مصنوعی ذہانت کا ٹائم بم
چیٹ جی پی ٹی ہو یا مڈ جرنی، ان دنوں ہر کوئی مصنوعی ذہانت یا اے آئی ٹیکنالوجی سے متاثر نظر آ رہا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ انسانی رضامندی یا نگرانی کے بغیر مصنوعی ذہانت کے خود سے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے انسانوں کو بہت سے خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔ آج اور آنے والے وقت میں یہ یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ کچھ ذمہ دار افراد ہر مرحلے پر اسے جانچتے رہیں اور اسے اپنے مکمل کنٹرول میں رکھیں۔ جب چاہیں اسے اوور رائیڈ کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت مشورہ تو دے لیکن ہمیشہ انسان کے تابع فرمان رہے۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی پیچیدہ الگوردمز پر کام کرتی ہے اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ اس کے نگران افراد، اے آئی بیسڈ سسٹمز کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کو کوڈنگ کی زبان میں سمجھنے اور ان کے طریقہ کار کی منطق کا جائزہ لینے کے قابل ہوں۔
آج محققین اور پالیسی ساز اس بات کو یقینی بنانے کے طریقے تو تلاش کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر مشتمل نظام شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو جوابدہ ہو اور یہ نظام انسانی اقدار اور مجموعی اہداف کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو۔ تاہم اس بابت سست روی چھوڑ کر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
کوڈنگ اور آٹومیشن سے جڑی الگوردمز اور مشین لینگویج کی گمبھیرتا کو سمجھنا اور اس پر مبنی حکمت عملی کو جانچنا ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے تربیت یافتہ ماہرین درکار ہوں گے اور نگرانی کا فول پروف نظام بہت جلد ترتیب دے کر اسے نافذ کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے لیول پر تمام ممالک کو اکٹھا ہو کr ایک بنیادی ضابطہ یا یونیورسل مانیٹرنگ نظام جلد فائنل کر دینا چاہیے، ایک ایسا نظام جس کے تحت قانون سازی ہو، ایک با اختیار، متحرک اور آزاد ایجنسی بنے جس کے ذریعے یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ انفرادی، اجتماعی اور ریاستی سطح پر اے آئی ہمیشہ ایک ایسا تابع فرمان آلہ رہے جسے انسان دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تخریب یا غیر یقینی صورتحال کا ذریعہ بنانے کے بجائے صرف انسانی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا رہے۔


