کیا سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے؟


مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت ملک میں خانہ جنگی کروانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ یہ منصوبہ بندی کوئی اور نہیں بلکہ اقتدار پر براجمان طبقہ کر رہا ہے۔ شاید ان کا حافظہ کمزور ہے۔ یا اقتدار کے نشے میں مست ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کی بات ہے۔ کہ عوامی لیگ کو اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھا گیا۔ جب عوامی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار قرار دیا گیا۔ تو کیا نتائج برآمد ہوئے۔ تقریباً نوے ہزار افراد قید ہوئے۔

کیا آپ نے سبق حاصل نہیں کیا۔ آج وہی کچھ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کیوں؟ کیا عمران خان غدار ہے؟ کیا عمران خان اور تحریک انصاف ملک دشمن ہے؟ پاکستانی آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 14 مئی کی تاریخ دی۔ لیکن 14 مئی کو انتخابات نہیں کروائے جا رہے ہیں۔ دو صوبوں میں منتخب صوبائی حکومتیں نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں 155 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے۔

کروڑوں عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا۔ لیکن عوامی لیگ کی طرح پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگایا گیا۔ پاکستان کے چیف جنرل عاصم منیر کہتے ہیں کہ 9 مئی یوم سیاہ کی کارروائیوں کے تمام منصوبہ سازوں، مشتعل افراد، اشتعال پر اکسانے اور عمل کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ یہ فوج کے سربراہ کا بیان ہے۔ فوج کے سربراہ کو سوچ سمجھ کر بیان بازی کرنی چاہیے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میرا فلسفہ نہیں، ہر طرح کے اشتعال کے باوجود ہم ہمیشہ پرامن رہے ہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اس پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں بنتا۔ کیا یہ وہی تسلسل نہیں جو ڈھاکہ میں کھیلا گیا اور نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا؟ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت آرٹیکل 15 16 17 اور 19 کے تحت تمام شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔

پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ لیکن ملک کو فوجی کالونی بنا دیا گیا ہے۔ جب شہریوں پر تشدد کریں گے۔ جب شہریوں کو پرامن احتجاج سے روکے گے۔ جب شہریوں سے اظہار رائے آزادی چھین لو گے۔ جب سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کرو گے۔ جب انصاف نہیں ہو گا۔ جب آئین و قانون کی بالادستی نہیں ہوگی۔ تو پھر شہریوں کے پاس کون سا راستہ بچتا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ موجودہ سیٹ اپ مستعفیٰ ہو جائے۔ نئے انتخابات کا انعقاد ہو تاکہ ملک میں عوام کی امنگوں کے مطابق حکومت قائم ہو سکے۔ ورنہ ملک میں خانہ جنگی جیسا ماحول ہے۔ اگر ایک دفعہ خانہ جنگی شروع ہوئی تو کوئی بھی نہیں بچے گا۔

Facebook Comments HS