یہ والی جیورس پروڈنس

نئی نئی وکالت شروع کی دفتر نیب ریفرنس میں بھی پیش ہوتا تھا۔ تب احتساب عدالت نمبر 2 میں کوئی جج تعینات نہ تھا۔ ہاں البتہ بعد میں اسی عدالت میں جج ارشد ملک صاحب تعینات ہوئے اور بعد میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ جب بھی اس عدالت کی بات ہوتی تو استاد محترم چوہدری عبدالرحمان حر باجوہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان اس عدالت کے سابق جج نثار بیگ کا تذکرہ فرماتے۔ باجوہ صاحب نثار بیگ صاحب کے فیصلہ سنانے کے سٹائل کے بدرجہ غایت مداح تھے۔ وہ ان کے ایک فیصلہ سنانے کو نقل کرتے ہوئے فرماتے کہ نثار بیگ صاحب نے ایک دہشت گردی کے مقدمہ کا فیصلہ یہ کیا کہ ایک ملزم کو سزائے موت اور باقی سب کو عمر قید کے سزا سنائی مگر جس طرح انہوں نے فیصلہ سنایا سزایافتہ مجرم بالکل مطمئن ہو کر عدالت سے رخصت ہوئے ( جبکہ عمومی طور پر سزائے موت کے مجرم جج کو گالیاں دیتے ہیں بعض تو جوتے پھینک دیتے ہیں اور طرح طرح کی حرکات کرتے ہیں۔ )
قانونی طور پر جب کسی بھی ملزم کو سزائے موت ہوتی ہے تو اس کی سزا ہائی کورٹ سے کنفرم ہو تب اسے پھانسی دی جاتی ہے مزید جب بھی ملزم کو سزا سنائی جاتی ہے تب ملزمان کو فیصلہ کی کاپی بھی دی جاتی ہے۔
بیگ صاحب نے مقدمہ کا فیصلہ کچھ یوں سنایا کہ فلاں فلاں فلاں پر دہشت گردی ثابت نہیں ہوئی لہذا انہیں میں نے سزائے موت نہیں دی بلکہ بس تھوڑی سی سزا دی ہے۔ یہ ہی کوئی 25 سال کی قید دی ہے۔ رہی بات فلاں کی تو اس کے خلاف مقدمہ تھوڑا مضبوط تھا تو میں نے سزائے موت لکھ دی ہے مگر یہ سزا پکی نہیں ہے، یہ سزا ہائی کورٹ نے پکی کرنی ہے حالانکہ میں نے فیصلہ ایسا لکھا ہے کہ ہائی کورٹ سزا پکی نہ ہوگی۔ اور ساتھ ہی پولیس والوں کو کہا کہ ان لڑکوں کو پیار سے لے جانا اور اپنے عملہ کو کہا کہ انہیں ابھی فیصلہ کی کاپیاں دو اور مزید ملزموں کو کہا کہ لڑکو میرا فیصلہ پکا نہیں ہے اس کے خلاف اپیل لازمی کرنا ہے۔
اب 11 مئی کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بات کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے انوکھے فیصلہ میں الگ ہی منطق تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ عمران خان کو جس طرح گرفتار کیا گیا وہ طریقہ کار غلط ہے۔ مزید قرار دیا کہ عمران خان نیب کی تاویل میں رہیں گے ساتھ یہ کہہ دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سامنے پیش کیا جائے۔
سپریم کورٹ کا یہ آرڈر نثار بیگ صاحب کے طریقہ سے یکسر مختلف نہ ہے۔ نہ ہی سپریم کورٹ نے کوئی ریلیف گرانٹ کیا ہے اور نہ کوئی عمران خان کے حق میں فیصلہ دیا ہے مگر عمران خان اور ان کے حامی جھوم رہے ہیں۔ مٹھیاں بانٹ رہے ہیں۔ بالکل نثار بیگ صاحب سے سزا یافتہ ملزمان کی طرح۔ یہ الگ بات ہے کہ بالکل اسی طرح کا ایک آرڈر اسلام آباد ہائی کورٹ 9 مئی کو جاری کر چکی ہے اور اس پر آئی جی اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی اسی وجہ سے ملا ہے کہ جس طرز سے وارنٹ کی تعمیل ہوئی وہ غیر قانونی تھا مگر گرفتاری قانونی۔
خوشی اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ نے نثار بیگ صاحب والی جیورس پروڈنس کا استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی شر انگریزی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو کہ کسی حد تک خوش آئند ہے۔
جو بھی ہے یہ والی جیورس پروڈنس سزائے موت کے مجرموں کو جن کو موت دکھائی دے رہی ہوتی ہے ان کو مطمئن کر دیتی ہے یہاں تو اندھی تقلید والے طفل عمرانی ہیں جن کو خوش کرنے کے لئے پراپوگینڈ جیورس پروڈنس سے اچھا اور کوئی ہتھیار نہیں۔

