کچے کا آپریشن: عوام کے لیے وبال


جب بھی کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کی منظوری کا نام سنتے ہیں، تو ہم اور ہمارے علاقے کے لوگوں میں امید جاگتی ہے، خوشی کی اک لہر اٹھتی ہے کہ شاید اب ہمارے علاقے میں امن بحال ہو شاید اب کھوکھلے دعوؤں کے علاوہ حقیقت میں کچھ ہو کہ شاید اب ان ظالم بھتے خور ڈاکوؤں سے جان چھوٹ جائے پر کروڑوں روپے کے بجٹ قومی وسائل ہزاروں فوجی پولیس اہلکار بکتر بند گاڑیاں جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر مارچ کر کے جھنڈ اور قافلے کی صورت باوردی اہلکار آ جاتے ہیں۔ لیکن آنے سے پہلے ڈاکوؤں کو اطلاع کر دیتی ہے اور وہ اپنے پرانے گھروں کو چھوڑ کر کہیں رفو چکر ہوچکے ہوتے ہیں، پولیس آ کر ان کے گھروں کو آگ لگا کر فوٹو سیشن کر کے کچہ آپریشن کامیاب کا ٹائٹل لے کر چلی جاتی ہے۔

لیکن پھر اس کے برے نتائج دونوں طرف سے علاقے کی عوام کو بھگتنی پڑتی ہیں، پولیس آ کر اپنی طرف سے عوام کو ذلیل کرتی ہے کرفیو نافذ کرتی ہے آمد و رفت کے راستے بند کرتی ہے تجارت بند ہوجاتی ہے اور جب پولیس اپنے نام نہاد آپریشن کے بعد چلی جاتی ہے تو پھر ڈاکو واپس آتے ہیں اور اپنا سکہ اور رعب واپس جمانے کے لیے ہر قسم کے غصے اور انتقام کا رویہ استعمال کرتے ہیں ڈر خوف غم غصہ انتشار پھیلاتے ہیں۔ آپریشن سے ہمیشہ ڈاکو بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے، چھوٹو صرف ایک گرفتار ہوا تھا لیکن اب چھوٹو ہزار ہو چکے ہیں، کچے میں کبھی بھی بڑی اسکیل کی آپریشن نہیں ہوگی نہ ہی ان کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا کیونکہ انہی کی وجہ سے سردار وڈیروں کا اپنا شاہانہ آمرانہ نظام مضبوطی سے قائم ہے، انہی کی وجہ سے وہ بنگلوں میں بیٹھ کر اپنے صوفے رنگین کر رہے ہیں

اگر ہماری عوام اور ہمارے علاقے سے حکومت کو اتنی ہی ہمدردی ہے تو حکومت سب سے پہلے ان سرداروں اور وڈیروں کو پہلے سلاخوں کے پیچھے کرے، کیونکہ انہوں نے ہی ان کاونٹر کلچر کے لوگوں کو ہتھیاروں اور بنیادی ضروریات سے لیس کرنے اپنے شاہانہ جاگیردارانہ نظام کو قائم رکھنے کے لیے رکھا ہوا ہے ظاہر ہے سرداروں اور وڈیروں کو اگر ہاتھ نہیں ڈال رہے تو یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس میں پھر پولیس کی مفادات بھی جڑی ہیں، ان کے بھتے خوری ڈاکا ڈالنے چوری وغیرہ سب میں سب کا برابری کا حصہ ہوتا ہے سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں،

ابھی کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر کچھ ڈاکوؤں کی ویڈیوز گردش کر رہی تھیں، اس میں وہ جدید لانچر جیسی ہتھیاروں سے لیس تھے آخر وہ کہاں سے آئیں؟ ظاہر ہے حکومت نے دی ہیں۔ ان سردار اور وڈیروں نے نے دی ہیں

کچہ آپریشن سے کروڑوں اربوں روپے کے قومی بجٹ کا نقصان ہوتا ہے اور فائدے میں کبھی کچھ نہیں آتا سوائے اپنی پولیس کی وردی پر دو پھول کے اعزاز لینے فوٹو سیشن کرنے، پولیس افسروں کے دیہی علاقوں میں پکنک ٹور اور انجوائے منٹ کو پورا کرنے اور علاقے کی عوام کو ذلیل کرنے کے۔

عوام پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اس بجٹ کو ہمیشہ ایسی بے فضول وقت کے ضیاع اور علاقے کے لئے وبال بننے والی آپریشن کے بجائے علاقے کی ترقیاتی کاموں پر لگایا جائے، علاقے کو اسکول دیے جائیں، ہمارے کتنے ہی جدید اور ہوشیار ذہن کے بچے سرکاری اسکول نہ ہونے کی وجہ سے چرواہا بننے پر مجبور ہیں، بیماریوں کی وباؤں سے علاقہ میں ہمیشہ حل چل مچا رہتا ہے علاقے کو اسکول دو ، اسپتال دو ، ترقیاتی کام دو روڈ دو بجلی دو زندگی کی بنیادی سہولیات اور ضروریات دو سکون دو امن دو ، یہ کیا دے رہے ہو؟

اگر یہی بجٹ جو ہر بار یہاں آپریشن کی مد میں ضائع کی جاتی ہے اگر ترقیاتی کاموں میں لگائی جائے تو ہمارا علاقہ پسماندگی سے نکل سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS