خاندانوں کا عالمی دن


خاندان معاشرے کی وہ بنیادی اکائی ہے جو اس کے تمام افراد خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما اور فلاح و بہبود کے لیے فطری ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے حکومت، معاشرے اور عدالت سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے کی بقا اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ (انسانی حقوق کا عالمی منشور 1948، آرٹیکل 16 ) ۔ پورے معاشرے کی ترقی میں بھی خاندان کا کردار مسلم ہے۔ بنا بریں عوام اور فیصلہ ساز دونوں کو خاندان کے مسائل اور ان کی ضروریات سے متعلق واقف ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ان ضروریات کو موثر طریقے سے پورا کر سکیں۔

اقوام متحدہ نے 1980 کی دہائی میں خاندان سے متعلق مسائل پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی اور پھر 1993 میں جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ 15 مئی کو ہر سال خاندانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے۔ یہ دن خاندان کی بہبود اور اسے متاثر کرنے والے سماجی، معاشی اور آبادی کے عوامل کے بارے میں معلومات کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف جنہیں اقوام متحدہ کے 193 ممالک نے 25 ستمبر 2015 کو متفقہ طور پر منظور کیا، یہ کل 17 اہداف کا ایک مجموعہ ہے جن میں سے کم از کم چھ اہداف کا تعلق بنیادی طور پر خاندان کے ادارے سے ہے۔ ان میں غربت، صحت، تعلیم، صنفی مساوات، نوجوانوں کے لیے روزگار اور تشدد کے خاتمے کے اہداف شامل ہیں۔ اس لیے خاندان سے متعلق حکومتی اور عالمی اداروں کی پالیسیاں اور پروگرامز بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

عالمی سطح پر خاندان سے متعلق جن پالیسیوں کا نفاذ بڑھ رہا ہے ان میں نوزائیدہ بچوں کے وظیفے، حمل اور بچے کی ولادت پر والدین کو چھٹی اور بچے کی سکول جانے سے پہلے اور نو عمری کی تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال کے لیے پالیسیاں شامل ہیں۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس طرح کی پالیسیز غربت کو کم کرنے، ملازمت میں بہتری لانے، صنفی مساوات کو فروغ دینے اور گھریلو تشدد میں کمی کے رجحانات کے ساتھ ساتھ اچھی صحت اور تعلیم کے حصول میں معاون ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر غریب خاندانوں کو براہ راست نقد رقم کی مدد سے ان کے حالات زندگی بہتر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب انہیں یہ رقم ان کی خوراک، صحت اور تعلیم کے لیے خرچ کرنے کی شرط کے ساتھ دی جائے۔ اسی طرح سے بچوں کے وظائف لڑکے اور لڑکی میں امتیازی رویوں اور سلوک کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ صنفی مساوات اگرچہ بذات خود ایک مستقل ہدف ہے مگر یہ دوسرے مقاصد جیسے غربت، صحت اور تعلیم کے ساتھ منسلک ایک مسئلہ بھی ہے۔ چونکہ خواتین آمدنی کے حساب سے غربت میں رہنے والے افراد کا ایک بڑا حصہ ہیں اس لیے صنفی مساوات کے ذریعے سے جب ان کی آمدنی، صحت، تعلیم میں بہتری آئے گی اور انہیں جائیداد کا حق اور دوسرے وسائل پر دسترس ہوگی تو بحیثیت مجموعی معاشرے کی غربت میں کمی آئے گی۔

بچے اور نو عمر دنیا بھر میں بالعموم اور ہمارے ہاں بالخصوص پر تشدد نظم و ضبط کا شکار ہیں جس سے ان میں ذہنی تناؤ اور دوسرے نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا آغاز بالعموم گھر سے ہوتا ہے۔ تشدد پر مبنی گھریلو ماحول کو روکنے اور خاندان کے تمام افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس تناؤ کو جتنا جلدی ہو سکے ختم کیا جائے اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول اور بچوں کی دیکھ بھال کے طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ تشدد گھر پر ہو یا گھر سے باہر، ہر دو صورت میں اس کو روکنے میں خاندان کا کردار بنیادی ہے۔ یہ خاندان ہی ہے جو مثال کے طور پر تشدد کے متاثرین کی مدد کرنے میں پہل کر سکتے ہیں اور ایسے سماجی اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں جو تشدد کو معاشرے کے لیے ناقابل قبول بنا دیں۔

یہ جو نو عمروں میں ہم ذہنی دباؤ، نشہ، حادثات اور خود کشی کے میلانات دیکھتے ہیں ان کی تشکیل زیادہ تر بچپن ہی میں ہو چکی ہوتی ہے۔ خاندان نوعمروں کے لیے سپورٹ نیٹ ورک بنانے میں بڑا موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بصورت دیگر وہ خود اپنے بچوں میں تناؤ اور افسردگی پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ صحت مند خاندان اور ان کا ماحول صحت مند رویوں کو فروغ دیتے ہیں اور غیر صحت مندانہ رویوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند بچے ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کر سکیں، کھیل اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور بڑے ہو کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

نوجوانوں کی بے روزگاری بین الاقوامی سطح پر ایک مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع تک رسائی میں فرق اکثر اوقات خاندانی صورت حال، گھریلو آمدنی اور والدین کی ملازمت کے حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب تک نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے حصول میں کامیابی کے لیے درکار تعاون نہیں فراہم کیا جاتا، اندیشہ ہے کہ لاکھوں نوجوان زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ نوجوان جب اپنے لیے نئے خاندان کی شروعات کرنے اور اس کی ذمہ داریوں کو آزادانہ پورا کرنے میں معاشی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں تو اس سے ان کی ذہنی صحت بگڑنے لگتی ہے اور مجرمانہ رویہ پروان چڑھنے لگتا ہے۔

خاندانوں کے عالمی دن کے اس سال کا مقصد ہے ”خاندان اور شہری آبادکاری“ ۔ شہری آبادکاری ہماری دنیا اور دنیا بھر کے خاندانوں کی زندگی اور فلاح و بہبود کو تشکیل دینے والے اہم ترین رجحانات میں سے ایک ہے۔ پائیدار شہری آبادکاری کا تعلق کئی پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول سے ہے۔ جیسے غربت کا خاتمہ، اچھی صحت اور بہبود، انسانی آبادی کو سب کے لیے مشمولہ بنانا اور آفات میں بھی محفوظ رکھنا۔ اس کے علاوہ ممالک کے اندر اور ان کے درمیان عدم مساوات کو کم کرنا بھی ان اہداف کا حصہ ہے۔ پائیدار ترقی کے ان اہداف کا انحصار اس پر ہے کہ شہری آباد کاری کو کس طرح سے ہم خاندانوں اور تمام نسل انسانی کے لیے فائدہ مند بناتے ہیں۔

اس بحث سے واضح ہے کہ متعدد سماجی ترقی کے اہداف کے حصول کی بنیاد خاندان کا ادارہ ہے۔ چنانچہ کسی بھی معاشرے میں مضبوط خاندان کے لیے حکومتی اور بین الاقوامی پالیسیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments HS