مذاکرات مذاکرات کا ”کھیل“ ختم کرنے کا ذمہ دار کون؟


بالآخر حکومت اور اپوزیشن (پی ٹی آئی) کے درمیان قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز منعقد کرانے کے لئے ”پولنگ ڈے“ پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث ختم ہو گئے ہیں پی ٹی آئی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک روز کرانے پر مشروط طور پر تیار ہوئی تھی پی ٹی آئی 14 مئی 2023 ء کو قومی اور سندھ و بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنے کی صورت میں عام انتخابات جولائی اگست میں چاہتی ہے جب کہ حکومتی اتحاد آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد اکتوبر 2023 ء کو انتخابات کرانے کے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں حکومت اور پی ٹی آئی گزشتہ ایک ہفتہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ”مذاکرات مذاکرات“ کا کھیل کھیل رہے تھے دونوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھے گی دونوں جانب سے محض ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جا رہی تھی سب کو معلوم تھا اس کھیل کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو گا کسی فریق کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا دو انتہاؤں کے درمیان مذاکرات میں کوئی درمیانی راستہ اختیار نہیں کیا گیا مذاکرات کے تین ادوار ہوئے بات ”نشستند، گفتند، برخواستند“ سے آگے نہ بڑھ سکی۔

حکومتی اتحاد کسی صورت جولائی میں عام انتخابات نہیں کرانا چاہتا خواہ اس کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے جب کہ پی ٹی آئی ماہ ستمبر سے قبل انتخابات کرانے پر مصر ہے مذاکرات کی ناکامی میں ماہ ستمبر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت کی مدت 9 ستمبر 2023 ء کو ختم ہو جائے گی صدر مملکت نئے صدر کے انتخاب تک اس منصب پر فائز رہ سکتے ہیں اگر صدر مملکت نے چارج چھوڑ دیا تو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی قائم مقام صدر کا منصب سنبھال لیں گے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر 2023 ء کو ریٹائر ہو جائیں گے ان کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ ملک کے 29 ویں چیف جسٹس بن جائیں گے ریاست کے دو اہم اداروں کے سربراہوں کی تبدیلی کے بعد جہاں ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کی کیفیت ختم ہو جائے گی وہاں اس وقت ملک کا سیاسی منظر بھی واضح ہو جائے گا اس لئے سارا ہنگامہ ہی ”ستمبر“ کی وجہ سے برپا ہے اس وقت ریاست کے دو اہم ستون مقننہ اور عدلیہ باہم دست و گریبان ہیں دونوں ادارے ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں پارلیمنٹ عدلیہ کی بالا دستی تسلیم کرنے کو تیار نہیں جب کہ عدلیہ اپنے حکم پر عمل در آمد کرانے کے لئے کبھی الیکشن کمیشن کو طلب کرتی ہے کبھی سٹیٹ بنک پر 14 مئی 2023 ء کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کرانے کے لئے 21 ارب روپے کے اجراء کے دباؤ ڈالتی ہے لیکن مقننہ مطلوبہ فنڈز کے اجرا کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے پارلیمان نہ صرف پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لئے رقم کے اجرا کو تین بار مسترد کر چکی ہے بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پارلیمان طلب کرنے کی باتیں کی جانے لگی ہیں پارلیمان اور سپریم کورٹ کے درمیان ”گھمسان کی جنگ“ جاری ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارلیمان سپریم کورٹ کے سامنے ”سرنڈر“ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سپریم کورٹ نے پارلیمان سے ریکارڈ طلب کیا تو نہ صرف پارلیمان نے ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا بلکہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو 16 مئی 2023 ء کو طلب کر لیا۔ ادھر حکومتی اتحاد نے ”توہین پارلیمنٹ“ کا قانون بنانے پر اتفاق رائے کیا ہے تاہم ابھی پارلیمان میں بل پیش نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ”سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پریکٹس“ قانون کے خلاف حکم امتناعی واپس لیا ہے اور نہ ہی جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کر کے فل کورٹ قائم کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 27 اپریل 2023ء کی سماعت کے ایک ہفتہ بعد ملک میں ایک دن انتخابات کرانے کی درخواست پر تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی کوئی ہدایت نہیں کی۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذاکرات ان کی اپنی کوشش ہے۔ 14 مئی 2023 ء کو انتخابات کرانے کا حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے۔

پی ٹی آئی نے قومی، سندھ اور بلوچستان اسمبلی تحلیل کر کے ایک روز انتخابات کرانے کا مطالبہ تسلیم نہ کرنے پر جہاں مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے وہاں اس نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک روز کرانے پر پی ٹی آئی راضی تو ہو گئی تھی لیکن اپنی مرضی کی تاریخ پر مصر رہی۔ اس کا غیر لچک دار رویہ ہی مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنا۔ حکومتی اتحاد آئینی مدت مکمل ہونے پر ملک بھر میں ایک ہی دن نگران حکومتوں کے زیر انتظام انتخابات چاہتا ہے جب کہ اپوزیشن کا ایجنڈا یکسر مختلف ہے۔ حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے وقت مانگ رہی ہے۔ ابھی تک آئی ایم ایف امداد دینے پر آمادہ نہیں ہوا ہے۔ آئی ایم ایف حکومت کے ساتھ سیاست کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی ایک روز قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے آئینی ترمیم کو جواز بنا کر قومی اسمبلی میں واپس جانا چاہتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی دونوں صوبائی اسمبلیوں کی بحالی کی بھی خواہش مند ہے لیکن حکومتی اتحاد کسی صورت بھی پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف دینے کے لئے تیار نہیں۔ پی ٹی عمران خان اور پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف مقدمات کی واپسی بھی چاہتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی نتائج تسلیم کرنے کی بھی بات ہوئی ہے۔

1997 میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ”مناقشت“ عروج پر تھی اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے پارلیمان کا ریکارڈ مانگا تھا تو اس وقت کے سپیکر الہی بخش سومرو نے کسی سے پوچھے بغیر سپریم کورٹ کو ریکارڈ دے دیا تھا جو بعد ازاں اس وقت کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر استعمال ہوا تھا لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔ پارلیمان نے نہ صرف ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا ہے بلکہ ایوان میں سپریم کورٹ کے ججوں کو پارلیمان میں طلب کرنے کے مطالبہ کی گونج سنائی دی۔ حکومتی حلقوں میں برملا کہا جا رہا ہے کہ عمران خان سے مذاکرات بے سود ہیں۔ ہم عام انتخابات مقررہ وقت اکتوبر میں چاہتے ہیں جب کہ عمران خان سیاسی ایجنڈے کے تحت جولائی اگست میں انتخابات چاہتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے چوہدری پرویز الہی اور محمود خان صوبائی اسمبلیاں نہ توڑنے کے لئے عمران خان کی منت سماجت کرتے رہے لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں بیک وقت الیکشن کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ انتخابات والے فیصلے پر نظر ثانی کا وقت اب گزر چکا ہے۔ ہم اس معاملے میں سہولت کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ہی روز انتخابات کی کی تاریخ پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں یہ معاملہ سیاسی عمل پر چھوڑ دیا جائے۔

Facebook Comments HS