۔ وہ ہر رات ٹھیک گیارہ بج کر 10 منٹ پر گھر سے روانہ ہوتے تا کہ دس منٹ بعد اسٹیشن سے روانہ ہونے والی گاڑی پر سوار ہو کر وقت مقررہ پر اپنے ہوٹل پہنچ جائیں۔ اُن کی واپسی صبح 9 بجے ہوتی تھی۔ وہ آتے ہی ناشتہ بنانے کی خاطر باورچی خانے میں گھس جاتے تھے۔ اُن کا تیارکردہ ناشتہ کرنے کے بعد شام تک کھانے کی طلب ہونا نا ممکن بات تھی لیکن وہ اور اُن کے ساتھی ہر دوپہر اس ناممکن کو باقاعدگی کے ساتھ ممکن بناتے تھے۔ دن دو بجے سے رات دس بجے تک وہ آرام کرتے اور پھر اگلے ایک گھنٹے کے دوران کام پر جانے کی تیاری کرتے تھے۔ میں نے ایمسٹرڈیم میں اپنے پانچ روزہ قیام کے دوران ان کے اس معمول میں کسی بھی لمحے کوئی تبدیلی نہ پائی۔ اُن کے مقابلے میں اُن کے دوست خاص طور پر عباس اور مستان شاہ زندگی کو اس قدر روکھے انداز میں گزارنے کے قائل نہ تھے اور کبھی مےکدے اور کبھی کیسینو (Casino) کی راہ سے ہو کر گزرنے کی بدپرہیزی ضروری سمجھتے تھے۔

مستان شاہ اور ریاض خان دونوں کا تعلق بمبئی سے تھا۔ دونوں انتہا پسند مسلمان تھے۔ اُن کے نزدیک سب سے غیر اہم بات اُن کی ہندوستان سے نسبت تھی۔ میں نے ایک مرتبہ مستان شاہ سے پوچھا بمبئی میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟
ہندوؤں سے چھیڑخانی کرنے کے لیے کافی ہے۔ مستان شاہ جواب میں بولے
میں پہلے پہل ان سے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کافی محتاط ہوتا تھا کیوں کہ وہ بے شک مسلمان سہی لیکن تھے تو ہندوستانی لہٰذا میرا خیال تھا کہ وہ اپنے ملک کے حوالے سے ہر شہری کی طرح حب الوطنی کے جذبات بھی رکھتے ہوں گے۔ لیکن ان کے خیالات سننے کے بعد میرا یہ کتابی علم حق الیقین کی منزل کو پہنچا کہ پاکستان ایک ملک ہی نہیں ایک نظریہ بھی ہے۔
اہل ہالینڈ کے متعلق ایک کہاوت مشہور ہے کہ وہ روٹروڈیم میں کام کرتے ہیں ہیگ میں حکومت اور ایمسٹرڈیم میں جیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھرپور زندگی کے تمام سامان جتنی فراوانی سے ایمسٹرڈیم میں پائے جاتے ہیں وہ کہیں اور کیا پائے جاتے ہوں گے۔ پن چکیوں، کنول کے پھولوں اور کھڑاؤں نما لکڑی کے جوتوں سے نسبت رکھنے والا یہ شہر، دو سو کے قریب نہروں کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ ان نہروں میں کوئی ڈھائی ہزار کے قریب کشتی گھر آباد ہیں اور بارہ سو پل اس شہر کے مختلف حصوں کو نہروں کے آر پار ملاتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کی دل چسپی کا ایک پہلو سترھویں صدی کے زمانہ زرّیں کی وہ عمارات ہیں جو امیر تاجروں نے اس وقت کی پانچ بڑی نہروں کے اردگرد بنوائی تھیں۔ ان عمارتوں کے ظاہر کو پوری سج دھج کے ساتھ اپنی اصل شکل میں آج بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے نظارے کے لیے کشتی میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ کشتیاں ایمسٹرڈیم کے سینٹرل اسٹیشن کے باہر واقع بڑی نہر سے چلتی ہیں اور اسٹیشن کی عمارت کے عقب میں واقع سمندر سے ہوتی ہوئی بڑا چکر کاٹ کر اسٹیشن کے دوسری جانب سے شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ شہر کی مختلف نہروں سے ہوتی ہوئی کوئی آدھا گھنٹہ کے چکر کے بعد واپس اسی مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔

شہر کے بقیہ حصہ جات کو دیکھنے کے لیے یا تو پیدل سفر اختیار کیا جاتا ہے یا پھر بذریعہ سائیکل۔ سائیکل کے ذریعے سیاحت ایمسٹرڈیم میں کس قدر مقبول ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس شہر میں ایک وقت میں ایک لاکھ سے زاید سائیکل رواں دواں ہوتے ہیں جن کی پارکنگ کے لیے شہر میں مختلف مقامات پر مناسب انتظامات موجود ہیں۔ شہر میں سیاحوں کی دل چسپی کا کوئی بھی مقام ایسا نہیں جس کے قرب و جوار میں ان گنت سائیکلیں ایک قطار میں ترتیب سے کھڑی نہ ملتی ہوں۔
سینٹرل اسٹیشن کے سامنے جو سڑک دام اسکوائر کو جاتی ہے اس کے دائیں ہاتھ اور پھر اس کے عقب میں واقع متوازی گلی میں یہاں کا تجارتی مرکز ہے۔ یہاں سے دام اسکوائر تک سیاحوں کا ایک ہجوم رواں رہتا ہے۔ دام اسکوائر پر پہنچ کر یہ ہجوم بٹ جاتا ہے۔ دام اسکوائر ملکہ ہالینڈ کے محل کے سامنے ایک کھلی جگہ پر واقع ہے جہاں سیاح اور کبوتر ایک دوسرے میں اس طرح گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ بسا اوقات یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کس کی تعداد زیادہ ہے۔ دام اسکوائر کے ایک طرف مادام تساؤ کا عجائب گھر ہے۔ ملکہ کے محل کو پشت پر رکھتے ہوئے اگر آپ سامنے کا رُخ کریں تو آپ اس یادگار تک پہنچ جاتے ہیں جو Homo-monument کہلاتی ہے۔ یہ ان ہم جنس پرستوں کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران لقمہ اجل بنے۔ اسی یادگار سے ذرا آگے چھوٹی چھوٹی نہروں کے دہانوں پر وہ کوچے آباد ہیں جو Red light district کہلاتے ہیں۔ یہاں شیشے کے چھوٹے چھوٹے کمروں میں برائے نام زیر جاموں میں ملبوس مختلف عمر، رنگ اور نسل کی لڑکیاں دعوتِ وصال دے رہی ہوتی ہیں۔ اس بازار کے عقب میں واقع ٹیڑھی ترچھی تنگ جگہوں میں، منشیات کھلے بندوں فروخت ہوتی ہیں۔ بعض اوقات کسی کیفے بار میں بپا محفلِ کیف و مستی میں کوئی من چلی حسینہ کپڑوں سے آزاد ہو کر سرِبازار می رقصم کا کچھ ایسا سماں باندھتی ہے کہ باہر گلی میں لوگوں کے قدم رک جاتے ہیں اور پھر بقول احمد فراز
مکیں ادھر کے بھی جلوے اُدھر کے دیکھتے ہیں
Facebook Comments HS

