القادر ٹرسٹ کیس کا مختصر پس منظر
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کو نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد کے واقعات اور پل پل کی بدلتی صورتحال کی وجہ سے لوگ بھول گئے ہیں کہ اصل میں خان صاحب پر الزام کیا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس جس میں 9 مئی کو نیب نے خان صاحب کو گرفتار کر لیا تھا پس منظر میں چلا گیا ہے۔ وہی القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر تقریباً 60 ارب روپے کرپشن کا الزام ہے۔
اس کیس کو سمجھنے کے لیے اس کا مختصر بیک گراؤنڈ جاننا ضروری ہے۔ مختصراً سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عمران خان اور القادر یونیورسٹی
2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ”اس یونیورسٹی بنیاد روحانیت کے سپہ سالار عبدالقادر جیلانی کے نام پر رکھی ہے۔“
القادر یونیورسٹی ایک پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ہے جس کے انتظامات چلانے کے لیے ایک ٹرسٹ ”القادر ٹرسٹ“ کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ حکومتوں کی تبدیلی کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔ یہ ٹرسٹ اس وقت قائم کیا گیا جب عمران خان نے کابینہ سے ایک بند لفافے کے اندر سمری کی منظوری لی تھی۔ اس بند لفافے میں کیا تھا وہ آگے جاکر بتاتا ہوں، لیکن یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے لیے القادر ٹرسٹ کو 458 کنال کی زمین بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کی۔
لہذا موجودہ حکومت نے پچھلے سال جون میں یہ الزام لگایا تھا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے ساتھ ساز باز کر کے ان کی 60 ارب روپے کی رقم کو قانون شکل دی اور اس کے بدلے 450 کنال کی زمین حاصل کرلی۔
60 ارب روپے کی کیا کہانی ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں
ملک ریاض اور سپریم کورٹ اف پاکستان
2019 مارچ میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک کیس لگا تھا جس میں ان کے اوپر الزام تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے ہزاروں کنال کی زمین غیر قانونی طور پر منتقل کی ہے۔
اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی پیشکش کی۔ سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی اور نیب کو ملک ریاض کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روکا۔ اور کچھ شرائط کے ساتھ اس رقم کی ادائیگی کے لیے 7 سال کا وقت دے دیا۔
ملک ریاض اور نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ
نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کا سب سے بڑا تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس ادارے کا بنیادی کام آرگنائزڈ کرائم کی روک تھام، منی لانڈرنگ اور دولت سے جڑے جرائم کی چھان بین اور کچھ دوسرے جرائم کو کنٹرول کرنا ہے۔
نیشنل کرائم ایجنسی کا ایک خصوصی ڈیپارٹمنٹ ’انٹرنیشنل کرپشن یونٹ‘ ہے۔ یہ صرف ان جرائم سے متعلق تحقیقات کرتا ہے جن میں دنیا کے مختلف ملکوں خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں سے غیر قانونی طور پر بنایا گیا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے مختلف کمپنیوں کو سامنے رکھ کر برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے اور مہنگی ترین جائیدادیں خریدنے اور کاروبار میں لگایا جاتا ہے۔
دسمبر 2019 میں نیشنل کرائم ایجنسی کے انٹرنیشنل کرپشن یونٹ نے ملک ریاض کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی۔ تحقیقات کے نتیجے میں این سی اے نے بتایا کہ برطانیہ میں مختلف بینک اکاؤنٹس میں موجود ملک ریاض کی 19 کروڑ پاونڈ کی رقم منجمد کر دی گئی ہے۔ مقدمہ لڑنے کے بجائے ملک ریاض نے این سی اے کے ساتھ سیٹلمنٹ کی اور کہا کہ یہ رقم پاکستان بھجوائی جائے۔ پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ لندن میں ملک ریاض سے ایک سیٹلمنٹ کے نتیجے میں ملنے والی کروڑوں پاؤنڈ کی رقم ریاست پاکستان کو منتقل کر دی گئی ہے۔ لیکن یہ رقم کس اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی یہ جاننا اہم ہے۔
عمران خان کی کابینہ کی خفیہ منظوری
3 دسمبر 2019 کو عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کے اراکین سے ایک بند لفافے کے اندر سمری پڑھے بغیر منظور کرائی۔ اس سمری کے تحت برطانیہ سے پاکستان کو موصول ہونے والے 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم کو سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی جس میں ملک ریاض نے 460 ارب روپے جمع کرنے تھے۔ اور حکومت نے اس کی تفصیلات بھی نہیں بتائیں کہ ریاست پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا۔
یوں عمران خان نے حکومت پاکستان کی 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کی طرف سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی۔ وہ بھی کابینہ کے کے علم میں لائے بغیر۔
القادر ٹرسٹ کیس انہی 190 ملین پاؤنڈ جو کہ تقریباً 60 ارب روپے بنتے ہیں کا کیس ہے۔


