طالبان، عمران خان، سیکیورٹی ادارے اور اتفاقات کا سلسلہ
کس کا قصور ہے اور کس کا نہیں؟ یہ بحث چھوڑ دیں۔ لیکن ایک المیہ واضح ہے اور وہ یہ کہ اس وقت ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت اور ملکی فوج ایک دوسرے سے ٹکرا چکے ہیں۔ اور یہ تصادم صرف زبانی کلامی الزامات تک محدود نہیں ہے۔ ایک سال سے یہ بحث تو چل رہی تھی کہ کون نیوٹرل ہے؟ کس نے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل کر عمران خان صاحب کو رخصت کروایا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ اس وقت پاکستانی فوج ان کے نشانے پر ہے۔ لیکن عمران خان صاحب کے ترکش میں ابھی بہت سے تیر باقی تھے۔ چند روز قبل سابق وزیر اعظم نے فوج کے ڈی جی (سی) میجر جنرل فیصل نصیر صاحب پر نہ صرف اپنے پر ایک چھوڑ، دو قاتلانہ حملوں کا الزام لگایا بلکہ صحافی ارشد شریف صاحب کے قتل کا ذمہ دار بھی انہیں ٹھہرایا۔ میجر جنرل فیصل نصیر صاحب پر یہ الزام وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملہ کے بعد بھی لگایا گیا تھا لیکن اس کے بعد اچانک چند روز پہلے اس الزام کو شد و مد سے دہرایا گیا بلکہ یہ بھی کہا کہ میں اب نکلنے لگا ہوں اگر مجھے کچھ ہوا تو میں ساری قوم کو کہتا ہوں کہ جنرل فیصل نصیر کا نام یاد رکھ لو۔ کہیں بھول نہ جانا۔
بہر حال خدا عمران خان صاحب کو سلامت رکھے۔ ان کی زندگی تو محفوظ رہی لیکن کل انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے گھیراؤ جلاؤ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس وقت خاص طور پر پشاور اور لاہور میں صورت حال تشویشناک ہے اور لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کا افسوسناک واقعہ ہوا۔ خواہ عسکری اداروں سے کوئی اختلاف کرے یا اتفاق کرے لیکن اس طرز پر کسی عہدیدار کی رہائش گاہ پر ہلہ بول کر لوٹ مار کرنا اور غنڈوں کی طرح اندر گھس کر توڑ پھوڑکرنا سیاست نہیں ہے۔ یہ صرف ایک گھٹیا حرکت ہے اور سب کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ اور یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے طریق پر یہ نام نہاد کارنامہ سرنجام دیا گیا تھا۔ اور اب اسلام آباد اور پنجاب میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد اس تصادم میں اضافہ ناگزیر نظر آ رہا ہے۔
اس وقت عمران خان صاحب اور ان کی جماعت اپنے روایتی حریفوں یعنی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی پر اتنے وار نہیں کر رہے جتنا فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت اپنے سیاسی حریفوں پر بہت کم توجہ کر رہے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کے عوام اور فوج اور پولیس جیسے اداروں کے درمیان کھلم کھلا تصادم ہو اور نوبت خون خرابے تک پہنچے۔ اگر حملے ہو رہے ہیں تو کور کمانڈر کے گھر پر ہو رہے ہیں اور اگر زخمی ہو رہے ہیں تو پنجاب پولیس کے اہلکار ہو رہے ہیں۔ یہ گمان کرنا تو مشکل ہے کہ عمران خان صاحب نے شریف خاندان یا بھٹو زرداری خاندان کو بخش دیا ہے۔ اس لئے ان کی تمام تر توجہ پولیس اور فوج پر مرکوز ہو گئی ہے۔ یہ ایک منصوبہ ہے۔ لیکن سب سے پہلے اس منصوبے کو کس نے پیش کیا تھا کہ باقی سب کو چھوڑ کر پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناؤ۔
میرے علم کے مطابق سب سے پہلے اس حکمت عملی کو پاکستانی طالبان نے پیش کیا تھا اور ہم ایک دو سال سے یہ دیکھ رہے یہ گروہ بہت مستقل مزاجی سے اس ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد پاکستانی طالبان کے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔ اور ان کی محفوظ پناہ گاہیں ختم ہو گئیں۔ لاچاری کی حالت میں ان کے دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ لینی پڑی تھی۔ اس کسمپرسی کی حالت میں جون 2018 میں نور ولی محسود کو پاکستانی طالبان کا امیر مقرر کیا گیا اور یہ اتفاق تھا یا کوئی منصوبہ کہ اگست 2018 میں عمران خان صاحب ایک متنازع انتخابات کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ بہر حال پاکستانی طالبان کے نئے امیرکا ایجنڈا کیا تھا؟ وہ اپنی کتاب ’انقلاب محسود‘ میں ان الفاظ میں اپنا ہدف بیان کرتے ہیں :
’جہادی مقاصد کے لئے اہداف کا تعین فقہ حنفی کی روشنی میں کرنا سیکیورٹی ادارے یا ان کے معاونین یا وہ آلہ کار جو مجاہدین کے خلاف برسر پیکار ہیں یا ضرر رساں ہیں ہدف بنانا۔ ‘ (انقلاب محسود صفحہ 94)
اسی کتاب کے صفحہ 115 پر وہ اس بات پر کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں مجاہدین اپنا اصل ہدف نہیں پہچان سکے اور منتشر اطراف میں جدوجہد کرتے رہے۔ کبھی وہ شیعہ سنی تنازعہ میں الجھ گئے۔ کبھی کسی اور سمت میں جدوجہد شروع کر دی۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ حالانکہ انہیں اپنے اصل ہدف پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ اور جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ پاکستانی طالبان کا اصل ہدف سیکیورٹی اداروں کا نشانہ بنانا تھا۔ اور نور ولی محسود نے اپنی کتاب میں سب سے زیادہ کس کی کتاب کے حوالے دیے؟ اس کتاب میں سب سے زیادہ عمران خان صاحب کی کتاب ’غیرت مند مسلمان‘ کے حوالے دیے گئے تھے۔ کیا یہ ایک عجیب اتفاق نہیں؟
اس بنیادی مقصد کے تحت نور ولی محسود نے پاکستانی طالبان کی تنظیم نو شروع کی۔ لیکن اس راستہ میں یہ رکاوٹ حائل تھی کہ پاکستان میں پاکستانی طالبان کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ اور پاکستان میں ان کے مراکز ختم ہو چکے تھے۔ اتنے برس پاکستانی طالبان افغان طالبان کی افواج میں شامل ہو کر جنگ میں حصہ لیتے رہے لیکن جب افغان طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا اور عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی میں ان کے اس قبضہ پر والہانہ خوشی کا اظہار بھی کیا۔ اس کے بعد ایک روز ہزاروں پاکستانی طالبان پاکستان کی سرحد پر جمع ہونا شروع گئے کیونکہ افغان طالبان نے انہیں کہا تھا کہ اب تم واپس پاکستان چلے جاؤ۔ اللہ کی شان کہ اس وقت عمران خان صاحب کی حکومت کا دل اتنا پسیجا کہ اس نے ان دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت پاکستان میں واپس آنے کی اجازت بھی مرحمت فرما دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاص طور پر خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی میں کافی اضافہ ہو گیا۔ اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ اس مرتبہ پاکستانی طالبان چن چن کر سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ اور ان کی دہشت گردی کے نتیجہ میں کافی بڑی تعداد میں ان اداروں سے وابستہ افراد کی شہادت ہوئی۔ اور اسی طرز پر اب عمران خان صاحب فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیا یہ اتفاقی مماثلت ہے؟
اس مرحلہ پر سیکیورٹی اداروں کو کچھ سوچنا چاہیے اور خاص طور پر پاک فوج اور اس کی ذیلی اداروں کے ذہنوں میں ایک سوال ضرور پیدا ہونا چاہیے اور وہ سوال یہ ہے کہ آج ان کو سب سے زیادہ طالبان اور عمران خان صاحب نفرت اور حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور کیا یہی وہ دو گروہ نہیں جو انہی سیکیورٹی اداروں کی شفقتوں سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے رہے ہیں۔ اور آج جو دو سیاسی جماعتیں ان اداروں کا دفاع کرتی نظر آ رہی ہیں ان میں سے ایک کے بانی کو پھانسی دی گئی اور دوسرے کے بانی کو نااہل قرار دے کر جیل بھجوا دیا گیا۔ اور ایک چھوٹی سی خبر یہ بھی سنی کہ ملک کی مسیحی برادری نے فوج کے حق میں جلوس نکالے ہیں۔ اور ہمارے ان اداروں میں مذہبی اقلیتوں سے جو سلوک ہوا، وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کتنے مسیحی یا ہندو پاکستانی فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا سکے؟ ہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں لیکن بندہ پرور آپ بھی تو کچھ سوچ بچار فرمائیں۔
کامل اس فرقۂ زہاد میں اٹھا نہ کوئی
کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے

