قصوروار کون


جب سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو، سپریم کورٹ نے ضمانت پر آزاد کیا ہے تب سے، عدالت کے خلاف ایک عجیب قسم کی پروپیگنڈا مہم چل رہی ہے کہ چیف جسٹس نے انصاف نہیں کیا اور سپریم کورٹ کا لاڈلا عمران خان ہے۔

پہلی بات، قانون کے رو سے ایک جواب دار ویسے ہی کورٹ کا ”فیورٹ چائلڈ“ ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ کسی بھی کورٹ کے آگے کوئی ملزم جب ضمانت کے لیے پیش ہوتا ہے تو، کورٹ کے سامنے آئین پاکستان ہوتا ہے، ساتھ ہی کچھ قانونی نکات ہوتے ہیں کہ ملزم کو ضمانت دی جائے یا نھیں، مثلاً کورٹ ضمانت کے قوانین کے مطابق دیکھتی ہے کہ ملزم پر کیس تو ہے لیکن ابھی (فردر انکوائری) یعنی تحقیقات جاری ہیں کہ ملزم جرم میں شامل ہے یا نھیں، تب تک ملزم ضمانت کا حقدار رہتا ہے اس پر سپریم کورٹ نے ہی کئی فیصلے کر رکھے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر کورٹ کے سامنے ہمارے آئین کا آرٹیکل 10 اے ہوتا ہے، جس کے مطابق ملزم اپنی دفاع میں قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے اقدام اٹھا سکتا ہے۔ کیونکہ ملزم کے کچھ سول حقوق ہوتے ہیں۔ اس کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 34 کے تحت اگر سپریم کورٹ نے نیب کے وارنٹ کو معطل کیا تو یہ آرٹیکل 10 اے کے بالکل عین مطابق ہوا۔ اور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کسی۔ کورٹ دیکھتی ہے کہ جرم جس میں ملزم کو چارج کر دیا گیا ہے اس کی نوعیت کیا ہے۔

عمران خان کو نیب نے جب حراست میں لیا تو وہ کورٹ میں تھے اور اس پر سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں کہا کہ جس ملزم کو مقدمے کا علم نہ ہو اس کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
اور یہ مقدمہ نیب کا تھا چیئرمین نیب نے وارنٹ جاری کیے لیکن عمران خان اس وقت کورٹ میں تھا اور کسی کیس میں ضمانت لینے گیا تھا جس کا مطلب، پہلے ہی وہ کورٹ کے آگے سرینڈر کر رہا تھا، اور اگر ملزم اس طرح کورٹ میں ہو تو اس کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

کوئی بھی جج ہو چاہے سپریم کورٹ کا جج، وہ قانون کو دیکھے گا، آئین پاکستان دیکھے گا۔ ایسے روزانہ متعدد کیسز کورٹ میں درج ہوتے ہیں جہاں ہائے کورٹ یا سپریم کورٹ وارنٹ معطل کرتے ہیں، تو پھر عمران خان کے کیس میں اتنا واویلا سمجھ سے باہر ہے۔ میڈیا پر لوگ کیا کیا بولے جا رہے ہیں۔ اگر ہم القادر ٹرسٹ دیکھیں کو اس مین بھی تحقیقات ہونی ہیں، اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ملک ریاض اور بشری بی بی ہیں تو صرف وارنٹ یا گرفتاری عمران خان کی کیوں۔

اور یہ بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ وہ پیسے برطانیہ کیوں جا رہے تھے کیا عمران خان کے بینک اکاؤنٹ ہیں وغیرہ۔ اور یہ تحقیقات ہونگی بھی تو تب تک عمران خان کا حق بنتا تھا کہ اس کو ضمانت ملے / وارنٹ معطل ہوں۔ اور وہ وارنٹ بھی نیب چیئرمین نے عمران خان بھیجے تھے، چیئرمین نیب کورٹ بھی نہیں۔ اور سپریم کورٹ کے پاس ضمانت نہ دینے کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔

یہ سارا واویلا کورٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ میڈیا کی جانب سے کیا گیا ہے۔ کورٹ اور ملزم کا معاملہ ان کو خود ڈیل کرنا چاہیے۔

عمران خان کو فتنہ کہنے والے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر بغیر قانون کی علم ہوتے ہوئے تجزیہ کر کے عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور مشتعل لوگ جو املاک کا نقصان کرتے ہیں وہ سب ملکی نقصان کے برابر کے شریک ہیں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو بری نہیں کیا ابھی بھی مقدمات کے انبار ہیں اور خان صاحب ٹرائل فیس کر رہے ہیں تو مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کا کیوں اعلان کیا ہے۔

کیا پی ڈی ایم نے کہیں نہ کہیں ماحول خراب کرنے کی کوشش نہیں کی، مریم نواز کے چیف جسٹس کے بارے میں بیانات دیکھیں، یہ سارے لوگ، اس ہی چیف جسٹس کے رات کے 12 بجے سپریم کورٹ کے کھلنے پر ان کو مرد مجاہد کہتے رہتے تھے۔

کیا ان کو تاریخ کبھی معاف کرے گی، جب اداروں پر حملے کرنے کی پلاننگ کرتے ہیں؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments