عرب ممالک کا سربراہ اجلاس اور امن کی کوشش


19، مئی 2023 کو عرب لیگ کا ایک سالانہ سربراہی اجلاس جدہ سعودی عرب میں منعقد ہوا۔ اس 32 ویں سالانہ اجلاس کی ایک خاص اہمیت تھی کہ اس میں شامی صدر بشار الاسد کو بھی مدعو کیا گیا اور اس اجلاس میں ان کی شرکت بارہ سالہ پابندی کے بعد ممکن ہوئی۔ دوسرے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اچانک شمولیت نے بھی دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

اس موقع پہ فلسطین کے صدر محمود عباس اور تیونس کے صدر قیس سعید بھی خصوصی توجہ کے حقدار ٹھہرے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہمارا خطہ کسی جنگ کا مرکز و محور نہ بننے پائے کیونکہ ہم خونریزی نہیں امن کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دنیا امن کا گہوارہ بننے کے قریب ہے۔ انہوں نے اس بات پہ تاسف کا اظہار کیا کہ ان کے خطے کو غیر ضروری تنازعات میں ماضی میں گھسیٹا گیا جس سے امن و سکون برباد ہوا اور ترقی کا پہیہ جامد ہوا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام کی شمولیت سے شام میں امن کوششوں کو کامیابی ملنے کی توقع ہے۔

فلسطین کے مسئلے کو عربوں کے لیے بنیادی مسئلہ قرار دیا اور اس خواہش اور تمنا کا اظہار کیا کہ کسی نا کسی صورت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی پائدار امن کی صورت ممکن ہو جائے گی اور سوڈان کے حوالے سے بھی انہوں نے سعودی حکومت کی کی جانے والی سرگرمیوں سے شریکین مجلس کو مطلع کیا۔

یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتلایا کہ ان کے ہاں ایک مکمل جنگ درپیش ہے اور وہ کوئی باہمی تنازعہ نہیں ہے اس لئے سب عرب ممالک پہ لازم ہے کہ وہ روس کے ساتھ دیرینہ اشتراک کو مدنظر رکھ کر امن کی کوئی سبیل نکالیں۔ انہوں سعودی امداد اور تائید کا بے انتہاء شکریہ ادا کیا کہ پچھلے سال انہوں نے یوکرائنی فوجی قیدیوں کو رہا کروانے کے لیے ادا کیا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے لئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے عرب لیگ میں ایک دوستانہ تار روانہ کیا اور اس میں یہ خواہش کی کہ فلسطین کا مسئلہ ٔ جلد ہو جائے اور وہ اس سلسلے میں اپنی خدمات ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ نیز انہوں نے عرب ممالک کے ساتھ اپنے روایتی اور دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ سوڈان، لیبیا اور یمن میں امن بحالی کے کاموں میں شرکت کے متمنی ہیں۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ تمام عرب ممالک کو عملاً مل کر کام کرنے اور سانجھے طور پہ ان رکاوٹوں سے نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے جو عرب خطے کی اجتماعی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہو۔ لیکن اس بات کا تیقن تب ہی ممکن ہو گا جب مسئلہ ٔ فلسطین حل ہو گا۔ انہوں شام کے حوالے سے کہا کہ ہم عرب لیگ میں شمولیت پر شامی صدر کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر اس کی ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

مصری صدر عبدل الفتح السیسی نے توقع ظاہر کی کہ ہم امن کے لئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں گے۔

تیونس کے صدر قیس السعید نے فلسطین کے مسئلے پر ساتھ جدوجہد نہ کرنے والے عالمی ممالک کی شدید مذمت کی۔ ایک دہائی سے زائد طویل غیر حاضری کے بعد دوبارہ شمولیت پہ شامی صدر نے سعودی عرب کا خاص طور شرکت کے لئے بلائے جانے کا اہتمام کرنے پہ سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے امید ظاہر ہی کہ وہ کسی بیرونی مداخلت کے بغیر ہی اپنے مسائل سے نکلنے کی جستجو کر رہے ہیں۔ اس یک روزہ اجلاس میں تقاریر، وعدے وعید تو خوب کیے گئے مگر دیکھنا ہو گا کہ ان وعدوں پہ عملدرآمد کیسے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ابراہم اکارڈ کے بعد سے عرب ممالک نے اسرائیل کو جوک در جوک تسلیم تو کر کے سفارتی تعلقات قائم کرلئے مگر اس کے ظلم بربریت میں تادیر کوئی کمی نہیں آئی اور ادھر فلسطینی نوجوان شعلۂ جوالہ کی مانند اپنی لہو کے چراغ سے چراغاں کیے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کا عرب خطے میں اور برصغیر میں کشمیر کے مسائل جب تک پائیدار حل نہ ہونگے تب تک دنیا میں دیرپا امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS