سوچنے کے انداز اور ان کے زندگی پر اثرات
ایک فلاسفر کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ کیونکہ میں سوچ سکتا ہوں اس لئے میں ہوں، یعنی انسان کے لئے غور و فکر کرنا کتنا اہم ہے، جو یقیناً انسانی شخصیت کی تعمیر اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے، یعنی ہم یہ بات با آسانی کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا طرز فکر اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
سوچ کے تانے بانے جاکر ملتے ہیں فلسفہ سے جو علم و آگہی سے متعلق قدیم علم ہے سوچ فلسفہ کی روح ہے، جس سے سوچ و فلسفہ کی مزید شاخیں نکلتی ہیں جیسے منطق، ماوراء الطبعیات، اخلاقیات اور جمالیات۔
یوں تو ہر انسان سوچتا ہے اور معاملات پر غور و فکر بھی کرتا ہے مگر کیا وہ صحیح طریقہ پر یا مناسب نہج پر سوچتا بھی ہے یا نہیں؟ اگر صحیح معلومات کی روشنی میں درست خطوط میں معاملات پر غور کیا جائے تو نتائج مثبت آنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں لیکن اگر حقیقی عوامل کو نظر انداز کر کے محض مفروضوں کو بنیاد بنا کر جتنا بھی غور و فکر کیا جائے مثبت نتائج کا حصول ممکن نہ ہو گا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا انداز فکر کیا ہے؟ یہ جاننے کے لئے کہ آپ کس انداز فکر کے حامل ہیں آپ کو سوچنے کی پانچ بنیادی اقسام کو جاننا پڑے گا۔ عمومی طور پر ہم اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ہمارا ذہن کس طرز پر سوچتا ہے، یہ نہایت ہی اہم ہے کہ آپ یہ جانتے ہوں کہ آپ کا ذہن کس طرز فکر کا عادی ہے اور آپ کس طرح سے سوچنے کے عادی ہیں تو آپ کے لئے فیصلہ کرنا اور دیگر معاملات پر بہتر انداز میں اور زیادہ موثر طور پر غور و فکر کرنا آسان ہوجاتا ہے، اس طرح آپ زیادہ موثر طریقے سے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور زندگی کے بیشتر معاملات میں بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ جاننے کہ بعد کہ آپ کا طرز فکر کیا ہے اور دوسرے لوگوں کے سوچنے کا انداز کیا ہے آپ زیادہ بہتر طور پر اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ سوچنے کے انداز سے آگہی یقیناً آپ کو بہتر فیصلہ کرنے کی نہ صرف صلاحیت مہیا کرتی ہے بلکہ بہتر فیصلوں کی وجہ سے کامیابی کی شرح میں بھی اضافے کا باعث ہو سکتی ہے۔
عموماً ً لوگ یہ کہتے ہیں کہ میری سوچ فلاں سے بہت ملتی ہے، یا آپ کے ساتھ کام کرنے والے جنہیں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی بات بہتر طور پر سمجھ لیتے ہیں اور ویسا ہی کام کرتے ہیں جیسا آپ چاہتے ہیں یا آپ کا باس چاہتا ہے۔ یہ صرف اس وجہ سے ہی ممکن ہو پاتا ہے کہ آپ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو سمجھ جاتے ہیں یا لوگ آپ کے سوچنے کے انداز کو جانتے ہیں۔ یہ ایک بڑی صلاحیت ہے کہ آپ منفرد انداز فکر کے حامل ہوں اور لوگوں سے ملاقات کے دوران انہیں اپنے طرز فکر سے متاثر کرسکیں۔
فکری تبدل کے تناظر میں اہم نکات، جن کا خاص اہتمام کیا جانا نہایت ہی ضروری ہے :
یہ نہایت ضروری ہے کہ پہلے لوگوں کو اور ان کے انداز فکر کو سمجھا جائے، بعد میں یہ امید رکھی جائے کہ کوئی آپ کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھے گا۔ کیونکہ جتنا بہتر طور پر آپ کسی کو جان سکیں گے اتنا ہی بہتر لائحۂ عمل آپ اختیار کر سکیں گے۔ یہ ایک نہایت ہی سادہ مگر موثر طریقۂ کار ہے جس کے ذریعہ آپ مختلف الخیال لوگوں کے ساتھ با آسانی اور کامیابی کے ساتھ معاملات نمٹا سکتے ہیں۔
میل جول پیدا کریں اور اپنے منفرد انداز فکر کا فائدہ اٹھائیں، ہمارے خیال میں پانچ فکری انداز کو پہچاننے کا کارآمد ترین جز میل جول یا ربط پیدا کرنا ہے۔ جو آپ کو مطلوبہ معلومات بہم پہچانے میں نہایت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ اپنے تعلق یا ربط کے ذریعے ہی بہتر طور پر اپنا مدعا بیان کر سکتے ہیں، اپنا رسوخ بنا سکتے ہیں یا باہمی اعتماد کی فضا قائم کر سکتے ہیں۔
مخالف طرز فکر سے آگاہی حاصل کریں، یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی کے طرز فکر کو جانے بنا اس سے محاذ آرائی یا کج بحثی اختیار کی جائے بلکہ مخالف طرز فکر کو جان کر بات چیت کے لئے صحیح لائحہ عمل اختیار کیا جائے تو یقیناً نہایت مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
کسی بھی شخص کی ذہنی صلاحیت یا سوچنے سمجھنے کے انداز کو سمجھنے کے لئے یہ پانچ سوچنے کے انداز مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ ان کے ذریعہ باآسانی جان سکتے ہیں کہ اس شخص کی سیکھنے کی صلاحیت کیسی ہے، اس کے خوشی، غم، آرام و تکلیف میں جذباتی اور نفسیاتی رویے کیا ہو سکتے ہیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مختلف لوگوں کے سوچنے کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں، جیسے کچھ لوگوں کی سوچ تخلیقی ہوتی ہے، کچھ لوگوں کی سوچ تجزیاتی، ہوتی ہے کچھ لوگ بہت باریک بین یا مائل بہ مرکوزیت سوچ کے حامل ہوتے ہیں کچھ جز وقتی یا کم مدتی اور کچھ لوگ کل وقتی یا طویل مدتی سوچنے کے پیٹرن کے حامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہم سب کے دماغ مفرد ہوتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی ایک شخص سے دوسرے شخص تک مختلف ہوتی ہیں، لہذا سوچنے کے پانچ مندرجہ ذیل انداز کو فکری جہت کا باقاعدہ طریقہ جانا مانا گیا ہے۔
1۔ تخلیق کار: تخلیقی سوچ کے حامل افراد۔ دنیا بھر میں دانشور، مفکر، ادیب، شاعر اور دیگر شعبہ جات میں شغف رکھنے والے اپنی تخلیقی و تحقیقی عادات و اطوار اور طرز فکر کی وجہ سے تخلیق کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ ہر وقت کسی نہ کسی منفرد تخیل کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور جب منطقی طور پر خیال شعوری حدود کی بلوغت کو پہنچ جاتا ہے تو پھر وہ کوئی شاہکار تخلیق کر پاتے ہیں۔
2۔ مثالیت یا نظریات پسند سوچ : اس سوچ کے حامل لوگ ہمیشہ بلند سوچتے ہیں اور اعلی معیار قائم کرنے کی چاہ میں رہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہی زندگی میں بڑے اہداف پر کام کرنے کا سوچتے ہیں۔ اس طرز فکر کی وجہ سے یہ لوگوں میں کمال پسند مانے جاتے ہیں۔ اپنے علم اور سوچ کے مطابق وہ ہمیشہ اپنا بہترین قدم اٹھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی سوچ کے حامل لوگ عموماً مستقبل پسند ہوتے ہیں، یہ ٹیم ورک پر بہت انحصار کرتے ہیں اور ٹیم ورک کرنے والوں کی قدر کرتے ہیں اور انہیں پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر ایک سے محنت کی توقع رکھتے ہیں۔ تاہم انہیں اس حقیقت کا جاننا ضروری ہے کہ دوسروں کے معیار اور توقعات مختلف بھی ہو سکتے ہیں، جو بہت ممکن ہے ان کی سوچ اور امیدوں سے مماثلت نہ رکھتے ہوں۔
3۔ مفکر یا عملی سوچ: عملیت پسند سوچ کے حامل لوگ وقت ضائع نہیں کرتے وہ فوری کارروائی کرتے ہیں اور قدم بہ قدم منطقی طور پر مسائل سے نمٹتے ہیں، یہ ہمیشہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مگر مثالیت یا نظریات پسند سوچ کے حامل کی طرح بڑی تصویر کو سمجھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ طویل مدتی میں کیا بہتر ہے پر غور کرنے کی بجائے، قلیل مدتی سوچتے ہیں۔ یہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو معیوب نہیں سمجھتے بلکہ بڑے نتائج کے حصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
4۔ تجزیاتی یا دانشمندانہ سوچ : تجزیاتی سوچ کے حامل لوگ خاص اصولوں یا طریقوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ پہلے وہ تمام حقائق اور معلومات جمع کرتے ہیں، پھر اس کی درجہ بندی کرتے ہیں معلومات کو باقاعدگی سے پرکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی اساس مضبوط ہوتی ہے اور صلاحیتوں کی جڑیں بڑی مضبوط ہوتی ہیں۔ اس سوچ کے حامل لوگ مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ کسی فارمولے یا خاکہ شدہ طریقہ کار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے لوگوں کی سوچ کو رعایت دیتے ہیں مگر ان کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنا ذہن کشادہ اور کھلا رکھیں۔ کیونکہ مختلف خیالات سوچ کی مختلف جہت کھول سکتے ہیں۔
5۔ حقیقت پسند یا مکمل مسئلہ حل پسند سوچ: اس سوچ کے حامل خود مختار ہوتے ہیں اور جلد سے جلد اپنے آپ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مسائل کے حل کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور کوئی بھی آپشن خالی نہیں چھوڑتے، حقیقت پسند سوچ کے حامل آسانی سے برداشت بھی کر لیتے ہیں۔ وہ روز مرہ کے تناؤ یا مشکلات کو خاطر میں نہیں لاتے جیسا عمومی دوسرے کرتے ہیں۔ وہ چیلنج کیے جانے کو پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ عملیت پسند لوگوں کی طرح ایک قدم پیچھے ہٹنے اور مختلف زاویوں سے کسی مسئلے کو دیکھنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہیں کسی بھی ممکنہ حل کی تلاش سے پہلے موجود معلومات پر کچھ اور وقت لگانا چاہیے تاکہ مزید بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔


