اور ہم کر بھی کیا سکتے ہیں


آج بہت عرصے کے بعد کچھ لکھنے کا موقع ملا تو سوچا کہ کیا لکھا جائے۔ ملکی حالات تو اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب کہنے سننے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ کیا کہیں کس سے کہیں کوئی کسی کی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے اس لیے ملکی حالات پر کچھ کہنا ہی فضول ہے۔ ذاتی طور پر بھی میں ان دنوں پریشان ہوں اس لئے سوچا کہ اپنے دل کی ہی بھڑاس نکال لی جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں اب اپنی گھریلو ملازمہ سے تنگ آ چکی ہوں۔ یوں سمجھیں کہ اب میں پوری طرح پک چکی ہوں دوسرے الفاظ میں اب میری بس ہو چکی ہے۔

برداشت کی تمام حدیں ختم ہو چکی ہیں۔ جس وقت میں نے اسے گھریلو امور میں ہاتھ بٹانے کے لیے ملازم رکھا تو سوچا تھا کہ گھر کی طرف سے تھوڑی فرصت ملے گی تو آمدنی میں اضافے کے لیے کچھ تگ و دو کر سکوں گی کہ موجود حالات میں روز بروز بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بالکل تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے مگر حضرات یہ اقدام مجھے بہت مہنگا پڑا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ گھریلو امور سے وقت بچا کر جو تھوڑا بہت آمدنی میں اضافہ ہوا تھا وہ سب بھی ہر مہینے کسی نا کسی بہانے سے ملازمہ ہی مجھ سے نکلوا لیتی ہے۔

احوال یہ ہے مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس پر کچھ ایسی افتاد پڑتی ہے کہ تنخواہ پہلے ہی۔ وصول کر لیتی ہے۔ مہینے میں ایک دو بار لازماً ایسا ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی بیمار پڑ گیا تو اس کے علاج معالجے اور دوا کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے اب یہ بھی میرا ہی ذمہ ہے کہ علاج کے اخراجات بھی میں ہی ادا کروں کیونکہ وہ میری ملازمہ ہے اس لیے دس افراد کا کنبہ علاج کے لیے میرے پینل پر ہے۔ اس کے علاوہ ہفتے میں دو تین دن وہ اس کیفیت کے ساتھ گھر میں داخل ہوتی ہے کہ باجی اس وقت سر میں درد ہے۔ ٹانگ میں درد ہے۔ کمر میں درد ہے کبھی بخار چڑھ رہا ہوتا ہے اور کسی دن کوئی بیماری سمجھ نا آئے تو یہ ہوتا ہے کہ باجی پتا نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے مگر کچھ ہو رہا مجھے پہلے گولی دیں پھر کام ہو گا۔ سوچتی ہوں کہ گولیاں تو تم مجھے دے رہی ہو میں کیا گولی دوں۔ ؟ مگر پھر مجھے اسے گولی دینی ہی پڑتی ہے۔ گرمیاں شروع ہونے لگیں تو پنکھے اور واٹر کولر کا مطالبہ ہو جاتا ہے جب کہو کہ پچھلی گرمی میں ہی تو نیا پنکھا اور کولر لے کر دیا تھا تو جواب ملتا ہے کہ باجی کولر تو ٹوٹ گیا پنکھا جل گیا۔

سردی میں روز یہ کہانی ہے کہ باجی سردی بہت پڑ رہی ہے بستر کمبل نہیں ہیں فرش ٹھنڈا ہوتا ہے بچے بیمار پڑ رہے ہیں کمبل لا دیں۔ برسات ہو تو چھت ٹپک رہی ہے۔ سامان بھیگ رہا ہے چھت مرمت کرانی ہے کچھ مدد کریں۔ غرض سارا سال بدلتے موسم کے ساتھ مطالبات بھی بدلتے رہتے ہیں اور میں مجبوراً نا چاہتے ہوئے بھی پورے کرتی رہتی ہوں۔ اگر گلی میں کوئی ٹھیلے والا آ جائے اور میں غلطی سے اس سے کچھ خریداری کرلوں تو بچے ہوئے کھلے پیسے بھی یہ کہہ کہ نکلوا لیتی ہے کہ آج کرائے کے پیسے نہیں ہیں یا فون میں بیلنس نہیں ہے۔

یعنی آمد و رفت اور مواصلات کی ذمہ داری بھی میری ہے۔ اس کے علاوہ پورے مہینے گھر سے پلاسٹک کی بوتلیں ردی ٹن کے ڈبے اور بھوسی ٹکڑے جمع کر کے اسٹور میں رکھتی رہتی ہے اور آخر میں ردی والے کو بیچ کر سو دو سو اس کے بھی کھرے کر لیتی ہے۔ یہ سب وصولیاں مہینے کی تنخواہ کے علاوہ ہیں۔ اس کے بعد بھی ہر تیسرے مہینے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ ہوتا ہے یہ کہہ کر کہ مہنگائی بہت ہے گزارا نہیں ہوتا۔ دل میں خیال آتا ہے کہ پوچھوں بی بی کھانا تم روز ہر گھر سے لے کے جاتی ہو۔ کپڑے جوتے پورے خاندان کے لیے ہر گھر سے بٹور لیتی ہو۔ بیماری ہو تو علاج معالجہ بھی ہمارے ذمے ہے۔ گھر کی ہر ضرورت ہم سے پوری کراتی ہو۔ بجلی کنڈے پے چلاتی ہو۔ بچوں کی پڑھائی کے اخراجات تمہیں نہیں کرنے ہیں۔ تو آخر تم لوگ تنخواہ کا کرتے کیا ہو؟ مگر پھر اس خیال سے کچھ نہیں پوچھتی کہ

ع میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

مہنگائی کے اس دور میں گزارا کیسے ہوتا ہے یہ تو کوئی ان سے پوچھے جن کی محنت کی ساری کمائی یوٹیلٹی بلز اور بچوں کی پڑھائی کے اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ جو کسی ناگہانی کی صورت میں وہ انمول تحفے سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو انتہائی قیمتی لمحوں کی یادگار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی سفید پوشی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کے آگے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے دست سوال دراز کریں۔

آئے دن کے مطالبات سے جب میں بہت تنگ ہو جاتی ہوں تو اپنی ملازمہ کو تنخواہ دے کر کہتی ہوں کہ تم کل سے کام پے مت آنا۔ میں خود ہی صفائی کرلوں گی۔ آگے سے جواب دیتی ہے۔ باجی آپ کی مرضی۔ مجھے تو دوسرے گھر میں کام مل جائے گا۔ پریشانی تو آپ کو ہو گی۔ آپ پے ویسے ہی اندر باہر کے سارے کاموں کی ذمہ داری ہے۔ پھر لکھنے پڑھنے کا کام الگ ہے صبح گھر کی صفائی ہو جاتی ہے تو آپ کو اور کاموں کے لیے کچھ وقت مل جاتا ہے۔ اچھا ہو گا کہ یہ کام مجھے ہی کرنے دیں۔ باقی آپ کی مرضی۔ یہ سن کر مجھے بھی احساس ہونے لگتا ہے کہ واقعی جو کام یہ کر سکتی ہے میں نہیں کر سکتی۔ یوں ملازمہ کو ملازمت سے فارغ کرنے کی تحریک وہیں دم توڑ جاتی ہے۔

آپ کو اپنی پریشانی تو میں نے سنا دی۔ لیکن اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہ سب آپ کے لیے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تو آپ کے اپنے گھر کا بھی ہے۔ اصل میں ہم سب اپنے گھریلو ملازمین سے تنگ ہیں۔ بلکہ ان کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ خرچے کے پیسے ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے ہم ان کی تنخواہیں نکالتے ہیں۔ ان کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ نا صرف ان کا بلکہ ان کے پورے کنبے کا خیال رکھتے ہیں اور اگر ہم تنگ ہو کر کسی وقت کچھ کہہ دیں تو یہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں۔ ہم مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں اسی طرح برداشت کریں کیونکہ جو کام یہ کرتے ہیں وہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہم صرف ان پے چیخ پیٹ کر اپنا بلڈ پریشر ہائی کر سکتے ہیں۔ اور ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS