چنار کے لاشے اور القادر ٹرسٹ


پارا چنار کے ”تری منگل“ گاؤں میں سات اساتذہ کو بلم اور کلہاڑیوں سے ٹکرے ٹکرے کر کے قتل و غارت اور بربریت کے کرتا دھرتا اپنی خانقاہوں اور حجروں میں محفوظ بنا کر بے گناہ لہو کے چراغ جلا رہے ہیں، یہ گرفت میں نہ آنے والے قاتل اپنے قتال پر ”پارا چنار“ میں دہشت و وحشت پھیلا کر بہتے لہو کی صدائے حق کو روکنا چاہتے ہیں، اپنے اجداد کے حرب اور توپ و تفنگ سے ”تری منگل گاؤں“ کی کمزور اور ناتواں آواز کو دبانا چاہتے ہیں، قہر کے یہ ”ان داتا“ دہشت کی پرورش کرنے والے ان مدرس کی تربیت اور سوچ کا وہ عکس ہیں، جو ڈالروں اور ریال کی رال پر مدرسوں میں ”انسانی توقیر و حرمت“ کو بانجھ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

گو تاریخی تناظر میں مدارس علم و حکمت اور اخلاقیات کی تربیت کا وہ شاہکار رہے ہیں، جن کی مدد سے انسانی ارتقا کا شعور بلند ہی ہوا ہے، انسانی تقسیم کو بڑھانے والی ہر فکر کو باشعور اساتذہ نے سماج کی کالک قرار دیا ہے، یہی تو وہ اساتذہ ہیں جو سماج کے ذہنی شعور اور حرمت کی بقا کے لئے اپنی زندگیاں سماج کی بڑھوتری کے لئے وقف کر دیتے ہیں، علم تقسیم کرنے والے اساتذہ کے ساتھ جہل اور وحشت و دہشت کے سماج اور علم دشمنوں نے کبھی علمی اساتذہ کی زبان گدی سے کھینچی، کبھی علم کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا، کبھی علم کو نینوا کے ریگزار میں تہی دست کیا تو کبھی علم کو کوفے میں زہر آلود خنجر کی سناں سے قتل کیا گیا، علم کی شعوری حقانیت پر مصطفی زیدی درست ہی تو کہہ رہے تھے کہ

علم سقراط کی آواز ہے عیسیٰ کا لہو
علم گہوارہ و سیارہ و انجام و نمو
علم عباس علمدار کے زخمی بازو
علم بیٹے کی نئی قبر پہ ماں کے آنسو
وادیٔ ابر میں قطروں کو ترس جائے گا
جو ان اشکوں پہ ہنسے گا وہ جھلس جائے گا​

آمر جنرل ضیا کی مدعیت میں ڈالروں کی جھنکار میں قائم کیے جانے والے مدرسوں میں پرورش پانے والے دہشت گرد طالبان اور جہادیوں کی فوج ظفر موج سماج کو علمی سطح پر بانجھ کر کے جہالت اور تنگ نظر معاشرے کی وہ بنیاد مستحکم کرنا چاہتے ہیں، جس کے آگے علم کے سرفروش ہمیشہ سینہ تان کر کھڑے ہوئے، ان بر بریت پسند دہشت گردوں کے انسانی قتال پر گونجنے والے قہقہوں کا جواب امن پسندوں نے ہمیشہ صبر تحمل اور برداشت سے دیا۔

احساس مندوں کو خبر ہو کہ پارا چنار کے قصبے ”تری منگل“ میں علم کی مشعلیں بجھا دی گئیں، پچھلے تین سو سالہ عالمی تاریخ میں بغیر معلم اور علم کی عزت کیے کوئی تعمیر اور ترقی نہیں ہوئی، انسان کا ارتقا ہو یا ایجاد و ہنر کا میدان، فلسفہ ہو یا کیمیا و طبعیات، ادب و تہذیب ہو یا دور حاضر کا پیچیدہ مواصلاتی نظام وہ بغیر علم کیسے نمو پا سکتا تھا۔

کیا آپ کو وہ ترک پائلٹ یاد ہے جس کے جہاز میں اس کا استاد سفر کر رہا ہے جہاز معاون پائلٹ کے حوالے کر کے اپنے میزبان عملے سمیت استاد کے پاس آن بیٹھا تھا۔ ہندوستانی ریاست کیرالہ کے وہ طالب علم جو اپنے استاد کو سرپرائز دینے کے لئے اسکول انتظامیہ کی اجازت سے کلاس روم میں جا بیٹھے۔ جن میں کامیاب وکیل، ڈاکٹرز انجنئیر اور صنعت کار تھے۔ اس لمحے استاد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور شاگرد بھی اپنے محسن سے کہہ رہے تھے کہ آج ہم جو بھی ہیں وہ سب آپ کی وجہ سے ہیں۔ حکمران سلطان قابوس سے جب صحافی نے پوچھا کہ آپ اپنے پروٹوکول کو رد کر کے خود گاڑی چلا کر مہمان کو لینے کیوں ائرپورٹ جا پہنچے تو اس نے کہا کہ ایک شاگرد اپنے استاد اور محسن کے احترام میں ائر پورٹ گیا۔

اس سب کے مقابل ہمارے ہاں کا چلن دیکھئے کہ پارا چنار کے تری منگل میں سات اساتذہ کو بربریت سے ذبح کر دیا جاتا ہے، مگر ریاست سمیت عدلیہ اور بے حس عوام اسے معمول کا واقعہ سمجھ کر پی جاتی ہے، پارہ چنار کے لاشے چھوڑیے ہم تو بطور سماج اور عمران خان کے سوا انصاف دینے والی عدلیہ سے اب تک بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے ایک نوجوان استاد کو توہین مذہب کے کیس میں زندان کی دیواروں سے آزاد نہ کرا سکے ہیں۔

لگتا ہے کہ اب انصاف اور عدالتی کارروائی کا واحد مقصد ”القادر یونیورسٹی“ کی بد عنوانی اور انتہا پسند تعلیمات کے طالبان سوچ والے عمران خان کو کسی بھی طرح بچانے اور محفوظ کرنے کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا، لگتا ہے کہ انصاف زمان پارک سے بنی گالہ تک محدود کر کے عدلیہ نے عام فرد کی داد و فریاد کو بے وقعت اور بے کار سمجھ رکھا ہے۔ اندازہ کیجیئے کہ منصف کی اعلی کرسی کے شہسوار بدعنوانی کے کیس میں ملوث ملک ریاض اور عمران خان کو کسی بھی طرح محفوظ کرنا چاہتے ہیں تاکہ آمر جنرل ضیا کی انتہا پسند طالبان کے پودے کو کسی بھی قیمت پر تناور کیا جائے۔ آج کے قاضی القضا عمران خان کی عدالت میں آمد کو خوش امد سمجھتے ہوئے عمران کے شکرگزار ہونے پر تلے بیٹھے تھے، ان کے آرام اور خوش گپیوں کا گیسٹ ہاؤس میں تمام تر سہولیات سے مزین انتظام کرانے میں نہ صرف جتے ہوئے تھے بلکہ بادی النظر میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں متعلقہ کورٹ کو ان کی پیشگی ضمانت کی ہدایات بھی دے رہے تھے۔

ڈیڑھ درجن سے زیادہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے اور سیاستدانوں کے کپڑے اتارنے اور بال مونڈنے میں مصروف ہیں، اساتذہ کی تنظیمیں انتہا پسند سوچ کی پابند دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سول سول سوسائٹی اور انسانی بنیادی حقوق کی تنظیمیں ستو پی کر سوئی ہوئی معلوم دیتی ہیں۔ صدر مملکت عمران خان کی گرفتاری پر ٹسوے بہانے اور ملاقات کے لئے تڑپ رہے ہیں، جبکہ وزیراعظم نیرو مانند شاہ برطانیہ کے سر پر اپنے ہاتھوں سے تاج رکھنے کی رسم نبھا کر سکھ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کا چلن بڑھکیں مارنے کے سوا کچھ سجائی نہیں دیتا، جبکہ سو موٹو کے شیدائی عمران خان کے چہیتوں کی طرف سے سرکاری عمارتوں کو بھسم کرنے سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ”القادر ٹرسٹ“ کی بدعنوانی کے ساتھ سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے آ جانے والے اربوں روپے کے فنڈز سے عوام کی توجہ ہٹانے میں سرگرم عمل ہیں اور عدلیہ ناجائز طریقے سے ملک ریاض کے فنڈز کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، جبکہ انتہا پسندی کی دستار میں لپٹے ہوئے مجاہدین و علامہ حضرات طاقتوروں کی دریوزہ گری پر مامور کر دیے گئے ہیں۔

اب بھلا اعلی عدلیہ کی معاندانہ پالیسی اور من۔ پسند بنچ کے فیصلوں درمیان دوستوں اور ساس کے عشق میں گرفتار و مجبور ہماری اعلی عدلیہ عوام کے مفاد یا ان کے بہیمانہ قتل و غارت پر کیسے اور کیونکر سوموٹو لے گی؟

لگتا ہے کہ ہماری نسل اور سماج کو قرون وسطی والے پتھروں کے دور میں لے جانے کا وعدہ دہشت گرد طالبان اور ان کے مربی حمید گل اور جنرل ضیا کی روح سے اعلی عدلیہ کے منصب داروں نے کر رکھا ہے، جس کی تکمیل میں اس سماج کی اخلاقی، سماجی اور سیاسی قدر کو انتہا پسندانہ بہت منظم انداز سے ”یو ٹرن خان“ کی مدد سے بنایا جا رہا ہے۔ سب اگر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ہماری عدلیہ کے نزدیک پارا چنار کے سات افراد کا قتل یا بلوچ نوجوانوں کے غائب ہو جانے سے زیادہ ”رشوت کے طور پر لی جانے والی“ القادر ٹرسٹ ”کی زمین کے مالک اور ٹرسٹی عمران خان اور بشری بی بی کو ہر صورت بچانے کی فکر ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔ اس قسم کی بے حسی اور سماجی تنزلی پر مصطفی زیدی ایسے سر پھرے مجذوب بھلے یہ کہتا رہے

اے وطن یہ ترا اترا ہوا چہرہ کیوں ہے
غرفہ و بام شبستاں میں اندھیرا کیوں ہے
درد پلکوں سے لہو بن کے چھلکتا کیوں ہے
ایک اک سانس پہ تنقید کا پہرا کیوں ہے
کس نے ماں باپ کی سی آنکھ اٹھالی تجھ سے
چھین لی کس نے ترے کان کی بالی تجھ سے

مگر بندیال کورٹ کا پارا چنار کے ذبح کیے جانے والے سات اساتذہ کے دکھ میں مبتلا افراد کو پیغام ہے کہ عدلیہ کے لئے اہم بات اعلی طبقات کے ”القادر ٹرسٹ“ کی انتہا پسند تعلیم اور عمران خان کی بدعنوانی بچانا ان کا فرض اولین ہے۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza